عن أنس رضي الله عنه قال: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَقَالَ: «نُهِينَا عَنِ التَّكَلُّفِ».
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ: ہم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ اسی دوران انھوں نے فرمایا : "ہمیں تکلف سے منع کیا گیا ہے۔"
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح
عمر رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو بلا ضرورت ایسا کام کرنے یا ایسی بات کہنے سے منع کیا ہے، جس میں مشقت ہو۔
فوائد
- منع کردہ تکلف کے اندر بکثرت سوال کرنا، ایسا کام کرنا جس کی جان کاری نہ ہو اور ایسی چیز میں سختی کرنا بھی داخل ہے، جس میں اللہ نے وسعت رکھی ہے۔`
- ایک مسلمان کو چاہیے کہ خود کو کشادہ دلی اور قول اور عمل میں تکلف سے بچنے کا عادی بنائے۔ کھانے پینے، بات چیت اور دیگر تمام چیزوں میں تکلفات سے اوپر اٹھ کر کام کرے۔
- اسلام ایک آسان مذہب ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (9/ 95) (7293). نزهة المتقين، لمصطفى الخن وغيره (2/ 1136). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 391). فتح الباري شرح صحيح البخاري، لابن حجر (13/ 270). النهاية في غريب الحديث والأثر، لابن الأثير (4/ 196). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص930).