اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہيں کہ ماہ ذی الحجہ کے شروع کے دس دنوں میں نیکی کے کام کرنا سال کے دیگر دنوں میں نیکی کے کام کرنے سے افضل ہے۔ چنانچہ صحابۂ کرام نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ان دس دنوں کے علاوہ دیگر دنوں میں اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کے بارے میں پوچھا کہ کیا وہ بہتر ہے یا ان دس دنوں میں نیکی کرنا؟ کیوں کہ ان کو پتہ تھا کہ جہاد افضل ترین اعمال میں سے ایک عمل ہے۔ جس کا جواب دیتے ہوئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ ان دس دنوں میں نیکی کے کام کرنا دیگر دنوں میں جہاد کرنے سے بھی بہتر ہے۔ ہاں! اس شخص کی بات الگ ہے، جو اپنى جان و مال کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکل پڑا اور سب کچھ اللہ کے راستے میں نچھاور کر دیا۔ اس شخص کا یہ عمل ان دس فضیلت والے دنوں میں نیکی کے کام کرنے سے بہتر ہے۔
- ماہ ذوالحجہ کے شروع کے دس دنوں میں نیکی کے کام کرنے کی بڑی فضیلت ہے۔ لہذا مسلمان کو ان دس دنوں کو غنیمت جانتے ہوئے ان کے اندر خوب نیکی کے کام، جیسے اللہ کا ذکر، قرآن کی تلاوت، تکبیر، تہلیل، تحمید، نماز، صدقہ، روزہ اور دیگر تمام نیک کام کرنے چاہئیں۔
صحيح البخاري (2/ 20) (969). سنن أبي داود (4/ 102) (2438). فتح الباري بشرح صحيح البخاري، لابن حجر (2/ 459). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل المبارك (ص699). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 301). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخِن وغيره (1/ 884). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (15/ 234). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 382).