سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جہاد کی اقسام

2 احادیث

مجھ سے پہلے اللہ نے جتنے نبی بھیجے، ان کے لیے ان کی امت میں سے کچھ حواری اور ساتھی ہوتے تھے، جو ان کی سنت پر عمل اور ان کے حکم کی اقتدا کرتے تھے۔

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللهُ فِي أُمَّةٍ قَبْلِي إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ، وَأَصْحَابٌ يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ، ثُمَّ إِنَّهَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوفٌ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ، فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الْإِيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ».
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "مجھ سے پہلے اللہ نے جتنے نبی بھیجے، ان کے لیے ان کی امت میں سے کچھ حواری اور ساتھی ہوتے تھے، جو ان کی سنت پر عمل اور ان کے حکم کی اقتدا کرتے تھے۔ پھر ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ پیدا ہوئے، جو ایسی باتیں کہتے، جو وہ کرتے نہیں تھے اور کرتے وہ کام تھے جن کا انھیں حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ لہذا جس نے ان سے ہاتھ سے جہاد کیا، وہ مؤمن ہے، جس نے ان سے دل سے جہاد کیا، وہ مؤمن ہے اور جس نے ان سے اپنی زبان سے جہاد کیا، وہ مؤمن ہے اور ان کے علاوہ باقی لوگوں کے اندر رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں ہے۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی بھی امت کے اندر جو بھی رسول بھیجا، اس کے حق میں امت کے کچھ منتخب، مدگار اور مخلص مجاہد ہوا کرتھے تھے، جو اس کے بعد اس کی بہتر جا نشینی کے حقدار ہوا کرتے تھے، اس کی سنت پر کار بند رہتے اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے تھے۔ لیکن ان سلف صالحین کے بعد پھر ایسے بے سود لوگ آ جاتے تھے، جو کہتے وہ تھے، جس پر خود عمل نہیں کرتے تھے اور کرتے وہ تھے، جس کا حکم ان کو دیا نہيں گیا تھا۔ لہذا جس نے ایسے لوگوں سے اپنے ہاتھ سے جہاد کیا، وہ مومن ہے۔ جس نے ان سے اپنے دل سے جہاد کیا‘ وہ مومن ہے۔ جس نے ان سے اپنی زبان سے جہاد کیا وہ مومن ہے۔ اس سے پرے ایک رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہيں ہے۔

فوائد
  1. اقوال وافعال کے ساتھ شریعت کی خلاف ورزی کرنے والوں سے جہاد کرنے کی ترغیب۔
  2. برائی (منکر) کو دل سے برا نہ جاننا ایمان کی کمزوری یا ختم ہو جانے کی دلیل ہے۔
  3. اللہ پاک اپنے انبیائے کرام کے لیے ایسے لوگ فراہم کر دیتا ہے، جو ان کے بعد ان کا پیغام دنیا والوں تک پہنچاتے ہیں۔
  4. جسے نجات چاہیے، وہ انبیا کے منہج کی اتباع کرے۔ کیوں کہ ان کے راستے کے علاوہ ہر راستہ گمراہی و ہلاکت کا راستہ ہے۔
  5. نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کا زمانہ جس قدر دور ہوتا جائے گا، اسی قدر لوگ سنتوں کو ترک کرتے چلے جائیں گے، خواہشات نفس کے پیروکار بنتے جائیں گے اور بدعتیں ایجاد کرنے لگیں گے۔
  6. جہاد کے مراتب کا بیان۔ ساتھ ہی یہ کہ اگر حالات بدلنے کی طاقت ہو، تو جہاد ہاتھ سے ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں اولیاء الامور، حکام اور امرا آتے ہیں۔ قول کے ذریعے جہاد سے مراد حق بیانی سے کام لینا اور اس کی دعوت دینا ہے۔ جبکہ قلبی جہاد سے مراد غلط کو غلط سمجھنا، اسے پسند نہ کرنا اور اس سے راضی نہ رہنا ہے۔
  7. بھلائی (معروف) کا حکم دینے اور برائی (منکر) سے روکنے کا وجوب۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 69) (50). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 276). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص148). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (4/ 16). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 209).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

(بغرض سفر) نبی ﷺ کا پاؤں رکاب میں تھا کہ ایک شخص نے پوچھا کہ (یا رسول اللہ!) کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا“۔

عن طارق بن شهاب البجلي الأحمسي رضي الله عنه أنّ رجُلًا سأل النبي صلى الله عليه وسلم وقد وضَع رِجله في الغَرْزِ: أَيُّ الجهاد أفضل؟ قال: «كَلِمَةُ حَقًّ عِند سُلطَان جَائِرٍ».
طارق ابن شہاب بجلی احمسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (بغرضِ سفر) نبی ﷺ کا پاؤں رکاب میں تھا کہ ایک شخص نے پوچھا کہ (اے اللہ کے رسول ﷺ!) کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ سفر کے لیے تیار تھے کہ ایک آدمی نے آپ ﷺ سے سوال کیا: کس جہاد کا ثواب سب سے زیادہ ہے؟ نبی ﷺ نے اسے بتایا کہ افضل ترین جہاد یہ ہے کہ آدمی کسی ظالم بادشاہ کو نیکی کی تلقین کرے اور اسے برائی سے منع کرے۔ جہاد صرف کفار کےساتھ قتال تک محدود نہیں بلکہ اس کے کئی مراتب ہیں جن میں سے مذکورہ جہاد کا ثواب سب سے زیادہ ہے کیونکہ اس میں بادشاہ کے ظلم کی وجہ سے قتل یا قید ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اور کم ہی لوگ ہوتے ہیں جو اس قسم کا جہاد کرتے ہیں۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الدمام، الطبعة: الأولى 1415هـ. تطريز رياض الصالحين، فيصل بن عبد العزيز المبارك، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى 1423هـ، 2002م. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، محمد علي بن البكري بن علان، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، الطبعة: الرابعة 1425هـ. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ. سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، محمد ناصر الدين الألباني، مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى لمكتبة المعارف، 1422هــ. الشرح الممتع على زاد المستقنع، محمد بن صالح العثيمين، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى 1422، 1428هـ. شرح رياض الصالحين، محمد بن صالح العثيمين، دار الوطن، الرياض، الطبعة: 1426هـ. كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، كنوز إشبيليا، الرياض، الطبعة: الأولى 1430هـ. المجتبى من السنن (السنن الصغرى)، أحمد بن شعيب النسائي، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، مكتب المطبوعات الإسلامية، حلب، الطبعة: الثانية 1406هـ. مسند الإمام أحمد بن حنبل، أحمد بن حنبل أبو عبدالله الشيباني، تحقيق: شعيب الأرنؤوط و عادل مرشد، وآخرون، تحت إشراف: عبد الله بن عبد المحسن التركي، مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى 1421هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الرابعة عشر 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com