سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ

عن ثَوْبَانَ رضي الله عنه قال: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا، وَقَالَ: «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ»، قَالَ الْوَلِيدُ: فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ: كَيْفَ الْاسْتِغْفَارُ؟ قَالَ: تَقُولُ: أَسْتَغْفِرُ اللهَ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ.
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب نماز ختم کرتے تو تین بار بخشش طلب کرتے اور اس کے بعد فرماتے : "اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ"۔ (اے اللہ تو سلامتی والا ہے اور تیری ہی جانب سے سلامتی حاصل ہوتی ہے۔ تو برکت والا ہے اے صاحب جلال و اکرام!) ولید کہتے ہیں کہ میں نے اوزاعی سے پوچھا کہ بخشش کیسے طلب کی جائے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ تم "استعفر اللہ استغفر اللہ" کہہ لیا کرو۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب نماز ختم کرتے، تو "أستغفر الله، أستغفر الله، أستغفر الله." کہتے۔ اس کے بعد اپنے رب کی عظمت بیان کرتے ہوئے کہتے : "اللَّهمَّ أنتَ السَّلامُ، ومنْكَ السَّلامُ، تباركْتَ ذا الجَلالِ والإكرامِ۔" یعنی اللہ اپنی صفات میں سالم و کامل ہے، ہر عیب و نقص سے پاک ہے، دنیا و آخرت کی تمام برائیوں سے سلامتی اسی سے مانگی جائے گی، دونوں جہان میں اس کی بھلائیوں کی بہتات ہے اور وہ صاحب عظمت و احسان ہے۔

فوائد
  1. نماز کے بعد استغفار کرنا اور اس عمل پر ہمیشگی برتنا مستحب ہے۔
  2. عبادت میں رہ جانے والی کمیوں اور کوتاہیوں کے تدارک کے لیے اللہ سے بخشش طلب کرنا مستحب ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 414) (591). مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعبيد الله المباركفوري (3/ 317). سبل السلام، للصنعاني (1/ 294). توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، لعبد الله البسام (2/ 301).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نماز کے اذکار

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com