سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو جہاد کے لئے سامان فراہم کیا، اس نے درحقیقت جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے اہل و عیال کی اچھے انداز میں جانشینی کی، حقیقت میں اس نے جہاد کیا“۔

عَن زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا، وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا».
زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو جہاد کے لئے سامان فراہم کیا، اس نے درحقیقت جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے اہل و عیال کی اچھے انداز میں جانشینی کی، حقیقت میں اس نے جہاد کیا“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس نے اللہ کی راہ میں لڑ رہے غازی کے لیے جنگ کے ضروری اسباب، جیسے ہتھیار، سواری اور رسد وغیرہ کا انتظام کر دیا، وہ غازی کے حکم میں ہے اور اسے جنگ کرنے والوں کا ثواب ملے گا۔ اسی طرح جس نے غازی کی عدم موجودگی میں اس کے اہل خانہ کی بہتر انداز میں دیکھ ریکھ کی، وہ بھی غازی کے حکم میں ہے۔

فوائد
  1. نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ترغیب۔
  2. ابن حجر کہتے ہیں: اس حدیث میں اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ مسلمانوں کے مفاد میں کام کرنے والے یا کسی اسلامی مشن میں لگے ہوئے شخص کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔
  3. عمومی قاعدہ ہے کہ جو شخص کسی نیکی کے کام میں کسی کی مدد کرتا ہے، اسے بھی اس پر عمل کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔ ساتھ ہی اس سے عمل کرنے والے کے اجر و ثواب میں کوئی کمی نہيں آتی۔
حوالہ

صحيح البخاري (4/ 27) (2843). صحيح مسلم (3/ 1506) (1895). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 267). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص143). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (3/ 588). لسان العرب، لابن منظور (15/ 123). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 374). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 202).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
جہاد کی فضیلت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com