جو شخص ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ اور تینتیس مرتبہ اللہ اکبر کہے، تو یہ کل ننانوے مرتبہ ہوا اور سو کی عدد پورا کرتے ہوئے ‘‘لا إله إلا الله وحْدَه لا شريك له له المُلك وله الحَمد وهو على كلِّ شيء قَدِير’’ (اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہيں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے) کہے، تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کی طرح ہوں"۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جو شخص ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ اور تینتیس مرتبہ اللہ اکبر کہے، تو یہ کل ننانوے مرتبہ ہوا اور سو کی عدد پورا کرتے ہوئے ‘‘لا إله إلا الله وحْدَه لا شريك له له المُلك وله الحَمد وهو على كلِّ شيء قَدِير’’ (اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہيں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے) کہے، تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کی طرح ہوں"۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس نے فرض نماز سے فارغ ہونے کے بعد ان اوراد کا اہتمام کیا :
تینتیس بار سبحان اللہ۔ اس کے ذریعے تمام نقائص سے اللہ کے پاک ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے۔
تینتیس بار "الحمد لله"۔ اس کے ذریعے اللہ تعالی کو اس کی محبت اور تعظیم کے ساتھ اوصاف کمال سے متصف کیا جاتا ہے۔
تینتیس بار اللہ اکبر۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تمام چيزوں سے عظیم اورسب سے بڑھ کر شان والا ہے۔
اور سو کی گنتی پوری کرنے کے لیے کہا جائے گا : "لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شيء قدير"۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہيں، بس وہی اکیلے مکمل بادشاہت رکھتا ہے اور تمام تعریفات کا وہی مستحق ہے، وہ قادر مطلق ہے، اسے کوئی چیز عاجز و بے بس نہيں کر سکتی۔
جس نے اس ذکر کا اہتمام کیا، اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہيں اور مٹادیے جاتے ہیں، چاہے وہ سمندر میں موجوں اور لہروں کے وقت ظاہر ہونے والے سفید جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
فوائد
فرض نمازوں کے بعد اس ذکر کو پڑھنا مستحب ہے۔
یہ ذکر گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے۔
اللہ کا عظیم فضل و کرم اور رحمت و مغفرت۔
یہ ذکر گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے۔ یاد رہے کہ اس سے صغیرہ گناہ ہی معاف ہوتے ہيں۔ کبیرہ گناہ کے لیے توبہ ضروری ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 418) (597).
سبل السلام شرح بلوغ المرام، لمحمد الصنعاني (1/ 295 ).
توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، للبسام (2/ 304).
فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (2/ 182).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com