اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی بھی امت کے اندر جو بھی رسول بھیجا، اس کے حق میں امت کے کچھ منتخب، مدگار اور مخلص مجاہد ہوا کرتھے تھے، جو اس کے بعد اس کی بہتر جا نشینی کے حقدار ہوا کرتے تھے، اس کی سنت پر کار بند رہتے اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے تھے۔ لیکن ان سلف صالحین کے بعد پھر ایسے بے سود لوگ آ جاتے تھے، جو کہتے وہ تھے، جس پر خود عمل نہیں کرتے تھے اور کرتے وہ تھے، جس کا حکم ان کو دیا نہيں گیا تھا۔ لہذا جس نے ایسے لوگوں سے اپنے ہاتھ سے جہاد کیا، وہ مومن ہے۔ جس نے ان سے اپنے دل سے جہاد کیا‘ وہ مومن ہے۔ جس نے ان سے اپنی زبان سے جہاد کیا وہ مومن ہے۔ اس سے پرے ایک رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہيں ہے۔
- اقوال وافعال کے ساتھ شریعت کی خلاف ورزی کرنے والوں سے جہاد کرنے کی ترغیب۔
- برائی (منکر) کو دل سے برا نہ جاننا ایمان کی کمزوری یا ختم ہو جانے کی دلیل ہے۔
- اللہ پاک اپنے انبیائے کرام کے لیے ایسے لوگ فراہم کر دیتا ہے، جو ان کے بعد ان کا پیغام دنیا والوں تک پہنچاتے ہیں۔
- جسے نجات چاہیے، وہ انبیا کے منہج کی اتباع کرے۔ کیوں کہ ان کے راستے کے علاوہ ہر راستہ گمراہی و ہلاکت کا راستہ ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کا زمانہ جس قدر دور ہوتا جائے گا، اسی قدر لوگ سنتوں کو ترک کرتے چلے جائیں گے، خواہشات نفس کے پیروکار بنتے جائیں گے اور بدعتیں ایجاد کرنے لگیں گے۔
- جہاد کے مراتب کا بیان۔ ساتھ ہی یہ کہ اگر حالات بدلنے کی طاقت ہو، تو جہاد ہاتھ سے ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں اولیاء الامور، حکام اور امرا آتے ہیں۔ قول کے ذریعے جہاد سے مراد حق بیانی سے کام لینا اور اس کی دعوت دینا ہے۔ جبکہ قلبی جہاد سے مراد غلط کو غلط سمجھنا، اسے پسند نہ کرنا اور اس سے راضی نہ رہنا ہے۔
- بھلائی (معروف) کا حکم دینے اور برائی (منکر) سے روکنے کا وجوب۔
صحيح مسلم (1/ 69) (50). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 276). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص148). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (4/ 16). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 209).