میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (نماز پڑھنے کے لیے) کھڑا ہوا۔ چنانچہ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور سورۃ البقرۃ پڑھی۔ آپ ﷺ جب کسی رحمت والی آیت سے گزرتے تو ٹھہر کر رحمت طلب کرتے اور جب کسی عذاب والی آیت سے گزرتے تو ٹھہر کر پناہ مانگتے۔
عن عوف بن مالك الأشجعي رضي الله عنه قال: قمتُ مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلةً، فقام فقرأ سورةَ البقرة، لا يَمُرُّ بآية رحمةٍ إلا وقفَ فسأل، ولا يَمُرُّ بآية عذابٍ إلَّا وقف فتعوَّذ، قال: ثم ركع بقَدْر قيامِه، يقول في ركوعه: «سُبحانَ ذي الجَبَروتِ والملَكوتِ والكِبرياءِ والعَظَمةِ»، ثم سجد بقَدْر قيامه، ثم قال في سجوده مثلَ ذلك، ثم قام فقرأ بآل عمران، ثم قرأ سورةً سورةً.
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (نماز پڑھنے کے لیے) کھڑا ہوا۔ چنانچہ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور سورۃ البقرۃ پڑھی۔ آپ ﷺ جب کسی رحمت والی آیت سے گزرتے تو ٹھہر کر رحمت طلب کرتے اور جب کسی عذاب والی آیت سے گزرتے تو ٹھہر کر پناہ مانگتے۔ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے بقدر قیام رکوع کیا اور آپ ﷺ اپنے رکوع میں فرما رہے تھے: ’’سُبحانَ ذي الجَبَروتِ والملَكوتِ والكِبرياءِ والعَظَمة‘‘ (پاک ہے وہ ذات جو بڑے قہر وغلبے، بڑی بادشاہت، نہایت بڑائی اور بے حد عظمت والی ہے)۔ پھر قیام ہی کے بقدر آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور اپنے سجدے میں بھی آپ ﷺ نے یہی دعا پڑھی۔ پھر آپ ﷺ ( دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوگئے اور سورۂ آل عمران کی تلاوت فرمائی۔ پھر آپ ﷺ نے (بقیہ رکعتوں میں) ایک ایک سورت پڑھی۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ انہوں نے ایک رات رسول اللہ ﷺکے ساتھ نماز تہجد ادا کی۔آپ ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے اور سورۂ بقرہ کی تلاوت فرمائی۔ آپ ﷺ جب کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں رحمت اور جنت کا ذکر ہوتا تو اللہ سے اس کی رحمت اور جنت کا سوال کرتے اور جب کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں عذاب کا ذکر ہوتا ہے تو اللہ کے عذاب سے اس کی پناہ طلب کرتے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے قیام ہی کے بقدر لمبا رکوع کیا اور اپنے رکوع میں آپ ﷺ یہ کہہ رہے تھے: " سُبحانَ ذي الجَبَروتِ والملَكوتِ والكِبرياءِ والعَظَمةِ "۔ یعنی میں پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس ذات کی جو زبردست اور غالب ہے، جو ظاہری وباطنی بادشاہت کا مالک ہے اور بڑائی وعظمت والا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے قیام ہی کے بقدر سجدہ فرمایا اور اپنے سجدے میں وہی دعا پڑھی جو آپ ﷺ نے اپنے رکوع میں پرھی تھی۔ پھر آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر سورۂ آل عمران کی تلاوت فرمائی اور پھرایک ایک سورت کی تلاوت فرمائی۔
حوالہ
مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م.
سنن أبي داود، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، نشر: المكتبة العصرية، صيدا – بيروت.
السنن الصغرى للنسائي "المجتبى"، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، نشر: مكتب المطبوعات الإسلامية – حلب، الطبعة: الثانية، 1406ه – 1986م.
مختار الصحاح، لزين الدين أبو عبد الله محمد بن أبي بكر بن عبد القادر الحنفي الرازي، تحقيق: يوسف الشيخ محمد، نشر: المكتبة العصرية - الدار النموذجية، بيروت – صيدا، لطبعة: الخامسة، 1420هـ / 1999م.
صحيح أبي داود، لمحمد ناصر الدين بن الحاج نوح بن نجاتي بن آدم الأشقودري الألباني، الناشر: مؤسسة غراس للنشر والتوزيع، الكويت، الطبعة: الأولى، 1423 هـ - 2002 م.
المصباح المنير في غريب الشرح الكبير، لأحمد بن محمد بن علي الفيومي، الناشر: المكتبة العلمية – بيروت.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م.
نيل الأوطار، لمحمد بن علي بن محمد بن عبد الله الشوكاني اليمني، تحقيق: عصام الدين الصبابطي، الناشر: دار الحديث، مصر، الطبعة: الأولى، 1413هـ - 1993م.
صفات الله عز وجل الواردة في الكتاب والسنة: علوي بن عبد القادر السَّقَّاف دار الهجرة الطبعة : الثالثة ، 1426 هـ - 2006 م.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com