حدیث کا مفہوم: مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے جب کہ یہ قطع تعلقی محض اپنی ذات اور دنیوی امورکی خاطر ہو۔ تاہم اگر اس قطع تعلقی کا کوئی شرعی مقصد ہو تو پھر جائز ہے بلکہ کبھی تو ایسا کرنا واجب ہو جاتا ہے جیسے اہل بدعت اور فاجر و فاسق لوگوں سے قطع تعلقی کرنا جب کہ وہ توبہ نہ کریں۔ جو شخص ایسا کرتا ہے اور پھر اسی حالت میں اسے موت آ جاتی ہے اور وہ اپنی معصیت پر ڈٹا رہتا ہے اور موت سے پہلے اس سے تائب نہیں ہوتا تو وہ جہنم میں جاتا ہے۔یہ بات معلوم ہے کہ مسلمانوں میں سے جو شخص کسی گناہ کے مرتکب ہونے کی وجہ سے جہنم کا مستحق ہوتا ہے اور اللہ اس سے درگزر نہیں کرتا تو وہ اس میں جائے گا تو سہی لیکن اس سے ضرور باہر آئے گا۔ اورجہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے صرف کافر لوگ ہی رہیں گے جو اس کے اہل ہیں، اور جن کے لیے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔
بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي ، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م. مسند الإمام أحمد، تأليف: أحمد بن محمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرناؤوط وغيره، الناشر: الناشر: مؤسسة الرسالة ، الطبعة: الأولى، 1421 هـ. سنن أبي داود، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، نشر: المكتبة العصرية، صيدا – بيروت. رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ. صحيح الترغيب والترهيب، تأليف: محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: مكتبة المعارف، الطبعة: الخامسة. المنهاج شرح صحيح مسلم، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، الناشر: دار إحياء التراث العربي، الطبعة: الثانية 1392 هـ. شرح سنن أبي داود، تأليف: عبد المحسن بن حمد بن عبد المحسن العباد، نسخة الإلكترونية.