رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد یوں سکھاتے تھے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔
عن ابن عباس رضي الله عنهما ، أنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا التشهد كما يعلمنا السورة من القرآن فكان يقول: «التحيَّات المباركات، الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لله، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وَبَرَكَاتُهُ، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، أشهد أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وأشهد أنَّ محمَّدا رسول الله» وفي رواية ابن رُمْحٍ كما يُعلِّمنا القرآن.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد یوں سکھاتے تھے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے، آپ فرمایا کرتے تھے: ”التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ“۔ بقا و بادشاہت، عظمت و اختیارات، کثرتِ خیر اور ساری بابرکت دعائیں اورساری پاکیزہ نمازیں اللہ کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں۔
ابن رمح کی روایت میں ہے کہ جس طرح آپ ﷺ ہمیں قرآن سکھاتے تھے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
حدیث شریف کلماتِ تشہد کو بیان کرتی ہے اور یہ کہ نبی ﷺ صحابہ کو اسی اہتمام کے ساتھ تشہد سکھاتے تھے جس اہتمام سے آپ انہیں قرآن مجید کی آیتیں سکھاتے تھے،تشہد کے الفاظ یہ ہیں: ”التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ“، تشہد کے یہ الفاظ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی مشہور کلماتِ تشہد کے قریب تر ہیں،فرق صرف ”المبارکات“ کے لفظ کی زیادتی اور اس کے بعد دونوں کلمات میں ”واو“ کے حذف کا ہے۔ تشہد کے سلسلہ میں وارد مختلف صیغوں کو پڑھنے میں تنوع اپنانا مشروع ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، بدون طبعة، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت، بدون تاريخ.
توضيح الأحكام من بلوغ المرام، عبدالله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة، ط الخامسة 1423هـ.
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، ط 1، 1427هـ، دار ابن الجوزي.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com