سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ تعالی شہید کا ہر گناہ معاف کر دیتا ہے سوائے قرض کے۔

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «يَغْفِرُ الله للشَّهيد كُلَّ شيءٍ إلا الدَّين». وفي رواية له: «القَتْل في سَبِيل الله يُكَفِّر كلَّ شيءٍ إلا الدَّين».
عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالی شہید کا ہر گناہ معاف کر دیتا ہے سوائے قرض کے۔" ایک دیگر روایت میں آتا ہے کہ ’’ اللہ کے راستے میں قتل ہو جانا ہر شے کا کفارہ بن جاتا ہے سوائے قرض کے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث کا مفہوم: شہادت تمام چھوٹے بڑے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے سوائے قرض کے۔ شہادت قرض کے بار سے سبکدوش نہیں کرسکتی کیونکہ حقوق العباد کی بہت زیادہ اہمیت ہے خصوصاً وہ حقوق جو مال سے متعلق ہوتے ہیں۔ انسانوں کے نزدیک یہ بہت ہی محبوب چیز ہوتی ہے۔ قرض کے ساتھ مسلمانوں کے وہ حقوق بھی ملحق ہیں جو اس شخص کے ذمہ آتے ہیں جیسے چوری، غصب کرنا اور خیانت وغیرہ۔ جہاد، شہادت اور اس طرح کے دیگر نیک اعمال حقوق العباد کا کفارہ نہیں بنتے بلکہ یہ صرف حقوق اللہ کا کفارہ بنتے ہیں۔

حوالہ

كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ. رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428 هـ. رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ. شرح رياض الصالحين للشيخ ابن عثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت. المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج للنووي ، ط2، دار إحياء التراث العربي - بيروت، 1392هـ الكاشف عن حقائق السنن(شرح المشكاة) للطيبي، تحقيق: عبد الحميد هنداوي، مكتبة الباز، مكة، 1417هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
جہاد کی فضیلت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com