اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی سخت جھگڑا لو قسم کے شخص سے نفرت کرتا ہے، جو حق بات کو تسلیم کرنے کے لیے آمادہ نہ ہوتا ہو اور اسے اپنی بحث سے نکارنے کی کوشش کرتا ہو یا پھر جھگڑتا تو حق بات کے لیے ہو، لیکن جھگڑتے وقت حدّ اعتدال کو پارکر جاتا ہو اور بلا علم بحث کرتا ہو۔
- مظلوم شخص کا شرعی طریقے سے عدالت میں جاکر اپنا حق مانگنا مذموم جھگڑے کے دائرے میں نہیں آتا۔
- بحث ومباحثہ اور جھگڑا زبان کی آفتوں میں سے ایک آفت ہے، جو مسلمانوں کے بیچ افتراق و انتشار کا سبب بنتا ہے۔
- بحث اگر حق کے لیے کی جائے اور اس کا طریقہ اچھا ہو، تو قابل تعریف ہے۔ لیکن اگر حق بات کو دبانے اور باطل کو ثابت کرنے کے لیے کی جائے، یا پھر بنا کسی دلیل کے کی جائے، تو قابل مذمت ہے۔
صحيح البخاري (3/ 131) (2457). صحيح مسلم (4/ 2054) (2668). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، للبسام (7/ 476). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 308). فتح ذي الجلال والإكرام، لابن عثيمين (6/ 416). سبل السلام بشرح بلوغ المرام، للصنعاني (2/ 685).