سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

نماز کے اذکار

23 احادیث

اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، جہنم کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے فتنے سے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو وَيَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ، وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ فِتْنَةِ المَحْيَا وَالمَمَاتِ، وَمِنْ فِتْنَةِ المَسِيحِ الدَّجَّالِ». وفِي لَفْظٍ لِمُسْلِمٍ: «إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الْآخِرِ، فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللهِ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم دعا کرتے تھے اور کہتے تھے : "اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، جہنم کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے فتنے سے"۔ جب کہ صحیح مسلم میں ایک روایت ہے : "جب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو، تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے : جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کی برائی سے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نماز میں آخری تشہد کے بعد اور سلام سے پہلے چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے اور ہمیں بھی ان سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے۔ 1- قبر کے عذاب سے۔ 2- جہنم کے عذاب سے۔ یعنی قیامت کے دن۔ 3- زندگى کے فتنے سے، جیسے اس کی حرام خواہشات اور گمراہ کن شبہات سے- اور موت کے فتنے سے، یعنی حالت نزع میں اسلام یا سنت سے بھٹک جانے سے یا پھر قبر کے فتنے سے، جیسے دونوں فرشتوں کے سوال سے۔ 4- مسیح دجال کے فتنے سے، جو آخری زمانے میں نکلے گا اور جس کے ذریعے اللہ اپنے بندوں کو آزمائے گا۔ یہاں بطور خاص دجال کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کا فتنہ بڑا بھیانک فتنہ ہوگا اور وہ لوگوں کو بہت بڑے پیمانے پر گمراہ کرے گا۔

فوائد
  1. یہ دعا ایک بہت ہی اہم اور جامع ترین دعا ہے، کیوں کہ یہ دنیا اور آخرت کی برائیوں سے پناہ مانگنے پر مشتمل ہے۔
  2. قبر کے عذاب کا ثبوت اور اس کا حق ہونا۔
  3. فتنوں کا نقصان اور اللہ کی پناہ مانگنے اور فتنوں سے نجات پانے کی دعا کی اہمیت۔
  4. دجال کے ظہور اور اس کے فتنے کے بڑا ہونے کا ثبوت۔
  5. آخری تشہد کے بعد اس دعا کو پڑھنا مستحب ہے۔
  6. عمل صالح کے بعد دعا کرنا مستحب ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (2/ 99) (1377). صحيح مسلم (1/ 412) (588). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 172). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص212). خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص96).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

’’میں کہتا ہوں: اللھم باعد بینی وبین خطایاي کما باعدت بین المشرق والمغرب

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ، سَكَتَ هُنَيَّةً قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، مَا تَقُولُ؟ قَالَ «أَقُولُ: اللهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: اللہ کے رسول ﷺ جب (آغاز ) نماز کے لیے تکبیر کہتے، تو قراءت کرنے سے پہلے کچھ دیر سکوت فرماتے۔ میں نےعرض کیا : اے اللہ کے رسول (ﷺ)! میرے ماں باپ آپ پر قربان! یہ جو تکبیر اور قراءت کے درمیان آپ کی خاموشی ہے، (اس کے دوران میں ) آپ کیا کہتے ہیں؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا: ’’میں کہتا ہوں: اللھم باعد بینی وبین خطایاي کما باعدت بین المشرق والمغرب۔ اللہم نقني من خطایاي کما ینقی الثوب الابیض من الدنس۔ اللھم اغسلني من خطایاي بالثلج والماء والبرَد"۔ ترجمہ: اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اس طرح دوری ڈال دے، جس طرح تونے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک صاف کر دے، جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے دھودے، برف کے ساتھ، پانی کےساتھ اور اولوں کے ساتھ‘‘۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب نماز کی تکبیر کہتے، تو سورہ فاتحہ پڑھنے سے پہلے ذرا دیر رکتے۔ اس وقفے میں کچھ دعاؤں کے ذریعے نماز کا آغاز کرتے۔ ان میں سے ایک دعا یہ ہے : "اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اس طرح دوری ڈال دے، جس طرح تونے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک صاف کر دے، جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے دھودے، برف کے ساتھ، پانی کےساتھ اور اولوں کے ساتھ"۔ آپ اللہ عز و جل سے دعا کرتے کہ وہ آپ کو گناہوں میں ملوث ہونے سے بچانے کے لیے آپ کے اور آپ کے درمیان اتنی دوری بنا دے کہ دونوں ایک دوسرے سے مل نہ سکيں۔ جیسے کہ مشرق اور مغرب کبھی آپس میں مل نہیں سکتے۔ اور اگر اس میں ملوث ہو بھی جائيں، تو ان سے آپ کو ایسے صاف ستھرا کر دے کہ جیسے سفید کپڑے سے میل کچیل کو دھو کر صاف ستھرا کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح آپ کو پانی، برف اور اولہ جیسی ٹھنڈی چیزوں کے ذریعے گناہوں سے دھو دے اور گناہوں کی تپش اور گرمی کو ٹھنڈا کر دے۔

فوائد
  1. دعائے استفتاح پست آواز میں پڑھی جائے گی خواہ نماز جہری ہی کیوں نہ ہو۔
  2. صحابہ رضي الله عنهم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرکات وسکنات کو جاننے کی حرص رکھتے تھے۔
  3. دعائے استفتاح کے اور بھی صیغے وارد ہوئے ہيں۔ بہتر یہ ہے کہ انسان اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے وارد اور ثابت استفتاح کی دعاؤں کو یاد کرلے اور کبھی اسے پڑھے تو کبھی اسے۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 149) (744). صحيح مسلم (1/ 419) (598). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 118). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص143). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (2/ 186).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا ہرگز نہ چھوڑنا : اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ۔ (اے اللہ! اپنا ذکر کرنے، شکر کرنے اور بہتر انداز میں اپنی عبادت کرنے میں میری مدد فرما۔)

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضي الله عنه: أَنَّ رَسُولَ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ، وَقَالَ: «يَا مُعَاذُ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ»، فَقَالَ: «أُوصِيكَ يَا مُعَاذُ لَا تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ تَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ».
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : "اے معاذ! اللہ کی قسم، میں تم سے محبت رکھتا ہوں"۔ آگے فرمایا : "اے معاذ! میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا ہرگز نہ چھوڑنا : اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ۔ (اے اللہ! اپنا ذکر کرنے، شکر کرنے اور بہتر انداز میں اپنی عبادت کرنے میں میری مدد فرما۔)
رواه أبو داود والنسائي وأحمددرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ان سے فرمایا : اے معاذ! میں تم سے محبت رکھتا ہوں اور وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا ہرگز نہ چھوڑنا : (اللهم أَعِنّي على ذكرك) یعنی اے اللہ! طاعت گزاری سے قریب کرنے والے ہر قول و عمل میں تیرا ذکر کرنے، (وشُكْرِك) نعمتیں حاصل ہونے اور نقمتیں زائل ہونے پر تیرا شکر ادا کرنے، (وحُسْن عبادتك) اور اخلاص و اتباع نبوی کے مطابق بہتر انداز میں اللہ کی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔

فوائد
  1. کسی انسان کو یہ بتانا مشروع ہے کہ وہ اس سے اللہ کی خاطر محبت رکھتا ہے۔
  2. ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا پابندی سے پڑھنا مستحب ہے۔
  3. ان چند الفاظ میں جو دعا سکھائی گئی ہے، اس میں دنیا و آخرت کے تمام مطالب سمٹ آئے ہیں۔
  4. محبت جب اللہ کی خاطر ہو، تو انسان ایک دوسرے کو حق کی وصیت کرتا ہے، ایک دوسرے کی خیرخواہی کرتا ہے اور نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرتا ہے۔
  5. طیبی کہتے ہیں : اللہ کا ذکر انشراح صدر کا پیش خیمہ ہے اور اس کا شکر مزید نعمتوں کے حصول کا سبب ہے۔ جب کہ حسن عبادت سے مطلوب ایسی تمام چیزوں سے دست کش ہو جانا ہے، جو انسان کو اللہ کے ذکر سے غافل کر دیں۔
حوالہ

سنن أبي داود (2/ 630) (1522). سنن النسائي (3/ 53) (1303). مسند أحمد (36/ 429) (22119). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 450). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص259). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 264). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (6/ 284). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 353).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ"۔ (اے اللہ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں اور تیرے عفو و کرم کے ذریعے تیری سزا سے پناہ مانگتا ہوں اور تیری ذات کے ذریعے تیرے قہر وغضب سے پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیری تعریف کا شمار نہیں کر سکتا۔ تو ویسا ہی ہے، جیسا تو نے خود اپنی تعریف کى ہے۔

عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ الْفِرَاشِ فَالْتَمَسْتُهُ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى بَطْنِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ، وَهُوَ يَقُولُ: «اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: مجھے ایک رات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم بستر پر نہيں ملے۔ ڈھونڈنا شروع کیا، تو میرے ہاتھ آپ کے پیروں کے تلووں سے جا لگے۔ آپ مسجد میں (سجدے کی حالت میں) تھے اور آپ کے دونوں قدم کھڑے تھے۔ آپ فرما رہے تھے: "اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ"۔ (اے اللہ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں اور تیرے عفو و کرم کے ذریعے تیری سزا سے پناہ مانگتا ہوں اور تیری ذات کے ذریعے تیرے قہر وغضب سے پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیری تعریف کا شمار نہیں کر سکتا۔ تو ویسا ہی ہے، جیسا تو نے خود اپنی تعریف کى ہے۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے بغل میں سوئی ہوئی تھی کہ رات میں آپ بستر پر نہیں ملے۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے حجرے کی اس جگہ کو ٹٹولا، جہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نماز پڑھا کرتے تھے، تو پایا کہ آپ سجدے کی حالت میں ہیں، آپ کے دونوں قدم کھڑے ہيں اور کہہ رہے ہیں: "اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ". یعنی اے اللہ! مجھے تیری رضا چاہیے۔ میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ تو مجھ پر یا میری امت پر ناراض ہو جائے۔ "وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ"۔ میں تیرے بے پایاں عفو و درگزر کے ذریعہ تیری سزا سے پناہ مانگتا ہوں۔ "وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ". میں تیری صفات جمالی کے وسیلے سے تیری صفات جلالی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ کیوں کہ تجھ سے پناہ بس تو ہی دے سکتا ہے۔ اللہ کے دربار کے علاوہ نہ کوئی بچ کر نکلنے کی جگہ ہے اور نہ کوئی پناہ گاہ۔ "لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ"۔ میں ہزار کوشش کے باوجود تیری ان نعمتوں اور احسانات کو کما حقہ شمار نہيں کر سکتا، جن سے تونے مجھے نواز رکھا ہے۔ "أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ"۔ تو ویسا ہی ہے، جیسا تونے اپنی تعریف کرتے ہوئے اپنے بارے میں بتایا ہے۔ تونے اپنی تعریف اپنے شایان شان انداز میں کی ہے۔ تیری تعریف کا حق دوسرا کوئی ادا کر نہیں سکتا۔

فوائد
  1. سجدے میں ان دعاؤں کو پڑھنا مستحب ہے۔
  2. میرک کہتے ہيں: نسائی کی ایک روایت میں ہے: آپ یہ دعا اس وقت کرتے، جب نماز سے فارغ ہو جاتے اور بستر پر چلے جاتے۔
  3. اللہ تعالی کی صفات کے ذریعہ اللہ کی حمد وثنا بیان کرنا اور کتاب وسنت سے ثابت شدہ اسمائے گرامی کے ذریعہ اللہ سے دعا کرنا مستحب ہے۔
  4. رکوع و سجود میں خالق کی تعظیم کرنے کی مشروعیت۔
  5. جس طرح اللہ پاک وبرتر کی ذات کے ذریعہ پناہ طلب کرنا جائز ہے، اسی طرح اللہ تعالی کی صفات کے ذریعہ پناہ طلب کرنا بھی جائز ہے۔
  6. خطابی کہتے ہیں: اس دعا کے اندر ایک باریک نکتہ موجود ہے۔ نکتہ یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ سے اس کی ناراضگی سے اس کی رضا کی پناہ مانگی ہے اور اس کی سزا سے اس کے عفو ودرگزر کی پناہ مانگی ہے۔ رضا اور ناراضگی دونوں ایک دوسرے کی ضد ہيں۔ اسی طرح عفو ودرگزر اور سزا بھی ایک دوسرے کی ضد ہيں۔ لیکن جب آپ نے ایسی ہستی کا ذکر کیا، جس کی کوئی ضد نہيں ہے، یعنی اللہ سبحانہ و تعالی کا ذکر کیا، تو بس اسی کی پناہ مانگی۔ کسی اور کی نہيں۔ مطلب یہ کہ اللہ کی کما حقہ عبادت اور اس کی تعریف میں ہونے والی کوتاہی سے مغفرت طلب کی گئی ہے۔ دعا کے الفاظ "لا أحصي ثناء عليك" کے معنی ہیں: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا اور یہ میرے بس کا کام نہيں ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 352) (486). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص781). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 510). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين 2/ 979). طريق الهجرتين وباب السعادتين، لابن قيم الجوزية (ص136).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے {جب اللہ کى مدد آجائے اور فتح} [النصر: 1] نازل ہونے کے بعد جب بھی کوئی نماز پڑھی، تو اس کے اندر یہ دعا ضرور پڑھی : "آپ اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ جائیے اس کى حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت طلب کیجئے"۔

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاَةً بَعْدَ أَنْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالفَتْحُ} [النصر: 1] إِلَّا يَقُولُ فِيهَا: «سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي». وعَنْها قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: «سُبْحَانَكَ اللهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللهُمَّ اغْفِرْ لِي» يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ.
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے {جب اللہ کى مدد آجائے اور فتح} [النصر: 1] نازل ہونے کے بعد جب بھی کوئی نماز پڑھی، تو اس کے اندر یہ دعا ضرور پڑھی : "آپ اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ جائیے اس کى حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت طلب کیجئے"۔ انہی سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع و سجود میں کثرت سے یہ دعا پڑھا کرتے تھے: "آپ اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ جائیے اس کى حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت طلب کیجئے"۔ آپ ﷺ دراصل ایسا کر کے قرآن کے اندر دیے گئے حکم کی تعمیل کرتے تھے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اس حدیث میں بیان فرما رہی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ پر {جب اللہ کى مدد آجائے اور فتح} نازل فرمائی، تو فورا اللہ تعالیٰ کے حکم (آپ اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ جائیے اس کى حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت طلب کیجئے) کی تعمیل میں لگ گئے۔ چنانچہ آپ نماز کے اندر رکوع اور سجدے میں کثرت سے "سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي" پڑھتے تھے۔ «سبحانك» "میں تیرى پاکى بیان کرتا ہو اور تجھ کو منزہ قرار دیتا ہوں ہر کمى سے اور کمى تیرے شایان شان نہیں ہے، «اللهم ربنا وبحمدك» "اے اللہ ہمارے رب! تیرى بہترین تعریف وثنا کے ساتھ کیوں کہ تیرى ذات، تیرى صفات اور تیرے افعال سب کمال کے اعلى درجہ پر ہیں"، «اللهم اغفر لي» "اے اللہ میرے گناہوں کو مٹادے اور ان سے درگزر فرما"۔

فوائد
  1. رکوع اور سجدے میں یہ دعا کثرت سے پڑھنا مستحب ہے۔
  2. آخرى عمر میں استغفار کرنے میں یہ راز پنہاں ہے کہ عبادتوں، اور بطور خاص نماز کا اختتام استغفار پر ہونا چاہیے، تاکہ ان کے اندر رہ جانے والی کمیوں کا تدارک ہو جائے۔
  3. قبولیت دعا کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے سب سے بہترین وسیلہ یہ ہے کہ اس کی حمد کی جائے، اس کى پاکى کو بیان کیا جائے اور نقائص و عیوب سے اس کو منزه قرار ديا جائے۔
  4. استغفار کی فضیلت اور ہر حال میں مغفرت طلب کرنا۔
  5. نبی کریم ﷺ عبودیت اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کی بجا آوری کے درجۂ کمال پر فائز تھے۔
حوالہ

صحيح البخاري (6/ 178) (4968، 4967). صحيح مسلم (1/ 350-351) (484). تيسير العلام، للبسام (ص214). تنبيه الأفهام، للعثيمين (2/ 278). الإفهام في شرح عمدة الأحكام، لابن باز (ص263). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 176). خلاصة الكلام، فيصل المبارك (ص97).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے پاس آئے تو ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! ہم یہ تو جان گئے ہیں کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں، لیکن (یہ نہيں معلوم کہ) ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ، فَقَالَ: أَلاَ أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً؟ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: «فَقُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ».
عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہا کہ کیا میں تمھیں ایک تحفہ نہ دوں؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے پاس آئے تو ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! ہم یہ تو جان گئے ہیں کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں، لیکن (یہ نہيں معلوم کہ) ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ نے فرمایا : "تم کہو : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ"۔ (اے اللہ ! محمد (ﷺ) پر اپنی رحمت نازل کر اور آل محمد (ﷺ)پر، جیسا کہ تو نے آل ابراہیم پر رحمت نازل کی ہے۔ بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے۔ اے اللہ ! محمد (ﷺ) پر اور آل محمد (ﷺ) پر برکت نازل کر، جیسا کہ تو نے آل ابراہیم پر برکت نازل کی ہے۔ بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے۔)
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

صحابہ رضی اللہ عنہم کو جب پتہ ہو گیا کہ التحیات میں "السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته..." کہہ کر آپ پر سلام بھیجا جائے گا، تو آپ سے پوچھا کہ آپ پر درود کیسے بھیجا جائے؟ جواب میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو آپ پر درود بھیجنے کا طریقہ بتا دیا، جو کچھ اس طرح ہے : "اللهم صلِّ على محمدٍ وعلى آل محمد" یعنی: اے اللہ! مقرب فرشتوں کے سامنے محمد صلی اللہ علیہ و سلم، آپ کے دین کے پیروکاروں اور آپ کے اہل ایمان رشتے داروں کی ذکر جمیل کے ذریعے تعریف کر۔ "كما صلَّيتَ على آل إبراهيم" جس طرح آل ابراہیم یعنی ابراہیم، اسماعیل، اسحاق اور ان کی مومن اولاد و متبعین کو تونے یہ اعزاز بخشا ہے، اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو بھی اس اعزاز سے سرفراز فرما۔ "إنك حميد مجيد" یعنی تو اپنی ذات، صفات اور افعال میں قابل تعریف اور بے پناہ عظمتوں، بلند شان و شوکت اور بیش بہا نوازشوں والا ہے۔ "اللهم بارك على محمدٍ وعلى آل محمد كما باركتَ على آل إبراهيم" یعنی آپ کو بڑی خیر و عزت عطا فرما، اس میں اضافہ فرما اور اسے قائم و دائم رکھ۔

فوائد
  1. سلف ایک دوسرے کو علمی مسائل کا ہدیہ پیش کیا کرتے تھے۔
  2. نماز کے آخری تشہد میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنا واجب ہے۔
  3. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو درود وسلام بھیجنے کی تعلیم دی۔
  4. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنے کے یہ کلمات کامل ترین کلمات ہیں۔
حوالہ

صحيح البخاري (8/ 77) (6357). صحيح مسلم (1/ 305) (406). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص208). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (2/ 270). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 170).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نہايت ہی پاک، بڑا مقدس ہے فرشتوں اور جيريل عليہ السلام کا رب

عن عائشة رضي الله عنها أنّ رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم كانَ يقول في ركوعه وسجودِه: «سبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ المَلاَئِكَةِ وَالرُّوحِ».
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع وسجود میں ”سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوحِ“ (نہايت ہی پاک، بڑا مقدس ہے فرشتوں اور جيريل عليہ السلام کا رب) پڑھا کرتے تھے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے روايت ہے کہ بے شک اللہ کے رسول ﷺ اپنے رکوع اورسجدوں ميں ”سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوحِ“ پڑھا کرتے تھے يعني اے اللہ تو نہايت ہی پاک، بڑا مقدس ہے۔ یہ پاکی بیان کرنے میں مبالغہ ہے، اور یہ کہ اللہ جل وعلا بہت ہی پاکیزہ اور انتہائی مقدس ہے۔ ”فرشتوں کا رب ہے“ فرشتے اللہ کی ايسی فوج ہیں جن کا ہم مشاہدہ نہيں کرتے اور ”روح“ سے مراد جيريل عليہ السلام ہیں جو کہ فرشتوں ميں سب سے افضل ہيں۔ لھٰذا انسان کو چاہيے کہ اپنے رکوع اور سجود ميں کثرت سے ”سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوحِ“ پڑھے۔ ”قُدُّوسٌ“ اللہ رب العزت کے اچھے ناموں ميں سے ايک ہے جو کہ قدَّسَ سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے: اس نے اللہ رب العالمين کی تعظيم اور بڑائی کے ساتھ اسے ہر طرح کی برائی سے پاک قرار ديا اسی طرح ”سُبُّوحٌ“ بھی اللہ کے اچھے ناموں ميں سے ہے اور اس کا معنی ہے جس کی پاکی بيان کی جائے۔

حوالہ

شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426هـ. رياض الصالحين، للنووي، تحقيق: ماهر الفحل، دار ابن كثير - بيروت، الطبعة الأولى 1428هـ - 2007م. صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين, مؤسسة الرسالة, الطبعة الرابعة عشر, 1407هـ. كنوز رياض الصالحين، نشر: دار كنوز إشبيليا، الطبعة الأولى، 1430هـ - 2009م. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ. شرح أسماء الله الحسنى في ضوء الكتاب والسُّنَّة، للقحطاني، الناشر: مطبعة سفير، الرياض، توزيع: مؤسسة الجريسي للتوزيع والإعلان، الرياض. صفات الله عز وجل الواردة في الكتاب والسنة، علوي بن عبد القادر السَّقَّاف، دار الهجرة، الطبعة الثالثة، 1426 هـ - 2006 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی ﷺ ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہا کرتے تھے۔

عَنْ ‌أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: كَانَ ‌ابْنُ الزُّبَيْرِ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ حِينَ يُسَلِّمُ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، ‌وَلَا ‌نَعْبُدُ ‌إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ» وَقَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ».
ابو الزبیر کہتے ہيں : عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہر نماز کے وقت سلام پھیرنے کے بعد یہ دعا پڑھتے : ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ وَلَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ“ (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قدرت صرف اللہ کی توفیق سے ملتی ہے۔ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں، ہر نعمت کا مالک وہی ہے اور سارا فضل اسی کی ملکیت ہے اور اسی کے لیے بہترين تعريف ہے۔ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، ہم خالص اسی کی عبادت کرنے والے ہیں، اگرچہ کافر ناپسند کریں۔) وہ فرماتے: نبی ﷺ ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہا کرتے تھے۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہر فرض نماز سے سلام پھیرنے کے بعد اس عظیم ذکر کے ذریعے اللہ کی پاکی بیان کرتے تھے، جس کے معنی ہیں: "لا إله إلا الله" : اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ہے۔ "وحده لا شريك له" : وہ اکیلا ہے اور الوہیت، ربوبیت اور اسما و صفات میں اس کا کوئی شریک نہيں ہے۔ "له الملك" : اسی کے لیے مطلق، عام، ہمہ گیر اور وسیع بادشاہت ہے۔ آسمانوں، زمین اور ان کے بیچ کی ساری چیزوں کی بادشاہت۔ "وله الحمد" : وہ کمال مطلق کے وصف سے متصف ہے۔ اس کا کمال‘ محبت اور تعظیم کے ساتھ ہر حال میں بیان کیا جائے گا۔ خوشی میں بھی اور غمی میں بھی۔ "وهو على كل شيء قدير" : اس کی قدرت ہر اعتبار سے مکمل اور تام ہے۔ اسے کوئی بے بس نہیں کر سکتا۔ ایسا کوئی کام نہيں، جو وہ نہ کر سکے۔ "لا حول ولا قوة إلا بالله" : ایک حالت سے دوسری حالت میں جانے اور اللہ کی نافرمانی کی راہ کو چھوڑ کر اس کی فرماں برداری کی راہ اپنانے کی طاقت اللہ کی توفیق کے بغیر کسی کے پاس نہيں ہے۔ وہی اصل مددگار ہے اور اسی پر سارا بھروسہ ہے۔ "لا إله إلا الله، ولا نعبد إلا إياه" : اس بات کی تاکید کہ بس اللہ ہی عبادت کے لائق ہے، اس کا کوئی شریک نہيں ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ "له النعمة وله الفضل" : وہی نعمتیں پیدا کرتا ہے اور وہی نعمتوں کا مالک ہے۔ وہ اپنے جس بندے کو چاہتا ہے اپنے فضل و کرم سے نعمتیں عطا کرتا ہے۔ "وله الثناء الحسن" : اسی کی اچھی تعریف ہے ہر حال میں، اس کی ذات، صفات، افعال اور نعمتوں پر۔ "لا إله إلا الله، مخلصين له الدين" ہم خالص طور پر اسی کی عبادت کرتے ہيں۔ اللہ کی عبادت کو ریا اور شہرت طلبی کی آلائشوں سے پاک رکھتے ہيں۔ "ولو كره الكافرون": ہم اللہ کو ایک ماننے اور اس کی عبادت کرنے کی روش پر ثابت قدم رہيں گے، چاہے کافروں کو برا ہی کیوں نہ لگے۔

فوائد
  1. ہر فرض نماز کے بعد اس ذکر کی پابندی کرنا مستحب ہے۔
  2. ایک مسلمان اپنے دین پر فخر کرتا اور اس کے شعائر کا بر ملا اظہار کرتا ہے، چاہے کافروں کو برا ہی کیوں نہ لگے۔
  3. جب حدیث کے اندر "دُبر الصلاة" (نماز کے بعد) کے الفاظ آئيں اور حدیث میں جس چیز کا ذکر ہوا ہو وہ ذکر ہو، تو اصلا اس سے مراد سلام پھیرنے کے بعد ہوگا۔ لیکن اگر وہ دعا ہو، تو مراد سلام پسے پہلے ہوگا۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 415) (594). سبل السلام شرح بلوغ المرام، للصنعاني (1/ 293). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (17/ 61). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخِن وغيره (2/ 973). بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (2/ 499). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (2/ 762). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 492).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
23 میں سے 8
23 احادیث
  1. اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، جہنم کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے فتنے سے
  2. ’’میں کہتا ہوں: اللھم باعد بینی وبین خطایاي کما باعدت بین المشرق والمغرب
  3. میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا ہرگز نہ چھوڑنا : اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ۔ (اے اللہ! اپنا ذکر کرنے، شکر کرنے اور بہتر انداز میں اپنی عبادت کرنے میں میری مدد فرما۔)
  4. اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ"۔ (اے اللہ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں اور تیرے عفو و کرم کے ذریعے تیری سزا سے پناہ مانگتا ہوں اور تیری ذات کے ذریعے تیرے قہر وغضب سے پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیری تعریف کا شمار نہیں کر سکتا۔ تو ویسا ہی ہے، جیسا تو نے خود اپنی تعریف کى ہے۔
  5. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے {جب اللہ کى مدد آجائے اور فتح} [النصر: 1] نازل ہونے کے بعد جب بھی کوئی نماز پڑھی، تو اس کے اندر یہ دعا ضرور پڑھی : "آپ اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ جائیے اس کى حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت طلب کیجئے"۔
  6. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے پاس آئے تو ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! ہم یہ تو جان گئے ہیں کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں، لیکن (یہ نہيں معلوم کہ) ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟
  7. نہايت ہی پاک، بڑا مقدس ہے فرشتوں اور جيريل عليہ السلام کا رب
  8. نبی ﷺ ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہا کرتے تھے۔
  9. ”نماز کے بعد کی کچھ ایسی دعائیں ہیں کہ انھیں ہر فرض نماز کے بعد پڑھنے والا یا انہیں بجا لانے والا (ثواب سے یا بلند درجوں سے) محروم نہیں ہوتا۔ (اور وہ یہ ہیں) تینتیس بار سبحان اللہ اور تینتیس بار الحمدللہ اور چونتیس بار اللہ اکبر کہنا۔“
  10. اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے گنا ہوں کی مغفرت فرما اور مجھ سے جو زیادتی ہوئی ہو ان سے اور ان سب باتوں سے درگزر فرما جن کو تو مجھ سے زیادہ جا ننے والا ہے، تو ہی آگے بڑھانے والا اور پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں۔
  11. میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (نماز پڑھنے کے لیے) کھڑا ہوا۔ چنانچہ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور سورۃ البقرۃ پڑھی۔ آپ ﷺ جب کسی رحمت والی آیت سے گزرتے تو ٹھہر کر رحمت طلب کرتے اور جب کسی عذاب والی آیت سے گزرتے تو ٹھہر کر پناہ مانگتے۔
  12. اے اللہ! جبریل ومیکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمان اور زمین کے پیدا کر نے والے! غیب اور ظاہر کے جا ننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، فیصلہ فرمائے گا، جن چیزوں میں اختلاف ہے، ان میں اپنی منشاء سے حق کی طرف میری رہنمائی فرما۔ بے شک تو جسے چاہتا ہے اُسے سیدھی راہ دکھلا دیتا ہے۔
  13. رسول اللہﷺ جب رات کو قیام اللیل کے لیے کھڑے ہوتے، تو تکبیر تحریمہ کہتے، پھر”سُبْحَانك اللَّهم وبحَمْدِك وتبارك اسْمُك، وتعالى جَدُّك، ولا إله غَيْرَك“ پڑھتے۔
  14. اس نے اپنے ہاتھ خیر سے بھر لیے ہیں۔
  15. رسول اللہ ﷺ کی نماز آپ کا رکوع کرنا، رکوع سے سر اٹھانا اور سجدہ کرنا، نیز دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا۔
  16. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھا کرتے تھے : "اللَّهمَّ اغْفِرْ لي، وارْحَمْنِي، وعافِني، واهْدِني، وارزقْنِي"۔ (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر، مجھے عافیت دے، میری رہ نمائی فرما اور مجھے رزق عطا کر۔)
  17. رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد یوں سکھاتے تھے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔
  18. اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
  19. جو شخص ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ اور تینتیس مرتبہ اللہ اکبر کہے، تو یہ کل ننانوے مرتبہ ہوا اور سو کی عدد پورا کرتے ہوئے ‘‘لا إله إلا الله وحْدَه لا شريك له له المُلك وله الحَمد وهو على كلِّ شيء قَدِير’’ (اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہيں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے) کہے، تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کی طرح ہوں"۔
  20. جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی، اس کو جنت میں داخل ہونے سے موت کے سوا اور کوئی چیز روک نہيں سکتی۔
  21. ان دونوں نے سچ کہا تھا۔ ان کو ایسا عذاب ہوتا ہے کہ اسےسب مویشی بھی سنتے ہیں.
  22. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رکوع سے پیٹھ اٹھاتے، تو یہ دعا پڑھتے : "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ
  23. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com