عن سلمان الفارسي رضي الله عنه مرفوعاً: «رباط يوم وليلة خير من صيام شهر وقيامه، وإن مات جرى عليه عمله الذي كان يعمل، وأُجْرِيَ عليه رزقه، وأَمِنَ الفَتَّانَ».
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جہاد میں ) ایک دن اور رات کی پہرے داری پورا ماہ روزہ رکھنے اوراس میں قیام کرنے سے بہتر ہے اور اگر اس دوران اس شخص کی موت واقع ہوجائے تو اس کے اُس عمل کا ثواب بھی اس کے لیے لکھا جاتا رہے گا جو وہ کیا کرتا تھا اور اس کو رزق بھی دیا جائے گا اور وہ قبر کے فتنے (فرشتوں کے سوالات) سے بھی محفوظ رہے گا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
مسلمانوں کی حفاظت کی غرض سے ایک دن رات کی پہرے داری کرنا ایک ماہ کے روزوں اور اس کی راتوں کو عبادت کی غرض سے قیام کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ جب مجاہد شہید ہو جاتا ہے تو اس کے عمل کا اجر لکھا جاتا رہتا ہے اور وہ منقطع نہیں ہوتا۔ اسی طرح اسے جنت سے رزق بھی دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہوتا ہے اور اسے یہ عزت و شرف ملتا ہے کہ اس کے پاس فرشتے سوال و جواب کے لیے نہیں آتے۔ کیونکہ اس کی موت اللہ کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے آتی ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ سرحدوں پر پہرہ دینا جہاد فی سبیل اللہ ہی ہے کیونکہ اس سے مراد مسلمانوں کی کفار سے حفاظت کی غرض سے سرحدوں پر جمے رہنا ہے۔
حوالہ
- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه.
- دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي-بيروت.
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى 1418ه.
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
- صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى،1417هـ.
- شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
عن فَضَالَةُ بنُ عُبَيْدٍ وسلمان الفارسي وعقبة بن عامر الجهني رضي الله عنهم مرفوعاً: «كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ على عَمَلِهِ إلا الُمرَابِطَ في سبيل الله، فإنه يَنْمِي لَهُ عَمَلَهُ يوم القيامة، ويُؤَمَّنُ فتنة القبر».
فضالہ بن عبید، سلمان فارسی اور عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر مرنے والے کا عمل اس کی موت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے، سوائے اس شخص کے جو اللہ کی راہ (یعنی جہاد) میں سرحد پر پہرہ دیتا ہے۔ یقیناً اس کا عمل تاروز قیامت بڑھایا جاتا رہتا ہے اور قبر کی آزمائش سے بھی اس کو محفوظ رکھا جاتا ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
ہر مرنے والے کا عمل موت کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے اور اس کے لئے مزید اجر نہیں لکھا جاتا ما سوا اس کے جو اللہ کے راستے میں سرحد پر مقیم ہوتا ہے اور مسلمانوں کی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے یہ اعزاز دیتا ہے کہ اس کے عمل کا اجر جاری رہتا ہے اور وہ فتنہ قبر سے محفوظ رہتا ہے، چنانچہ فرشتے اس سے سوال نہیں کرتے۔
حوالہ
- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه.
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه.
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
سنن أبي داود، سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت.
سنن الترمذي، محمد بن عيسى، الترمذي، تحقيق وتعليق:أحمد محمد شاكر ومحمد فؤاد عبد الباقي وإبراهيم عطوة عوض، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر الطبعة:الثانية، 1395هـ - 1975م.
مسند الإمام أحمد بن حنبل، المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي مؤسسة الرسالة الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م.
سنن أبي داود، سليمان بن الأشعث، المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد المكتبة العصرية، صيدا - بيروت.
مسند الدارمي المعروف بـ (سنن الدارمي) عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي، تحقيق: حسين سليم أسد الداراني - دار المغني للنشر والتوزيع، المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1412 هـ - 2000 م.
صحيح أبي داود -الأم- محمد ناصر الدين الألباني مؤسسة غراس للنشر والتوزيع، الكويت الطبعة: الأولى، 1423 هـ - 2002 م.
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «انْتَدَبَ الله (ولمسلم: تَضَمَّنَ الله) لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ، لا يُخْرِجُهُ إلاَّ جِهَادٌ فِي سَبِيلِي، وإيمان بي، وتصديق برسلي فهو عَلَيَّ ضامن: أَنْ أُدْخِلَهُ الجنة، أو أرجعه إلى مسكنه الذي خرج منه، نائلًا ما نال من أجر أو غنيمة».
ولمسلم: «مثل المجاهد في سبيل الله -والله أعلم بمن جاهد في سبيله- كَمَثَلِ الصَّائِمِ القائم، وَتَوَكَّلَ الله لِلْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِهِ إنْ تَوَفَّاهُ: أن يدخله الجنة، أو يرجعه سالما مع أجر أو غنيمة».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سن لی ہے (اور مسلم کی روایت میں ہے کہ اللہ نے اس شخص کی حفاظت کی ذمے داری لے لی ہے)، جو اس کے راستے میں (جہاد کے لیے) نکلے۔ (اللہ فرماتا ہے:) اگر اس کا یہ نکلنا محض میری راہ میں جہاد کے لیے اور مجھ پر ایمان اور میرے انبیا کی تصدیق کے جذبے سے ہو، تو میں اسے اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ یا تو اسے جنت میں داخل کردوں گا، یا ثواب یا غنیمت کے ساتھ اس کے گھر میں واپس پہنچا دوں گا، جس سے وہ نکلا تھا“۔
مسلم کی روایت میں ہے: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال -اور اپنی راہ میں جہاد کرنے والے کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے- قیام کرنے والے روزے دار کی طرح ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والے کی حفاظت کی ذمے داری لے لی ہے؛ اس کی وفات ہوگئی، تو جنت میں داخل کرے گا۔ ورنہ صحیح سالم ثواب اور مالِ غنیمت کے ساتھ واپس لائے گا“۔
اس حدیث کی تمام روایات متفق علیہ ہیں۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے اللہ کی طرف سے اس ضمانت کا بیان ہوا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا محض اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے خالص جہاد کے لئے نکلتا ہے، تو اللہ اسے تین چیزوں میں سے کسی ایک یا دو چیزوں کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر وہ شہید کردیا گیا، تو اللہ اسے جنت میں داخل کرنے کا ضامن ہے اورباقی بچ گیا تو اسے ثواب یا غنیمت کے ساتھ گھر واپس پہنچائے گا۔ یعنی یا تو ثواب کے ساتھ بغیر غنیمت کے یا ثواب اور غنیمت دونوں کے ساتھ۔
رہی دوسری روایت، جسے صاحبِ 'عمدہ' نے مسلم کی طرف منسوب کیا ہے، حالاں کہ وہ متفق علیہ ہے، اس میں بیان کیا گيا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کی فضیلت یعنی ایسا عمل جو جہاد کے قائم مقام ہو، انسانی طاقت سے باہر کی چیز ہے؛ کیوں کہ وہ عمل لگاتار نماز، روزہ اور قیام اللیل میں لگے رہنا ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔
حوالہ
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہاد میں ایک دن کی پہرے داری دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کے کوڑے کے برابر جنت کی جگہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، اور بندے کا ایک شام یا ایک صبح اللہ کے راستے میں نکلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایک دن پہرے داری پر کھڑے رہنا یا ایک صبح اللہ کی راہ میں نکلنا اور جنت میں کسی کے کوڑے کے برابر جگہ ، یہ سب دنیا و مافیہا سے بہتر ہیں کیوں کہ جنت باقی رہنے والی جگہ ہے جب کہ دنیا فانی ہے اور تھوڑی باقی رہنے والی چیز بہت زیادہ فنا ہوجانے والی چیز سے بہتر ہوتی ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (4/ 35) (2892).
صحيح مسلم (3/ 1500) (1881).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص739).
عن أبُي أَيُوب الأنصَارِيّ رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ الله، أَوْ رَوْحَةٌ: خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ».
عن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ الله، أَوْ رَوْحَةٌ: خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا».
ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: ”اللہ کی راہ میں صبح یا شام نکلنا ان تمام چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج طلوع ہوتا ہے اور غروب ہوتا ہے“۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے صبح یا شام چلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
ان دونوں احادیث میں جہاد فی سبیل اللہ کی فضلیت کا بیان ہے؛ اگرچہ اس کی مدت بہت کم، یعنی ایک صبح یا ایک شام کے لیے ہی ہو۔ پھر اندازہ کیجیے کہ لمبا جہاد، جس میں دشمنوں کے سامنے ثابت قدم رہنا پڑتا ہے اور ان کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے، اس کی کیا فضیلت ہو گی؟ ”سبیل اللہ“ سے در اصل کفار سے ہاتھ کے ذریعہ جہاد ہی مراد ہے۔
یہاں یہ جان لینا چاہیے کہ شرعی علم کا حصول جہاد فی سبیل اللہ کی ایک بہت بڑی قسم ہے۔ حق کو غالب کرنا اور زندیق و ملحد لوگوں اور مغربی عیسائی مبلغین کے دلائل کا رد کرنا، جو اسلام کے خلاف برسرپیکار رہتے ہیں اور اسے مٹانے کی ناپاک کوششیں کرتے ہیں، در اصل یہ جہاد فی سبیل اللہ کی سب سے بڑی قسم ہے۔
جہاد سے مقصود اسلام کا غلبہ اور اس کی نصرت ہے۔ چنانچہ اس طرح کے لوگوں کا سدباب کرنا ایک عظیم جہاد ہے۔ اے اللہ! مسلمانوں کو توفیق عطا فرما کہ وہ اپنے دین کی نصرت کریں اور تیرے حکم کو سربلند کریں۔ بے شک تو بہت قریب اور دعا قبول کرنے والا ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار علماء السلف، الطبعة: الثانية 1414هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ.
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، إسماعيل بن محمد الأنصاري، دار الفكر، دمشق، الطبعة: الأولى 1381هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم- لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ.
عن أبي هريرة رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : «ما من مَكْلُومٍ يُكْلَمُ في سبيل الله، إلا جاء يومَ القيامة، وكَلْمُهُ يَدْمَى: اللَّونُ لَوْنُ الدَّمِ، والرِّيحُ رِيحُ المِسْكِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص بھی اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے زخمی ہوا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہو گا جس کا رنگ تو خون جیسا ہوگا لیکن خوشبو مشک کی سی ہوگی“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ جہاد فی سبیل اللہ کی فضلیت اور اس بہترین ثواب کو بیان فرما رہے ہیں جو جہاد کرنے والے کو ملے گا کہ جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہوا زخمی ہو جائے اور پھر یا تو اس کی موت واقع ہو جائے یا وہ صحت یاب ہو جائے ( توہر دو صورتوں میں) وہ روز قیامت تمام لوگوں کے سامنےجرأت و بہادری کے ساتھ جہاد کرنے کا تمغہ سجائے آئے گا۔ اس کا زخم بالکل تازہ ہو گا جس کا رنگ تو خون کا ہوگا لیکن اس سے خوشبو مشک کی پھوٹ رہی ہو گی۔
حوالہ
1- صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
2- صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
3- تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ.
4- الإلمام بشرح عمدة الأحكام، إسماعيل بن محمد الأنصاري، دار الفكر، دمشق، الطبعة: الأولى 1381هـ.
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : "جو شخص سچے دل سے اللہ سے شہادت مانگے گا، اللہ اسے شہیدوں کے مرتبوں تک پہنچا دے گا، اگرچہ اس کی وفات اپنے بستر پر ہی ہوئی ہو"۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہيں کہ جس شخص نے شہادت اور اللہ کی راہ میں ہونے والی موت طلب کی، اگر وہ اپنی اس نیت میں سچا اور اللہ عز و جل کی خوش نودی حاصل کرنے والا رہا، تو اسے اللہ اس کی سچی نیت کی بنا پر شہیدوں کا درجہ عطا کرے گا، اگرچہ اس کی موت بستر ہی پر کیوں نہ ہوئی ہو۔
فوائد
سچی نیت اور طاقت بھر کوشش ہو، تو اجر و ثواب مل ہی جاتا ہے۔ چاہے انسان مطلوبہ کام کو کرنے بھی نہ سکے۔
جہاد کرنے اور اللہ کی راہ میں شہادت طلب کرنے کی ترغیب۔
اس امت پر اللہ کی نوازش کہ وہ اسے تھوڑے سے عمل کے بدلے میں جنت کے اونچے درجات عطا کرتا ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (3/ 1517) (1909).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 123).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 87).
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال رجل للنبي صلى الله عليه وسلم يومَ أُحُدٍ: أَرَأَيْتَ إن قُتِلْتُ فَأَيْنَ أَنَا؟ قال: «في الجَنَّةِ» فأَلْقَى تَمراتٍ كُنَّ في يَدِه، ثم قاتل حتى قُتِلَ.
جابر بن عبد اللہ - رضی اللہ عنہما - سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اُحُد کے دن آپ ﷺ سے کہا: آپ کیا کہتے ہیں اگر میں مارا گیا تو میں کہاں رہوں گا (یعنی میرا ٹھکانہ کہاں ہوگا)؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا جنت میں۔ انھوں نے اپنے ہاتھ سے کھجوریں پھینک دیں اور لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہوگیے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص -جن کا نام عمیر بن الحمام تھا- نے غزوہ احد کے موقعے پر آپ ﷺ سے پوچھا، اے اللہ کے رسول! ذرا بتلائیے اگر میں لڑتے لڑتے شہید ہو جاؤں یعنی میں مشرکین کے ساتھ جہاد کروں اور اسی میں مارا جاؤں تو میرا ٹھکانہ کہاں ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا تم جنت میں رہو گے۔ انھوں نے کھجوریں پھینک دی اور کہا۔ اگر میں زندہ رہا تو زندگی لمبی ہوگی کھجوریں پھر کھا لوں گا، آگے بڑھے اور لڑتے رہے، یہاں تک کہ شہید ہوگیے۔
حوالہ
- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه.
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
- صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
- صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ
- تطريز رياض الصالحين؛ تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبد العزيز آل حمد، دار العاصمة-الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ.
- فتح الباري لابن حجر العسقلاني، دار المعرفة، 1379.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com