سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”کپڑے کی بوسیدگی کی طرح ایمان بھی تمہارے دل کے اندر بوسیدہ ہو جاتا ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کرو کہ وہ تمہارے دلوں میں ایمان کی تجدید کرتا رہے۔“

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَخْلَقُ فِي جَوْفِ أَحَدِكُمْ كَمَا يَخْلَقُ الثَّوْبُ الْخَلِقُ، فَاسْأَلُوا اللَّهَ أَنْ يُجَدِّدَ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِكُمْ».
عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "”کپڑے کی بوسیدگی کی طرح ایمان بھی تمہارے دل کے اندر بوسیدہ ہو جاتا ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کرو کہ وہ تمہارے دلوں میں ایمان کی تجدید کرتا رہے۔“
رواه الحاكم والطبرانيدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ مسلمان کے دل میں ایمان بھی اسی طرح بوسیدہ اور کمزور ہو جایا کرتا ہے، جس طرح نیا کپڑا زیادہ استعمال کرنے کے بعد بوسیدہ ہوجایا کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان عبادت میں سستی کرنے لگتا ہے یا پھر گناہوں کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے اور خواہشات نفسانی میں غرق ہوجاتا ہے۔ اس لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رہنمائی فرمائی ہے کہ ہم اللہ سے تجدید ایمان کی دعا کیا کریں، بایں طور کہ ہمیں فرائض کی ادائیگی اور کثرت سے ذکر و استغفار کا اہتمام کرنے کی توفیق دے۔

فوائد
  1. دل میں ایمان کی تجدید اور ثابت قدمی کے لیے دعا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
  2. ایمان، قول و عمل اور عقیدے سے عبارت ہے، جو اطاعت سے بڑھتا اور گناہ سے گھٹتا ہے۔
حوالہ

المستدرك على الصحيحين للحاكم (1/ 45) (5)، المعجم الكبير للطبراني (13/ 36) (84)، النهاية في غريب الحديث والأثر، ص(282)، النهاية (1/316)، فيض القدير (2/323)، التنوير شرح الجامع الصغير (3/434).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
ایمان کی زیادتی اور کمی

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com