عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللهُ فِي أُمَّةٍ قَبْلِي إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ، وَأَصْحَابٌ يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ، ثُمَّ إِنَّهَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوفٌ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ، فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الْإِيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ».
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "مجھ سے پہلے اللہ نے جتنے نبی بھیجے، ان کے لیے ان کی امت میں سے کچھ حواری اور ساتھی ہوتے تھے، جو ان کی سنت پر عمل اور ان کے حکم کی اقتدا کرتے تھے۔ پھر ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ پیدا ہوئے، جو ایسی باتیں کہتے، جو وہ کرتے نہیں تھے اور کرتے وہ کام تھے جن کا انھیں حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ لہذا جس نے ان سے ہاتھ سے جہاد کیا، وہ مؤمن ہے، جس نے ان سے دل سے جہاد کیا، وہ مؤمن ہے اور جس نے ان سے اپنی زبان سے جہاد کیا، وہ مؤمن ہے اور ان کے علاوہ باقی لوگوں کے اندر رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں ہے۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی بھی امت کے اندر جو بھی رسول بھیجا، اس کے حق میں امت کے کچھ منتخب، مدگار اور مخلص مجاہد ہوا کرتھے تھے، جو اس کے بعد اس کی بہتر جا نشینی کے حقدار ہوا کرتے تھے، اس کی سنت پر کار بند رہتے اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے تھے۔ لیکن ان سلف صالحین کے بعد پھر ایسے بے سود لوگ آ جاتے تھے، جو کہتے وہ تھے، جس پر خود عمل نہیں کرتے تھے اور کرتے وہ تھے، جس کا حکم ان کو دیا نہيں گیا تھا۔ لہذا جس نے ایسے لوگوں سے اپنے ہاتھ سے جہاد کیا، وہ مومن ہے۔ جس نے ان سے اپنے دل سے جہاد کیا‘ وہ مومن ہے۔ جس نے ان سے اپنی زبان سے جہاد کیا وہ مومن ہے۔ اس سے پرے ایک رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہيں ہے۔
فوائد
- اقوال وافعال کے ساتھ شریعت کی خلاف ورزی کرنے والوں سے جہاد کرنے کی ترغیب۔
- برائی (منکر) کو دل سے برا نہ جاننا ایمان کی کمزوری یا ختم ہو جانے کی دلیل ہے۔
- اللہ پاک اپنے انبیائے کرام کے لیے ایسے لوگ فراہم کر دیتا ہے، جو ان کے بعد ان کا پیغام دنیا والوں تک پہنچاتے ہیں۔
- جسے نجات چاہیے، وہ انبیا کے منہج کی اتباع کرے۔ کیوں کہ ان کے راستے کے علاوہ ہر راستہ گمراہی و ہلاکت کا راستہ ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کا زمانہ جس قدر دور ہوتا جائے گا، اسی قدر لوگ سنتوں کو ترک کرتے چلے جائیں گے، خواہشات نفس کے پیروکار بنتے جائیں گے اور بدعتیں ایجاد کرنے لگیں گے۔
- جہاد کے مراتب کا بیان۔ ساتھ ہی یہ کہ اگر حالات بدلنے کی طاقت ہو، تو جہاد ہاتھ سے ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں اولیاء الامور، حکام اور امرا آتے ہیں۔ قول کے ذریعے جہاد سے مراد حق بیانی سے کام لینا اور اس کی دعوت دینا ہے۔ جبکہ قلبی جہاد سے مراد غلط کو غلط سمجھنا، اسے پسند نہ کرنا اور اس سے راضی نہ رہنا ہے۔
- بھلائی (معروف) کا حکم دینے اور برائی (منکر) سے روکنے کا وجوب۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 69) (50).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 276).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص148).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (4/ 16).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 209).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ -أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ- شُعْبَةً، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”ایمان کی تہتّر سے زیادہ -یا ترسٹھ سے زیادہ- شاخیں ہیں، جن میں سے سب سے افضل شاخ لا الہ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے کم مرتبہ والی شاخ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اعمال، اعتقادات اور اقوال پر مشتمل ایمان کی بہت سی شاخیں ہيں۔
ایمان کی سب سے اعلی و افضل شاخ "لا الہ الا اللہ" کہنا ہے، اس کے معنی کو جانتے ہوئے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے۔ یعنی بس اللہ ہی ایک اکیلا معبود ہے، جو عبادت کے لائق ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔
جب کہ ایمان کا سب سے کم تر عمل راستے سے ہر اس چیز کو ہٹانا ہے، جو لوگوں کی اذیت کا سبب بنے۔
بعد ازاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔ دراصل حیا انسان کا ایک ایسا رویہ ہے، جو اسے اچھا کام کرنے اور برے کام سے دور رہنے پر آمادہ کرتا ہے۔
فوائد
- ایمان کے کئی مراتب ہیں، جن میں سے کچھ مراتب دوسرے مراتب کے مقابلے میں افضل ہيں۔
- ایمان قول، عمل اور اعتقاد کا نام ہے۔
- اللہ سے حیا کا تقاضا یہ ہے کہ انسان وہاں نظر نہ آئے، جہاں جانے سے اللہ نے منع کیا ہے اور اس جگہ سے غیر حاضر نہ ہو، جہاں جانے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔
- یہاں عدد کا ذکر مذکورہ تعداد کی تحدید کے لیے نہيں ہے، بلکہ ایمان کے اعمال کی کثرت کی کی دلیل ہے۔ کیوں کہ عرب کے لوگ کبھی کبھی کوئی عدد بیان کرتے ہيں اور ماسوا کی نفی مراد نہیں لیتے۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 11) (9).
صحيح مسلم (1/ 63) (35).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين (1/ 154).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 169).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص106).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم لهلالي (1/ 205).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ».
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "(کامل) مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان (کی ایذا رسانی) سے مسلمان محفوظ رہیں اور (حقیقی) مہاجر وہ ہے جس نے ان تمام چیزوں کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان سے مسلمان محفوظ رہيں۔ نہ انھیں گالی دے، نہ ان پر لعنت کرے، نہ ان کی غیبت کرے اور نہ ان کو کسی اور طرح سے زبانی اذیت پہنچائے۔ اسی طرح اس کے ہاتھ سے بھی مسلمان محفوظ رہیں۔ نہ ان پر ظلم کرے، نہ ناحق ان کے مال پر قبضہ کرے اور نہ اس طرح کا کوئی دوسرا کام کرے۔ اصل مہاجر وہ ہے جو اللہ کی حرام کی ہوئی چيزیں چھوڑ دے۔
فوائد
- مکمل مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان دوسری کو اذیت نہ دے۔ اذیت مادی ہو یا معنوی۔
- زبان اور ہاتھ کا ذکر بطور خاص اس لیے کیا گیا ہے کہ انسان کے ان دونوں اعضا سے بہت سی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں اور ان کے ذریعے بہت سے نقصانات پہنچائے جاتے ہیں۔ درحقیقت بیش تر برائياں انھیں دونوں اعضا سے سرزد ہوتی ہیں۔
- گناہوں سے بچنے اور اللہ تعالی کے اوامر کا التزام کرنے کی ترغیب۔
- سب سے افضل مسلمان وہ ہے، جو اللہ تعالی کے حقوق اور مسلمانوں کے حقوق ادا کرے۔
- ظلم کبھی قولی ہوتا ہے اور کبھی عملی۔
- کامل ہجرت یہ ہے کہ انسان اللہ کی حرام کی ہوئی چیزیں چھوڑ دے۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 11) (10).
صحيح مسلم (1/ 65) (40).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 236).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 511).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 306).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أبي سعيد الخُدْريِّ رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے, وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "تم میں سے جو شخص منکر (غلط کام ) دیکھے، وہ اسے اپنے ہاتھ (قوت) سے بدل دے۔ اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے اس کی نکیر کرے۔ اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل میں (اسے برا جانے اور اسے بدلنے کی مثبت تدبیر سوچے) اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے"۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث میں حسب استطاعت منکر کو بدلنے کا حکم دے رہے ہیں- منکر سے مراد ہر وہ عمل ہے، جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہے- جو شخص کوئی منکر (غلط کام) دیکھے، تو اس پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ اگر اس کے پاس طاقت ہو تو اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے۔ اگر اس کے پاس اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے اس پر نکیر کرے۔ یعنی غلط کام کرنے والے کو اسے کرنے سے منع کرے، اسے اس کا نقصان بتائے اور اس کی رہنمائی اس برے کام کی جگہ پر کسی اچھے کام کی جانب کرے۔ اگر اس سے بھی عاجز ہو، تو اس کے دل میں اس غلط کام کے خلاف رد عمل ہونا چاہیے۔ یعنی اس غلط کام کو برا جانے اور یہ عزم کرے کہ اگر اس کے پاس اس سے روکنے کی طاقت آ جائے تو ضرور روکے گا۔ دل کے اندر پیدا ہونے والا یہ رد عمل ایمان کا سب سے کمزور مرتبہ ہے۔
فوائد
- یہ حدیث منکر کو تبدیل کرنے کے مراتب بیان کرنے کے سلسلے میں بنیاد اور مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔
- منکر سے روکنے کےسلسلے میں درجہ بندی کو ملحوظ خاطر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہر انسان اپنی استطاعت وقدرت کے حساب سے اس کام کو انجام دے۔
- منکر سے روکنا ایک بہت بڑی دینی ذمے داری ہے، جو کسى سے بھى ساقط نہیں ہوتی ہے۔ ہر شخص کو اپنی طاقت کے مطابق اس ذمے داری کو ادا کرنا ہے۔
- بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ایمان کی ایک خصلت ہے اور ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے۔
- منکر سے روکنے کے لیے شرط ہے کہ اس عمل کے منکر ہونے کا علم ہو۔
- منکر کو بدلنے کے لیے شرط ہے کہ اس کے نتیجے میں اس سے بڑا کوئی منکر وجود میں نہ آئے۔
- منکر سے روکنے کے کچھ آداب اور شروط ہیں جن سے مسلمان کو آگاہ اور واقف ہونا چاہیے۔
- منکر کی نکیر کرنے کے لیے شریعت کے اسرار ورموز سے واقفیت اور علم وبصیرت ضروری ہے۔
- دل سے منکر کی نکیر نہ کرنا ایمان کی کمزوری کی دلیل ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 69).
جامع العلوم والحكم (2/245).
المعين على تفهم الأربعين (ص 393).
شرح الأربعين النووية للعثيمين (ص: 336).
البحر المحيط الثجاج (2/204).
فتح القوي المتين للعباد (ص 116).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: «مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسَاءَ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ».
ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول! ہم نے جو گناہ زمانۂ جاہلیت میں کیے ہیں، کیا ان کا بھی مؤاخذہ ہم سے ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے، اس کا ان اعمال پر مؤاخذہ نہیں ہو گا جو اس نے جاہلیت میں کیے اور جس نے اسلام میں برے کام کیے، وہ اگلے اور پچھلے دونوں طرح کے عملوں پر پکڑا جائے گا"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسلام قبول کرنے کی فضیلت بیان کر رہے ہیں۔ جو شخص اسلام لائے اور پھر اس کا اسلام ٹھیک رہے اور وہ صدق واخلاص سے متصف رہے، تو ان گناہوں پر اس کا مؤاخذہ نہیں ہوگا، جو اس نے جاہلیت میں کیے تھے۔ اور جو شخص اسلام لانے کے بعد بھى برا ہى رہا، بایں طور کہ دل میں نفاق چھپائے رکھا یا دین سے مرتد ہوگیا، تو اس سے ان تمام اعمال کا حساب و کتاب ہوگا، جو اس نے کفر اور اسلام کی حالت میں کیے۔
فوائد
- اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ان اعمال کے تئیں بھی فکر مند اور خائف رہتے تھے جو ان سے زمانۂ جاہلیت میں سرزد ہوئے تھے۔
- اسلام پر ثابت قدم رہنے کی ترغیب۔
- اسلام میں داخل ہونے کی فضیلت اور یہ کہ اسلام لانے سے تمام سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
- منافق اور مرتد سے ان تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا، جو انہوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے کیے تھے اور جو اسلام قبول کرنے کے بعد کیے۔
حوالہ
صحيح البخاري (9/ 14) (6921).
صحيح مسلم (1/ 111) (120).
مشارق الأنوار على صحاح الآثار (2/229).
الكواكب الدراري (24/43).
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (24/ 76).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قال: جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ: إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَتَعَاظَمُ أَحَدُنَا أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ، قَالَ: «وَقَدْ وَجَدْتُمُوهُ؟» قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: اللہ کے نبی ﷺ کے چند صحابہ حاضر ہوئے اور آپ سے دریافت کیا: ہم اپنے دلوں میں ایسی چیزیں محسوس کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان کو زبان پر لانا بہت سنگین سمجھتا ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ’’کیا تم نے واقعی اپنے دلوں میں ایسا محسوس کیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ’’یہی صریح ایمان ہے۔‘‘
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے دلوں میں جو ناگوار باتیں پاتے تھے، جن کی قباحت اور شناعت کے سبب انہیں زبان پرلانا بہت سنگین سمجھتے تھے، ان کے بارے میں آپ سے دریافت کیا۔ چنانچہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا : یہ احساس جو تم اپنے دلوں میں پاتے ہو، وہی صریح ایمان و یقین ہے، جو تمہیں شیطانی وسوسے سے اپنی حفاظت کرنے اور اسے زبان پر نہ لانے اور اسے سنگین سمجھنے پر آمادہ کرتا ہے اور اسی کی وجہ سے شیطان تمہارے دل پر حاوی نہیں ہو پاتا ہے، برخلاف اس شخص کے جس کے دل پر شیطان حاوی ہوجاتا ہے اور وہ اپنے دل کے اندر شیطان سے لڑنے کے طاقت نہيں پاتا۔
فوائد
- اہل ایمان کے سامنے شیطان کی کمزوری کا بیان کہ وہ یہاں وسوسہ سے آگے بڑھ نہیں پاپا۔
- دل میں جو وسوسے آتے ہیں، ان کو سچ جان کر قبول نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ وہ شیطان کی جانب سے ہوتے ہیں۔
- شیطانی وسوسہ مؤمن کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، لیکن پھر بھی مؤمن کو چاہیے کہ شیطانی وسوسے سے اللہ کی پناہ طلب کرتا رہے اور وسوسے کی رو میں نہ بہے۔
- مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ اسے دینی امور میں جو مشکلات در پیش ہوں، ان کے بارے میں سکوت اختیار کرے، بلکہ اسے چاہیے کہ ان کے بارے میں اہل علم سے پوچھ لیا کرے۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 119) (132)، معالم السنن (4/174)، المفهم للقرطبي (1/344)، شرح النووي على مسلم (2/154)، البحر المحيط الثجاج (3/622).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَخْلَقُ فِي جَوْفِ أَحَدِكُمْ كَمَا يَخْلَقُ الثَّوْبُ الْخَلِقُ، فَاسْأَلُوا اللَّهَ أَنْ يُجَدِّدَ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِكُمْ».
عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "”کپڑے کی بوسیدگی کی طرح ایمان بھی تمہارے دل کے اندر بوسیدہ ہو جاتا ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کرو کہ وہ تمہارے دلوں میں ایمان کی تجدید کرتا رہے۔“
رواه الحاكم والطبرانيدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ مسلمان کے دل میں ایمان بھی اسی طرح بوسیدہ اور کمزور ہو جایا کرتا ہے، جس طرح نیا کپڑا زیادہ استعمال کرنے کے بعد بوسیدہ ہوجایا کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان عبادت میں سستی کرنے لگتا ہے یا پھر گناہوں کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے اور خواہشات نفسانی میں غرق ہوجاتا ہے۔ اس لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رہنمائی فرمائی ہے کہ ہم اللہ سے تجدید ایمان کی دعا کیا کریں، بایں طور کہ ہمیں فرائض کی ادائیگی اور کثرت سے ذکر و استغفار کا اہتمام کرنے کی توفیق دے۔
فوائد
- دل میں ایمان کی تجدید اور ثابت قدمی کے لیے دعا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
- ایمان، قول و عمل اور عقیدے سے عبارت ہے، جو اطاعت سے بڑھتا اور گناہ سے گھٹتا ہے۔
حوالہ
المستدرك على الصحيحين للحاكم (1/ 45) (5)، المعجم الكبير للطبراني (13/ 36) (84)، النهاية في غريب الحديث والأثر، ص(282)، النهاية (1/316)، فيض القدير (2/323)، التنوير شرح الجامع الصغير (3/434).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضي الله عنه أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا».
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا : "جس نے اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو اپنا رسول تسلیم کرلیا اس نے ایمان کی چاشنی پالی۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ سچا مومن اور ایمان کو حرز جاں سمجھنے والا شخص اپنے دل میں بڑی کشادگی، وسعت، خوشی، حلاوت اور اللہ سے قریب ہونے کی لذت محسوس کرے گا؛ اگر وہ تین باتوں پر راضى ہو:
1- اللہ کو اپنا رب تسلیم کر کے مطمئن ہو۔ یعنی اپنے رب کی عطا کی ہوئی تمام چیزوں، جیسے روزی اور زندگی کے نشیب و فراز کو پورے شرح صدر کے ساتھ قبول کرے، اس تعلق سے دل میں کوئی کبیدگی اور اعتراض نہ پائے اور اللہ کے علاوہ کسی اور کو رب بنانے کی کوشش نہ کرے۔
2- اسلام کو اپنا دین تسلیم کر کے مطمئن ہو اور اسلام کی عائد کردہ ذمے داریوں اور واجبات کو خوش دلی کے ساتھ قبول کرے اور اسلام کے راستے کو چھوڑ کوئی اور راستہ نہ ڈھونڈے۔
3- محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو رسول مان کر مطمئن ہو۔ آپ کی لائی ہوئی تمام تعلیمات کو سر آنکھوں پر رکھے۔ شک و شبہ کو دل میں راہ پانے کا موقع نہ دے اور آپ کے طریقے کو حرز جاں سمجھے۔
فوائد
- جس طرح کھانے پینے کی چیزوں کی حلاوت اور لذت ہوا کرتی ہے، اسی طرح ایمان کی بھی حلاوت اور لذت ہوا کرتی ہے۔ فرق بس اتنا ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کی حلاوت اور مزہ منہ سے محسوس کرتے ہيں اور ایمان کی حلاوت اور مزہ دل سے۔
- جس طرح جسم کھانے پینے کی جیزوں کی حلاوت تندرستی کی حالت میں ہی محسوس کرتا ہے، اسی طرح دل بھی گمراہ کن خواہشات اور حرام شہوتوں سے محفوظ ہونے کی صورت میں ہی ایمان کی حلاوت محسوس کرتا ہے۔ بیمار دل ایمان کی حلاوت محسوس نہیں کرتا۔ بلکہ کبھی کبھی تو اسے ہلاکت خیز خواہشات اور گناہ کے کاموں ہی میں مزہ آنے لگتا ہے۔
- جب انسان کسی چيز سے مطمئن ہو اور اسے بہتر جانے، تو اسے وہ چيز مشکل نہيں لگتی، بلکہ اس کے لئے آسان ہو جاتی ہے اور خوشیوں کی سوغات نظر آتی ہے۔ یہی حال مومن کا ہے۔ جب اس کے دل میں ایمان جاگزیں ہو جاتا ہے، تو اس کے لیے رب کے احکام کو بجا لانا آسان ہو جاتا ہے، رب کی بندگی میں مزہ آنے لگتا ہے اور اس راہ میں آنے والی پریشانیاں مشکل نہيں لگتیں۔
- ابن قیم کہتے ہیں: اس حدیث کے اندر اللہ کی ربوبیت والوہیت پر مطمئن رہنے، اس کے رسول اور رسول کی پیروی پر مطمئن رہنے‘ اس کے دین پر مطمئن رہنے اور دین کی تعلیمات کو سر آنکھوں پر رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 62) (34)، البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (2/ 11)، إكمال المعلم بفوائد مسلم (1/ 270).
یہ حدیث HadeethEnc.com پریہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com