سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال ایسے ہے جیسے وہ روزے دار شب بیدار جو انتہائی خشوع کے ساتھ اللہ کی آیات کو پڑھتا ہے اور روزہ و نماز میں کبھی بھی کمزوری نہیں دکھاتا یہاں تک کہ وہ مجاہد واپس لوٹ آئے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قيل: يا رسول الله، ما يعدل الجهاد في سبيل الله؟ قال: «لا تستطيعونه» فأعادوا عليه مرتين أو ثلاثًا كل ذلك يقول: «لا تستطيعونه»! ثم قال: «مثل المجاهد في سبيل الله كمثل الصائم القائم القانت بآيات الله لا يَفْتُرُ من صيام، ولا صلاة، حتى يرجع المجاهد في سبيل الله». وفي رواية البخاري: أن رجلاً قال: يا رسول الله، دلني على عمل يعْدِلُ الجهاد؟ قال: «لا أجده» ثم قال: «هل تستطيع إذا خرج المجاهد أن تدخل مسجدك فتقوم ولا تفتر، وتصوم ولا تفطر»؟ فقال: «ومن يستطيع ذلك؟!»
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ! کون سا عمل ہے جو جہاد فی سبیل اللہ کے مساوی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:تم اسے نہیں کر سکتے۔ لوگوں نے دو یا تین بار آپ ﷺ سے پھر یہی سوال کیا تو آپ ﷺ نے ہر دفعہ یہی فرمایا کہ تم اسے نہیں کر سکتے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال ایسے ہے جیسے وہ روزہ دار شب بیدار جو انتہائی خشوع کے ساتھ اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرتا ہے اور روزہ و نماز میں کبھی بھی کمزوری نہیں دکھاتا یہاں تک کہ وہ مجاہد واپس لوٹ آئے۔ صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض گزارش کی: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیں جو جہاد فی سبیل اللہ کے برابر ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے نزدیک تو کوئی ایسا عمل نہیں ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا:کیا تم ایسا کر سکتے ہو کہ جب مجاہد جہاد کے لیے نکلے تو تم اپنی جائے نماز پر چلے جاؤ اور پھر تم مسلسل بلا وقفہ نماز پڑھو اور مسلسل روزہ رکھو۔؟ اس نے جواب دیا: ايسا كرنے کی کس میں استطاعت ہے؟
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اس حدیث کی دونوں روایت میں ہے کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نبی ﷺ سے ان نیکی اور بھلائی کے کاموں کے بارے میں دریافت کیا جو اجر و ثواب کے لحاظ سے جہاد فی سبیل اللہ کے مساوی ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم وہ نہیں کر سکتے۔ یعنی وہ عمل جو جہاد کے مساوی ہے تم میں اس کے کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ اس پر صحابہ نے آپﷺ سے دو یا تین بار یہی سوال کیا اور آپ یہی فرماتے رہے کہ تم وہ نہیں کر سکتے۔ پھر آپ ﷺ نے ان کے سامنے اس عمل کی وضاحت فرمائی جسے وہ نہیں کر سکتے تھے اور وہ یہ تھا کہ بغیر کسی وقفے اور انقطاع کے پابندی کے ساتھ مسلسل روزہ رکھنا، نماز پڑھنا اور قرآن کی تلاوت کرنا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عمل انسان کی وسعت سے باہر ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے آغاز ہی میں ان سے فرمایا کہ تم وہ نہیں کر سکتے۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک صحابی نے نبی ﷺ سے درخواست کی کہ آپ اسے کوئی ایسا عمل بتائیں جو قدر و منزلت اور اپنے اجر و ثواب کے اعتبار سے جہاد فی سبیل اللہ کے مساوی ہو۔ آپ ﷺ نے انہیں فرمایا کہ میرے نزیک تو ایسا کوئی نہیں ہے۔ یعنی میرے علم میں تو کوئی ایسا عمل نہیں جو جہاد کی طرح کا ہو یا اس کا ہم پلہ ہو۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے ایک صبح یا ایک شام کے لیے نکلنا دنیا وما فیہا سے بہتر ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم ایسا کر سکتے ہو کہ جب مجاہد جہاد کے لیے نکلے تو تم اپنی جائے نماز پرچلے جاؤ اور پھر ہمیشہ عبادت میں لگے رہو۔ بغیر کسی انقطاع کے نماز پڑھو اورمسلسل روزہ رکھو۔ اگر ایسا کرنا ممکن ہو تو صرف یہی ایک عمل ہے جو جہاد کے مساوی ہو سکتا ہے۔ اس پر اس شخص نے کہا کہ اس کی کون استطاعت رکھتا ہے!۔ یعنی کون ہے جو بغیر انقطاع کے مسلسل نماز پڑھ سکتا ہے اور بنا افطار (بریک) کیے روزہ رکھ سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کام انسانی قدرت سے بالا تر ہے۔

حوالہ

- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه . - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. - صحيح البخاري –عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري تأليف حمزة محمد قاسم مكتبة دار البيان، دمشق - الجمهورية العربية السورية، مكتبة المؤيد، الطائف - المملكة العربية السعودية 1410 هـ - 1990 م. - كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى1430ه.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
جہاد کی فضیلت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com