سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جہاد

75 احادیث

ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات غزوات میں شامل ہوئے (جن کے دوران میں ) ہم ٹڈیاں کھاتے تھے۔

عن عَبْد اللهِ بن أبي أوفى رضي الله عنهما قال: «غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ الله صلى الله عليه وسلم سَبْعَ غَزَوَاتٍ، نَأْكُلُ الْجَرَادَ».
عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ”ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات غزوات میں شامل ہوئے (جن کے دوران میں ) ہم ٹڈیاں کھاتے تھے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اصحاب رسول (ﷺ) کو سات غزوات میں کھانے کی کمی کی صورت میں ٹڈیوں کا رزق فراہم کیا جیسے ان کو عنبر فراہم کی جو کہ سمندر سے نکلی تھی جس کو انھوں نے دوسرے غزوات میں بھی کھایا۔

حوالہ

- صحيح البخاري، دار طوق النجاة، ط 1422هـ. - صحيح مسلم، ط دار إحياء التراث العربي، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي. - خلاصة الكلام، فيصل آل مبارك ط. الثانية 1412هـ. - الإفهام لابن باز، ط مؤسسة الجريسي تحقيق سعيد القحطاني. - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، ط. دار الميمان، 1426هـ. - تأسيس الأحكام للنجمي، ط دار المنهاج، 1427هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب غزوہ احد کا وقت قریب آگیا تو مجھے میرے والد نے رات کو بلایا اور کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سب سے پہلا مقتول میں ہی ہوں گا۔

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما ، قال: لما حضرتْ أُحُدٌ دعاني أبي من الليل، فقال: ما أراني إلا مقتولا في أول من يُقتل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ، وإني لا أترك بعدي أعزَّ عليَّ منك غيرَ نَفْسِ رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وإن عليَّ دَيْنًا فاقْضِ، واسْتَوْصِ بأَخَوَاتِكَ خيرًا، فأصبحنا، فكان أولَ قَتيل، ودَفَنْتُ معه آخرَ في قبره، ثم لم تَطِبْ نفسي أن أتركه مع آخر؛ فاستخرجتُه بعد ستة أشهر، فإذا هو كيوم وضعتُه غيرَ أُذنِهِ، فجعلته في قبر على حِدَةٍ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے کہ جب غزوہ احد کا وقت قریب آگیا تو مجھے میرے والد نے رات کو بلایا اور کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سب سے پہلا مقتول میں ہی ہوں گا۔ اور میرے نزدیک رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے عزیز تم ہو ۔اگر مجھ پر کوئی قرض ہو تو اس کو ادا کرنا، اپنے بہنوں سے اچھا سلوک کرنا۔جب اگلی صبح ہوئی تو سب سے پہلے شہید وہی تھے۔ میں نے ان کو کسی اور کے ساتھ دفن کر دیا لیکن پھر مجھے اچھا نہ لگا کہ میں انہیں کسی اور کے ساتھ قبر میں چھوڑے رکھوں لہٰذا میں نے چھ مہینے بعد ان کو اس قبر سے نکالا تو وہ ایک کان کے علاوہ ویسے ہی تھے جیسے ان کو پہلے دن قبر میں رکھا گیا تھا اور پھر ان کو علیحدہ قبر میں دفن کر دیا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ایک رات عبداللہ بن حرام رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے جابر رضی اللہ عنہ کو اٹھایا اور ان سے کہا: مجھے لگتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے میں پہلا شخص ہوں گا، جسے قتل کیا جائے گا۔ یہ غزوۂ احد سے ذرا پہلے کی بات ہے۔ پھر ان کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: میں جن لوگوں کو چھوڑ کر جاؤں گا، ان میں رسول اللہﷺ کے بعد سب سے عزیز شخص تم ہو۔ ان کو وصیت کی کہ ان کی طرف سے قرض ادا کر دے اور بہنوں کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ پھر جنگ ہوئی، انھوں نے قتال کیا اور شہید ہو گئے۔ غزوۂ احد کے دن ستر مسلمان شہید ہوئے تھے اور ہر ایک کے لیے الگ الگ قبر کھودنا آسان نہ تھا، اس لیے مسلمان ایک ایک قبر میں دو دو اور تین تین افراد کو دفنانے لگے۔ عبداللہ بن حرام رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ایک آدمی کو دفن کیا گیا، لیکن جابر رضی اللہ عنہ کو دلی طور پر یہ اچھا نہ لگا اور اپنے والد اور ان کے ساتھ مدفون شخص کو الگ الگ کر دیا؛ انھوں نے تدفین کے چھ مہینے بعد قبر کھودی، تو ان کو ویسے ہی پایا، جیسے انھیں دفن کیا گیا تھا۔ ان کےجسم پر کان کے کچھ حصہ کے علاوہ کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی اور پھر انھیں الگ قبر میں دفنا دیا۔

حوالہ

كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، كنوز إشبيليا، الرياض، الطبعة: الأولى1430هـ - 2009م. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الرابعة عشر، 1407هـ - 1987م. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، محمد علي بن البكري بن علان، نشر دار الكتاب العربي. شرح رياض الصالحين، محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى، 1418 هـ - 1997م. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

عنقریب علاقے تمہارے لئے فتح کردیے جائیں گے اور (دشمنوں کے مقابلے میں) اللہ تمہارے لیے کافی ہو جائے گا چنانچہ تم میں سے کوئی بھی اپنے تیروں سے کھیلنے میں سستی نہ کرے۔

عن عقبة بن عامر رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «سَتُفْتَحُ عليكم أَرَضُونَ، ويكفيكم الله، فلا يَعْجِزْ أحدكم أن يَلْهُوَ بِأَسْهُمِه».
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: عنقریب علاقے تمہارے لئے فتح کردیئے جائیں گے اور (دشمنوں کے مقابلے میں) اللہ تمہارے لئے کافی ہو جائے گا چنانچہ تم میں سے کوئی بھی اپنے تیروں سے کھیلنے میں سستی نہ کرے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ اپنے صحابہ کو خبر دے رہے ہیں کہ عنقریب علاقے بغیر لڑے ان کے لئے فتح ہوجائیں گے۔ چنانچہ ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ تیر اندازی سیکھنے میں سستی نہ کریں۔ یہ وہ سب سے بہترین مشغلہ ہے جس میں مسلمانوں کو مصروف رہنا چاہیے جب تکہ کہ اس میں کسی حقِ واجب کا ضیاع نہ ہو کیوں کہ یہ ایک ایسی شے ہے جو جہاد فی سبیل اللہ مین معاون ہوتی ہے جو کہ نہایت افضل مقصد اور بلند مرتبہ غایت ہے۔ ”لہو“ کا لفظ استعمال کیا گیا کیوں کہ دلوں میں فطری طور پر لہو و لعب کی محبت ہوتی ہے چنانچہ پیرایۂ تعبیر میں اس لفظ کو استعمال کیا گیا ورنہ تیر اندازی سیکھنے کا سب سے بڑا مقصد تو جہاد فی سبیل اللہ کی تیاری کرنا ہے نہ کہ محض لہو و لعب۔

حوالہ

نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397هـ. بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي، سنة النشر: 1418هـ - 1997م. صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل، الطبعة الأولى، 1428هـ. شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة 1426هـ. التنوير شرح الجامع الصغير، تأليف: محمد بن إسماعيل الصنعاني، تحقيق: د. محمد إسحاق محمد إبراهيم، الناشر: مكتبة دار السلام، الطبعة الأولى، 1432هـ. شرح الطيبي على مشكاة المصابيح، تأليف: شرف الدين الحسين بن عبد الله الطيبي، تحقيق: د. عبد الحميد هنداوي، الناشر: مكتبة نزار مصطفى الباز، مكة المكرمة -الرياض- الطبعة الأولى، 1417هـ - 1997م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com