سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

عشرہ ذی الحجہ

1 احادیث

ایسے کوئی دن نہیں ہیں، جن میں نیکی کے کام کرنا اللہ کے نزدیک ان دنوں میں نیکی کے کام کرنے سے زیادہ محبوب ہو"۔ آپ کی مراد ذو الحجہ مہینہ کے ابتدائی دس دن ہیں

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما مِنْ أيَّامٍ العمَلُ الصَّالِحُ فيها أحبُّ إلى اللهِ مِن هذه الأيام» يعني أيامَ العشر، قالوا: يا رسُولَ الله، ولا الجهادُ في سبيلِ الله؟ قال: «ولا الجهادُ في سبيلِ الله، إلا رجلٌ خَرَجَ بنفسِه ومالِه فلم يَرْجِعْ من ذلك بشيءٍ».
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "ایسے کوئی دن نہیں ہیں، جن میں نیکی کے کام کرنا اللہ کے نزدیک ان دنوں میں نیکی کے کام کرنے سے زیادہ محبوب ہو"۔ آپ کی مراد ذو الحجہ مہینہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔ صحابہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہيں؟ آپ نے جواب دیا : "نہیں، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہیں۔ سوائے اس شخص کے جو جان اور مال کے ساتھ نکلتا ہو اور پھر ان میں سے کچھ بھی لے کر واپس نہ آتا ہو۔"
رواه البخاري وأبو داود، واللفظ لهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہيں کہ ماہ ذی الحجہ کے شروع کے دس دنوں میں نیکی کے کام کرنا سال کے دیگر دنوں میں نیکی کے کام کرنے سے افضل ہے۔ چنانچہ صحابۂ کرام نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ان دس دنوں کے علاوہ دیگر دنوں میں اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کے بارے میں پوچھا کہ کیا وہ بہتر ہے یا ان دس دنوں میں نیکی کرنا؟ کیوں کہ ان کو پتہ تھا کہ جہاد افضل ترین اعمال میں سے ایک عمل ہے۔ جس کا جواب دیتے ہوئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ ان دس دنوں میں نیکی کے کام کرنا دیگر دنوں میں جہاد کرنے سے بھی بہتر ہے۔ ہاں! اس شخص کی بات الگ ہے، جو اپنى جان و مال کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکل پڑا اور سب کچھ اللہ کے راستے میں نچھاور کر دیا۔ اس شخص کا یہ عمل ان دس فضیلت والے دنوں میں نیکی کے کام کرنے سے بہتر ہے۔

فوائد
  1. ماہ ذوالحجہ کے شروع کے دس دنوں میں نیکی کے کام کرنے کی بڑی فضیلت ہے۔ لہذا مسلمان کو ان دس دنوں کو غنیمت جانتے ہوئے ان کے اندر خوب نیکی کے کام، جیسے اللہ کا ذکر، قرآن کی تلاوت، تکبیر، تہلیل، تحمید، نماز، صدقہ، روزہ اور دیگر تمام نیک کام کرنے چاہئیں۔
حوالہ

صحيح البخاري (2/ 20) (969). سنن أبي داود (4/ 102) (2438). فتح الباري بشرح صحيح البخاري، لابن حجر (2/ 459). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل المبارك (ص699). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 301). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخِن وغيره (1/ 884). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (15/ 234). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 382).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com