میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں کو جلا دینا۔ لیکن آگ کی سزا تو صرف اللہ تعالیٰ ہی دے گا۔ اس لیے اگر تم ان کو پاؤ تو انہیں قتل کر دینا
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: بَعَثَنَا رسول الله صلى الله عليه وسلم في بَعْثٍ، فقال: «إن وجَدْتُم فُلانا وفُلانا» لرجلين من قُرَيْش سَمَّاهُما «فأَحْرِقُوهُمَا بالنَّار» ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم حين أردنا الخروج: «إني كنت أَمَرْتُكُمْ أن تُحْرِقُوا فلانًا وفلانًا، وإن النَّار لا يُعَذِّبُ بها إلا الله، فإن وجَدْتُمُوهُما فاقْتُلُوهُما».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک لشکر میں روانہ کیا تو فرمایا: اگر تمہیں فلاں فلاں مل جائیں تو انہیں آگ میں جلا دینا۔ آپ ﷺ نے یہ قریش کے دو آدمیوں کا نام لے کر فرمایا۔ پھر جب ہم نکلنے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں کو جلا دینا۔ لیکن آگ کی سزا تو صرف اللہ تعالیٰ ہی دے گا۔ اس لیے اگر تم ان کو پاؤ تو انہیں قتل کر دینا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے انہیں ایک لشکر میں دشمن سے لڑنے کے لئے روانہ فرمایا اور حکم دیا کہ اگر انہیں دو قریشی افراد نظر آئیں جن کی آپ ﷺ نے تعیین کی تو انہیں آگ میں جلا دیں۔ پھر جب وہ آپ ﷺ کو سفر پر روانہ ہونے سے پہلے الوداع کرنے آئےتو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں فلاں فلاں شخص کو جلانے کے لئے کہا تھا۔ لیکن آگ کا عذاب صرف اللہ ہی دے گا۔ اس لئے اگر وہ تمہارے ہاتھ لگ جائیں تو انہیں (جلانے کے بجائے) قتل کر دینا۔
حوالہ
نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ.
كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار ، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ.
بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي ، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م.
رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ.
صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ.
دليل الفالحين، تأليف: محمد بن علان، الناشر: دار الكتاب العربي، نسخة الكترونية ، لا يوجد بها بيانات نشر.
شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426 ه.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com