سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی، اس کو جنت میں داخل ہونے سے موت کے سوا اور کوئی چیز روک نہيں سکتی۔

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ إِلَّا أَنْ يَمُوتَ».
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی، اس کو جنت میں داخل ہونے سے موت کے سوا اور کوئی چیز روک نہيں سکتی۔"
رواه النسائي في الكبرىدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خبر دی ہے کہ جس نے فرض نماز ادا کرنے کے بعد آیۃ الکرسی پڑھی، اسے موت کے علاوہ کوئی چيز جنت میں جانے سے روک نہیں سکتی۔ آیۃ الکرسی سے مراد سورۂ بقرہ کی یہ آیت ہے : "اللہ تعالیٰ ہی وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻ ہے، جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے؟ وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے۔ اس کی کرسی کی وسعت نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاﻇت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے۔ وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔" [سورۂ بقرہ : 255]

فوائد
  1. اس عظیم آیت کی فضیلت، جو اللہ کے اچھے اچھے ناموں اور بلند صفات پر مشتمل ہے۔
  2. اس عظیم آیت کو ہر فرض نماز کے بعد پڑھنا مستحب ہے۔
  3. اچھے اعمال دخول جنت کا سبب ہيں۔
حوالہ

المعجم الكبير، للطبراني السنن الكبرى، للنسائي (9/ 44) (9848). توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام (2/ 313). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (3/ 197).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نماز کے اذکار

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com