سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

ہم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ اسی دوران انھوں نے فرمایا : "ہمیں تکلف سے منع کیا گیا ہے۔

عن أنس رضي الله عنه قال: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَقَالَ: «نُهِينَا عَنِ التَّكَلُّفِ».
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ: ہم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ اسی دوران انھوں نے فرمایا : "ہمیں تکلف سے منع کیا گیا ہے۔"
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح

عمر رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو بلا ضرورت ایسا کام کرنے یا ایسی بات کہنے سے منع کیا ہے، جس میں مشقت ہو۔

فوائد
  1. منع کردہ تکلف کے اندر بکثرت سوال کرنا، ایسا کام کرنا جس کی جان کاری نہ ہو اور ایسی چیز میں سختی کرنا بھی داخل ہے، جس میں اللہ نے وسعت رکھی ہے۔`
  2. ایک مسلمان کو چاہیے کہ خود کو کشادہ دلی اور قول اور عمل میں تکلف سے بچنے کا عادی بنائے۔ کھانے پینے، بات چیت اور دیگر تمام چیزوں میں تکلفات سے اوپر اٹھ کر کام کرے۔
  3. اسلام ایک آسان مذہب ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (9/ 95) (7293). نزهة المتقين، لمصطفى الخن وغيره (2/ 1136). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 391). فتح الباري شرح صحيح البخاري، لابن حجر (13/ 270). النهاية في غريب الحديث والأثر، لابن الأثير (4/ 196). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص930).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اخلاق ذمیمہ/ برے اخلاق

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com

ہم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ اسی دوران انھوں نے فرمایا : "ہمیں تکلف سے منع کیا گیا ہے۔ · تشریح کے ساتھ احادیث · سبیل