بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ایسے دو لوگوں کی سی ہے جن کے بدن پر چھاتيوں سے ہنسلی تک لوہے کی دو زرہیں ہوں۔
نبی ﷺ نے کنجوس اور خرچ کرنے والے کی مثال دی۔ آپ ﷺ نے انہیں دو ایسے لوگوں سے تشبیہہ دی جن میں سے ہر ایک کے جسم پر ایک زرہ ہو جس نے اسے چھپا رکھا ہو اور سینے سے لے کر ہنسلی تک اسے محفوظ رکھتی ہو۔ 'ترقوہ' سینے کے بالائی حصے میں موجود ایک ہڈی کا نام ہے (ہنسلی کی ہڈی)۔ خرچ کرنے والا جب بھی خرچ کرتا ہے تو یہ زرہ پھیلتی جاتی ہے اور لمبی ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اس کے پیچھے پیچھے گھسٹتی ہے اور اس کے پاؤں، اس کے چلنے اور اس کے قدموں کے نشانات کو چھپا لیتی ہے جب کہ کنجوس شخص کی مثال اس آدمی کی سی ہے جس کی زرہ اس پر تنگ ہوگئی ہے یہاں تک کہ اس کے ہاتھ اس کی گردن سے بندھ جائیں اور جب بھی وہ کشادہ ہونے کا ارادہ کرے تو زرہ اس کی ہنسلی کے ساتھ لپٹ جائے۔
الجامع المسند الصحيح (صحيح البخاري), تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري, تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر, دار طوق النجاة ترقيم محمد فؤاد عبدالباقي, ط 1422. المسند الصحيح (صحيح مسلم), تأليف: مسلم بن حجاج النيسابوري, تحقيق: محمد فؤاد عبدالباقي, دار إحياء التراث العربي. رياض الصالحين, تأليف: أبي زكريا يحيى بن شرف النووي الدمشقي, تحقيق: عصام موسى هادي, الناشر: وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية بقطر, ط4 1428. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين, تأليف: سليم بن عيد الهلالي, دار ابن الجوزي. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح, تأليف: علي بن سلطان محمد الملا الهروي القاري, الناشر: دار الفكر, ط1 عام 1422ه. تعليق البغا على صحيح البخاري، دار ابن كثير ، اليمامة – بيروت، تحقيق : د. مصطفى ديب البغا، الطبعة الثالثة ، 1407 – 1987