سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جنت میں چغل خور داخل نہيں ہوگا۔

عن حذيفة رضي الله عنه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ».
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: "جنت میں چغل خور داخل نہيں ہوگا۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ ایسا چغل خور شخص، جو لوگوں کے تعلقات خراب کرنے کے ارادے سے ایک کی بات دوسرے کو پہنچاتا پھرتا ہو، وہ اس سزا کا مستحق ہے کہ جنت میں داخل نہ ہو۔

فوائد
  1. چغل خوری کبیرہ گناہ ہے۔
  2. چغل خوری کی ممانعت، کیوں کہ یہ افراد اور جماعتوں کے لیے بڑی نقصان دہ چیز ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (8/ 17) (6056). صحيح مسلم (1/ 101) (105). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 145). فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (6/ 401). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، للبسام (7/ 452). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 273).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اخلاق ذمیمہ/ برے اخلاق

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com