سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

ذميوں کے احکام

2 احادیث

اسلام سر بلند رہتا ہے اور مغلوب نہیں ہوتا

عن عائذ بن عمرو المزني رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الإسلام يَعْلُو ولا يُعْلَى».
عائذ بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اسلام سر بلند رہتا ہے اور مغلوب نہیں ہوتا"۔
اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارقطنی نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

اس حدیث میں اسلام کا ایک عظیم ترین قاعدہ بتایا گيا ہے۔ وہ قاعدہ یہ ہے کہ اللہ نے اسلام کے لیے رفعت و سربلندی لکھ دی ہے اور اس کے ماننے والے اس وقت تک سربلند اور اچھی حالت میں رہیں گے، جب تک اسلام کو مضبوطی سے تھامے رہیں گے۔ اس طرح، سربلندی کے لیے اسلام کو مضبوطی سے تھامے رکھنا شرط ہے۔ حدیث کا یہ جملہ اگر چہ خبریہ ہے، لیکن ہے امر کے معنی میں، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {ولا تهنوا ولا تحزنوا وأنتم الأعلون إن كنتم مؤمنين} (تم نہ کمزور پڑو اور نہ غمگين ہو۔ تم ہی غالب رہوگے اگر ایمان دار ہو)۔ یہ حدیث تمام احوال کے لیے عام ہے اور فقہا نے اس سے بہت سے مسائل اور فروعات میں استدلال کیا ہے۔ اس کی ایک مثال جزیہ کا باب ہے، کیونکہ ذمی جب جزیہ ادا کرکے ہمارے بیچ رہیں گے، تو انھیں کھلم کھلا ناقوس بجانے اور صلیب قائم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ ان کى عمارتیں مسلمانوں کى عمارتوں سے اونچى بنائی جائیں گى۔ اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ اگر غیر مسلم والدین میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے، تو بچہ دونوں میں سے جو بہتر دین کا حامل ہو یعنی مسلمان کے تابع ہوگا۔ اسی طرح کسی مسلمان عورت کا نکاح کافر سے نہيں ہو سکتا۔ علی ہذا القیاس، ہر وہ حکم جس سے اسلام کی سر بلندی جھلکتی ہو، وہی مقدم ہوگا۔

حوالہ

السنن الكبرى، للبيهقي، المحقق: محمد عبد القادر عطا، دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان الطبعة: الثالثة، 1424 هـ - 2003 م. سنن الدارقطني، أبو الحسن الدارقطني، حققه وضبط نصه وعلق عليه: شعيب الارنؤوط، حسن عبد المنعم شلبي، عبد اللطيف حرز الله، أحمد برهوم، مؤسسة الرسالة، بيروت، لبنان، الطبعة: الأولى، 1424 هـ - 2004 م. منحة العلام في شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله الفوزان، طبعة دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى 1428. توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام: تأليف الشيخ صالح الفوزان، عناية عبد السلام السليمان، مؤسسة الرسالة الطبعة الأولى. فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام للشيخ ابن عثيمين- المكتبة الإسلامية القاهرة- تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي، الطبعة الأولى 1427. إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، محمد ناصر الدين الألباني، إشراف: زهير الشاويش، المكتب الإسلامي، بيروت، الطبعة: الثانية 1405 هـ - 1985م. سبل السلام لمحمد بن إسماعيل الصنعاني، - دار الحديث- بدون طبعة وبدون تاريخ. التَّنويرُ شَرْحُ الجَامِع الصَّغِيرِ محمد بن إسماعيل الصنعاني، أبو إبراهيم، عز الدين، المعروف كأسلافه بالأمير المحقق: د. محمَّد إسحاق محمَّد إبراهيم مكتبة دار السلام، الرياض -الطبعة: الأولى، 1432 هـ - 2011 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جس نے کسی معاہد کو قتل کیا، وہ جنت کی بو تک نہیں پائے گا، جب کہ اس کی بو چالیس سال کی مسافت سے مل جاتی ہے۔

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا ‌لَمْ ‌يَرَحْ ‌رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا».
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "جس نے کسی معاہد کو قتل کیا، وہ جنت کی بو تک نہیں پائے گا، جب کہ اس کی بو چالیس سال کی مسافت سے مل جاتی ہے۔"
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس شخص کو بڑی سخت وعید سنا رہے ہیں، جس نے کسى ایسے کافر کو جس کا مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ ہو قتل کیا۔ وعید یہ ہے کہ وہ جنت کی بو تک نہیں پائے گا، جب کہ اس کی بو چالیس سال کی مسافت تک جاتی ہے۔

فوائد
  1. معاہد، ذمی اور امن لے کر دارالاسلام میں داخل ہونے والے غیر مسلم کا قتل حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔
  2. معاہد اپنے ملک میں رہنے والے ایسے غیر مسلم کو کہتے ہیں، جس سے اس بات کا عہد و پیمان ہو چکا ہو کہ وہ مسلمانوں سے جنگ نہیں کرے گا اور مسلمان بھی اس سے جنگ نہیں کريں گے۔ ذمی ایسے غیر مسلم کو کہتے ہیں جو مسلم ملک میں رہتا ہو اور جزیہ ادا کرتا ہو۔ جب کہ مستامن ایسے غیر مسلم کو کہتے ہیں جو عہد و امان کے ساتھ متعینہ وقت تک کے لیے مسلم ملک میں داخل ہو۔
  3. اس حدیث میں غیر مسلموں سے کيے گئے وعدے کو توڑنے سے خبردار کیا گیا ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (8/ 232). توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، للبسام (6/ 90). فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (5/ 520). سبل السلام، لمحمد الصنعاني (2/ 501).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com