سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے

عَنْ ‌وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: أَمْلَى عَلَيَّ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فِي كِتَابٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ».
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب ورّاد کہتے ہیں : مغیرہ بن شعبہ نے مجھ سے معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام بھیجے گئے ایک خط میں لکھوایا : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے : "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ۔" (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اسی کی بادشاہت اور اسی کی تعریف ہے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! تو جو کچھ دے، اسے کوئی روکنے والا نہيں ہے اور تو جو روک لے، اسے کوئی دینے والا نہیں ہے۔ کسی صاحب دولت کی دولت تیرے خلاف اس کے کچھ کام نہیں آ سکتی۔)
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ". (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اسی کی بادشاہت اور اسی کی تعریف ہے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! تو جو کچھ دے، اسے کوئی روکنے والا نہيں ہے اور تو جو روک لے، اسے کوئی دینے والا نہیں ہے۔ کسی صاحب دولت کی دولت تیرے خلاف اس کے کچھ کام نہیں آ سکتی۔) یعنی میں کلمۂ توحید لا الہ الا اللہ کا اقرار و اعتراف کرتا ہوں۔ برحق عبادت کو اللہ کے لیے ثابت کرتا ہوں اور کسی دوسرے کے لیے اس کی نفی کرتا ہوں۔ کیوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہيں ہے۔ میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ حقیقی اور مکمل بادشاہت اللہ کی ہے اور آسمان و زمین والوں کی ساری تعریف کا حق دار محض اللہ ہے۔ کیوں کہ وہی ہر بات کی قدرت رکھتا ہے۔ وہ کسی کو کچھ دے یا کسی سے کچھ روک لے، تو اس کے فیصلے کو کوئی ٹال نہيں سکتا۔ اس کے دربار میں کسی صاحب دولت کی دولت و ثروت اس کے کچھ کام نہيں آ سکتی۔ اس کے کام بس اس کی نیکیاں ہی آسکتی ہیں۔

فوائد
  1. توحید اور اللہ کی حمد و ثنا پر مشتمل اس ذکر کو نمازوں کے بعد پڑھنا مستحب ہے۔
  2. سنتوں کی اتباع اور ان کی نشر واشاعت کا کام بلا تاخیر کرنا چاہیے۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 168) (844)، صحيح مسلم (1/ 414) (593)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري (6/ 134)، المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم (2/ 84)، النهاية في غريب الحديث والأثر (ص140)، البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (13/ 181).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نماز کے اذکار

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com