سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

کوئی شخص بھی ایسا نہ ہو گا جو جنت میں داخل ہونے کے بعد دنیا میں دوبارہ آنا پسند کرے، خواہ اسے دنیا میں موجود ہر شے مل جائے، سوائے شہید کے۔ اس کی یہ تمنا ہو گی کہ دنیا میں دوبارہ واپس جا کر دس مرتبہ اور قتل ہو کیونکہ وہ شہادت پر ملنے والی عزت کو دیکھ رہا ہوگا۔

عن أنس رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مَا أحَدٌ يَدْخُل الجنَّة يُحِبُّ أن يَرجع إلى الدنيا وله ما على الأرض من شيء إلا الشَّهيد، يَتَمَنَّى أن يَرجع إلى الدنيا، فيُقْتَل عَشْر مَرَّاتٍ؛ لما يَرَى من الكَرَامة». وفي رواية: «لما يَرى من فَضْل الشَّهادة».
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کوئی شخص بھی ایسا نہ ہو گا جو جنت میں داخل ہونے کے بعد دنیا میں دوبارہ آنا پسند کرے، خواہ اسے دنیا میں موجود ہر شے مل جائے، سوائے شہید کے، اس کی یہ تمنا ہو گی کہ دنیا میں دوبارہ واپس جا کر دس مرتبہ اور قتل ہو کیونکہ وہ شہادت پر ملنے والی عزت کو دیکھ رہا ہوگا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت کو دیکھ رہا ہو گا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

کوئی بھی شخص جنت میں داخل ہونے کے بعد یہ خواہش نہیں رکھے گا کہ وہ اس سے علیحدہ ہو اور دوبارہ دنیا میں لوٹ جائے اگرچہ اسے دنیا کے تمام خزانے اور قیمتی اشیاء بھی دے دی جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ اسے اس میں موجود عالی شان محلات اور گھنے سرسبز باغات بھی دے دیے جائیں۔ پھر اللہ کے نبی ﷺ نے اس سے شہید کو مستثنی کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ دنیا میں دس بار واپس آنے کو پسند کرے گا تاکہ وہ ہر دفعہ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہو جائے اور اسے ایک دفعہ کے بجائے دس دفعہ شہادت ملے کیونکہ اس نے شہدا کو ملنے والی عزت ومقام کو دیکھ لیا ہو گا۔

حوالہ

تطريز رياض الصالحين، للشيخ فيصل المبارك، ط1، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة، الرياض، 1423هـ. رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428هـ. رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ. شرح صحيح البخاري، لابن بطال، تحقيق: أبو تميم ياسر بن إبراهيم، ط2، مكتبة الرشد - السعودية، الرياض، 1423هـ. صحيح البخاري، ط1، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، دار طوق النجاة، (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت. كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ. المعجم الوسيط، مجمع اللغة العربية بالقاهرة، ط2، دار إحياء التراث العربي، بيروت، لبنان. منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، لحمزة محمد قاسم، راجعه: الشيخ عبد القادر الأرناؤوط، مكتبة دار البيان، دمشق، مكتبة المؤيد، الطائف، ط. 1410هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
جہاد کی فضیلت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com