عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضيَ اللهُ عنهما قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا جَمَعَ اللهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرْفَعُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ، فَقِيلَ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ».
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ (روز قیامت) اگلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا تو ہر عہد شکن کے لیے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا، اور کہا جائے گا: یہ فلان بن فلاں کی عہد شکنی (کا نشان) ہے۔“
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
جب روز قیامت اللہ اگلے اور پچھلے سب لوگوں کو جمع کرے گا تو ہر عہد شکن کو لایا جائے گا جس کے ساتھ اس کی عہدشکنی کی نشانی کے طور پر ایک جھنڈا ہو گا، جس سے وہ لوگوں میں رسوا ہوگا۔
حوالہ
صحيح البخاري (4/ 104) (3188)
صحيح مسلم (3/ 1359) (1735).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص745).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (2/ 188).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُما: أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً، فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : ایک عورت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے کسی غزوے میں مقتول پائی گئی، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل کی نکیر فرمائی۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی جنگ میں ایک مقتول عورت کی لاش دیکھی، تو عورتوں اور چھوٹے بچوں کے قتل کی نکیر فرمائی۔
فوائد
- جنگ میں شریک نہ ہونے والے لوگ، جیسے عورتوں، بچوں اور ان کے حکم ميں شامل دوسرے لوگ، جیسے بوڑھوں اور دنیا سے کنارہ کش لوگوں کو قتل نہيں کیا جائے گا، جب تک کہ یہ لوگ مسلمانوں سے جنگ میں اپنی رائے یا کسی اور طریقے سے مدد نہ کرتے ہوں۔ اگر مدد کرتے ہوں، تو ان کو بھی قتل کیا جائے گا۔
- عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت، کیوں کہ یہ لوگ مسلمانوں سے جنگ نہيں کرتے۔ در اصل اللہ کی راہ میں جنگ کا مقصد برسرقتال لوگوں کی شوکت توڑنا ہے، تاکہ حق کی دعوت تمام لوگوں تک پہنچ سکے۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی رحمت، حتی کہ غزوات اور جنگوں میں بھی۔
حوالہ
صحيح البخاري (4/ 61) (3014).
صحيح مسلم (3/ 1364) (1744).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (2/ 189).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص746).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عبد الله بن أبي أوفى رضي الله عنه أَنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم فِي بَعْض أَيَّامه التي لَقِي فيها العدو انتظر، حتى إذا مَالَتِ الشمس قام فِيهم، فقال: «أَيُّها الناس، لا تَتَمَنَّوْا لِقَاء الْعَدُوِّ، وَاسْأَلوا الله الْعافية فَإِذا لَقِيتموهم فَاصْبِرُوا، وَاعلموا أَنَّ الْجَنَّة تحت ظِلال السُّيوف ثُمَّ قَال النَّبِي صلى الله عليه وسلم: اللهمَّ مُنزِلَ الْكتاب، وَمُجْرِيَ السَّحاب، وَهازم الأَحْزاب: اهْزِمهم، وَانصُرنا علَيهم».
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لڑائی میں، جس میں دشمن سے سامنا تھا، سورج ڈھلنے کا انتظار کیا۔ پھر ان کے بیچ کھڑے ہوکر فرمایا: ”لوگو! دشمنوں سے مقابلہ کی تمنا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو۔ لیکن جب ان سے مقابلہ ہو جائے، تو صبر سے کام لو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے“۔ پھر فرمایا:”اے اللہ! کتابوں کے نازل فرمانے والے، بادلوں کو چلانے والے اور جتھوں کو شکست دینے والے! انھیں شکست سے دوچار کردے اور ہمیں ان پر غلبہ عطا فرما“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
صحابی رسول عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کا کسی لڑائی میں دشمن سے سامنا تھا، آپ ﷺ نے انتظار کرتے ہوئے جنگ کی ابتدا سورج ڈھلنے تک نہیں کی۔ جب سورج ڈھل گیا، تو صحابۂ کرام سے خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے-جب کہ عام معمول کے مطابق آپ کے خطبے، نماز بعد ہوا کرتے تھے- آپ ﷺ نے دوران خطاب دشمن سے مقابلہ کرنےکی تمنا کرنے سے منع فرمایا؛ کیوں کہ اس میں خود پسندی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ (اس کی بجائے ) آپ ﷺ نے انھیں ہدایت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کریں۔ پھر فرمایا کہ جب دشمن سے مڈبھیر ہوجائے، تو ثابت قدمی کا مظاہرہ کرو۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ جنگ برپا کردے اور دشمنوں سے مقابلے میں تمھاری آزمائش کا موقع آجائے، تو میدان جنگ میں جم جاؤ، تشویش و اضطراب کو بالاطاق رکھ دو اور جان رکھو کہ تمھیں دو بھلائیوں میں سے ایک ضرور حاصل ہوکر رہے گی؛ یاتو اللہ تعالیٰ تمھیں دشمنوں پر فتح و نصرت عطا فرمائے گا اور تمھیں غلبہ حاصل ہوگا، اس طرح اللہ تعالی تمھیں دنیا میں دشمن پر غلبہ اور آخرت میں اجر وثواب دونوں ہی سے نوازے گا یا یہ کہ جہاد میں پوری طاقت صرف کرنے کے باوجود تمھیں شکست سے دوچار ہونا پڑجائے، تو (اپنی جاں بازی و جاں نثاری کے بدلے) تمھیں اخروی اجر و ثواب حاصل ہوگا۔ آپ ﷺ کے قول " اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سایے تلے ہے" کے معنی یہ ہیں کہ جہاد دخول جنت کا باعث ہے۔
پھر آپ ﷺ نے اپنے پروردگار سے، اس کی نازل کردہ شریعت اور اس کی قدرت کاملہ کا وسیلہ لیتے ہوئے، اپنے دشمنوں کے خلاف مسلمانوں کی مدد و نصرت کی دعا فرمائی۔ وباللہ التوفیق۔
حوالہ
- صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه.
- صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423 هـ.
- عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ
- تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414ه
- الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381ه
- تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426 هـ
- الإعلام بفوائد عمدة الأحكام لابن الملقن المحقق: عبد العزيز بن أحمد بن محمد المشيقح دار العاصمة للنشر والتوزيع، المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1417 هـ - 1997 م.
- الاستذكار لابن عبد البر، تحقيق سالم محمد عطا، محمد علي معوض، دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1421 - 2000.
- تحفة الأحوذي للمباركفوري - دار الكتب العلمية - بيروت.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ أَبِي مُوسَى رضي الله عنه قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً، وَيُقَاتِلُ رِيَاءً، أَيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ».
ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : اللہ کے رسول ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بہادری کی نمائش کے لیے جنگ کرتا ہے، ایک شخص مجرد حمیت کی بنا پر لڑتا ہے اور ایک شخص محض دکھاوے کے لیے لڑتا ہے، ان میں سے کون اللہ کی راہ میں ہے؟ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتا ہے، صرف اسی کا لڑنا اللہ کے راستے میں ہے“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے جنگ کرنے والوں کے الگ الگ مقاصد کے بارے میں پوچھا گیا کہ ایک بہادری دکھانے کے لیے جنگ کرتا ہے، ایک شخص حمیت کی خاطر جنگ کرتا ہے اور ایک شخص نام و نمود کی خاطر جنگ کرتا ہے، ان میں سے کس کی جنگ اللہ کے راستے میں ہے؟ جواب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اللہ کے راستے میں جنگ کرنے والا وہ ہے، جس نے اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے جنگ کی۔
فوائد
- اعمال کے درست اور نادرست ہونے کا دار و مدار نیت اور اخلاص و للہیت پر ہے۔
- جب جہاد کا مقصد اللہ کے کلمے کی سربلندی ہو اور کوئی دوسرا جائز مقصد، جیسے مال غنیمت کا حصول وغیرہ اس سے جڑ جائے، تو اس سے اصل نیت پر کوئی حرف نہيں آئے گا۔
- وطن اور عزت و آبرو کی حفاظت کی خاطر دشمنوں سے لڑنا بھی اللہ کے راستے میں جہاد میں شامل ہے۔
- مجاہدین کے بارے میں وارد فضیلت کا مستحق وہی شخص ہے، جو اللہ کے کلمہ کى سربلندی کی خاطر جنگ کرے۔
حوالہ
صحيح البخاري (9/ 136) (7458).
صحيح مسلم (3/ 1513) (1904).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص753).
الإعلام بفوائد عمدة الأحكام، لابن الملقن (10/ 380).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: بَعَثَنَا رسول الله صلى الله عليه وسلم في بَعْثٍ، فقال: «إن وجَدْتُم فُلانا وفُلانا» لرجلين من قُرَيْش سَمَّاهُما «فأَحْرِقُوهُمَا بالنَّار» ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم حين أردنا الخروج: «إني كنت أَمَرْتُكُمْ أن تُحْرِقُوا فلانًا وفلانًا، وإن النَّار لا يُعَذِّبُ بها إلا الله، فإن وجَدْتُمُوهُما فاقْتُلُوهُما».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک لشکر میں روانہ کیا تو فرمایا: اگر تمہیں فلاں فلاں مل جائیں تو انہیں آگ میں جلا دینا۔ آپ ﷺ نے یہ قریش کے دو آدمیوں کا نام لے کر فرمایا۔ پھر جب ہم نکلنے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں کو جلا دینا۔ لیکن آگ کی سزا تو صرف اللہ تعالیٰ ہی دے گا۔ اس لیے اگر تم ان کو پاؤ تو انہیں قتل کر دینا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے انہیں ایک لشکر میں دشمن سے لڑنے کے لئے روانہ فرمایا اور حکم دیا کہ اگر انہیں دو قریشی افراد نظر آئیں جن کی آپ ﷺ نے تعیین کی تو انہیں آگ میں جلا دیں۔ پھر جب وہ آپ ﷺ کو سفر پر روانہ ہونے سے پہلے الوداع کرنے آئےتو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں فلاں فلاں شخص کو جلانے کے لئے کہا تھا۔ لیکن آگ کا عذاب صرف اللہ ہی دے گا۔ اس لئے اگر وہ تمہارے ہاتھ لگ جائیں تو انہیں (جلانے کے بجائے) قتل کر دینا۔
حوالہ
نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ.
كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار ، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ.
بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي ، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م.
رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ.
صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ.
دليل الفالحين، تأليف: محمد بن علان، الناشر: دار الكتاب العربي، نسخة الكترونية ، لا يوجد بها بيانات نشر.
شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426 ه.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعنْ ابنِ مَسْعُودٍ رَضيَ اللهُ عنهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ، فَرَأَيْنَا حُمَّرَةً مَعَهَا فَرْخَانِ، فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا، فَجَاءَتِ الْحُمَرَةُ فَجَعَلَتْ تَفْرِشُ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ فَجَعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا؟ رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا»، وَرَأَى قَرْيَةَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاهَا، فَقَالَ: «مَنْ حَرَّقَ هَذِهِ؟» قُلْنَا: نَحْنُ. قَالَ: «إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ».
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ آپ ﷺ اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ ۔ہم نے (چڑیا کی مانند چھوٹا) ایک سرخ پرندہ دیکھاجس کے ساتھ دو بچے تھے۔ ہم نے اس کے دونوں بچوں کو پکڑ لیا۔ تو وہ پرندہ آیا اور ان کے گرد منڈلانے لگا۔ اتنے میں نبیﷺ تشریف لے آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس پرندے کو اس کے بچوں کی وجہ سے کس نے تکلیف پہنچائی ہے؟ اسے اس کے بچے واپس لوٹا دو۔“ پھر نبی ﷺ نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی جس کو ہم نے جلا دیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے کس نے جلایا ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے(جلایا ہے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: آگ کا عذاب دینا صرف آگ کے رب کے شایانِ شان ہے۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ وہ لوگ نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ پھر آپ ﷺ اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، تو صحابہ کرام نے ایک حُمَرة دیکھا، یہ پرندوں کی ایک قسم ہے۔ اس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے، صحابہ کرام نے اس کے بچوں کو پکڑ لیا۔ چنانچہ وہ پرندہ ان کے گرد منڈلانے لگا، جیسے پرندوں کی عادت ہوتی ہے کہ اگر ان کے بچوں کو پکڑ لیا جائے تو وہ منڈلانے اور ارد گرد گھومنے لگتے ہیں اور اپنے بچوں کی گم شدگی پر چلاتے ہیں۔ اس پر نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اس کے بچوں کو چھوڑ دیا جائے۔ صحابہ کرام نے اس کے بچے چھوڑ دیے۔
پھر چیونٹیوں کی ایک بستی یعنی ان کے رہنے کی جگہ سے گزرے، جسے جلا دیا گیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا۔ اسے کس نے جلایا ہے؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ ہم نے جلایا ہے۔
تو آپ ﷺ نے فرمایا ”آگ سے عذاب دینا صرف آگ کے رب (یعنیاللہ) کے شایانِ شان ہے“۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا۔
اس حدیث کے پیشِ نظر اگر آپ کا واسطہ چیونٹیوں سے پڑے، تو آپ انہیں آگ سے نہیں جلائیں گے۔ بلکہ کوئی ایسی چیز رکھ دیں جو انہیں بھگا دے جیسے گیسولین جو کہ ایک معروف مائع ایندھن ہے، جب آپ اس کو زمین پر انڈیل دیں گے تو وہ ان شاء اللہ بھاگ جائیں گی اور واپس نہیں لوٹیں گی۔ اگر ان کے شر سے بچنا ممکن نہ ہو سوائے اس کے کہ کیٹناشک کا استعمال کیا جائے جو حتمی طور پر انہیں مار ڈالے یعنی چیونٹیوں کو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کہ یہ ان کی گزند کو دور کرنا ہے، ورنہ تو چیونٹیاں ان حشرات میں سے ہیں جنہیں قتل کرنے سے نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے، لیکن اگر وہ آپ کو تکلیف کا پہنچائے اور قتل کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو، تو ان کو قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ
سنن أبي داود (4/ 309) (2675).
نزهة المتقين، لمجموعة من الباحثين (2/ 1105).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (19/ 150).
بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (3/ 120).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 300).
یہ حدیث HadeethEnc.com پریہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com