عن عائشة رضي الله عنها قالت: "إن أم حبيبة اسْتُحِيضَتْ سبع سنين، فسألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك؟ فأمرها أن تغتسل، قالت: فكانت تغتسل لكل صلاة".
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو سات سال تک استحاضہ کا خون آیا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ غسل کر لیا کریں، تو وہ ہر نماز کے لئے غسل کرتی تھیں۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے جب رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ استحاضہ میں انہیں کیا کرنا چاہئے تو آپ ﷺ نے انہیں غسل کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ وہ ہر نماز کے لئے غسل کیا کرتی تھیں۔ انہیں سات سال تک استحاضہ کا خون آیا تھا۔
استحاضہ ایک عارضی امر ہے جو کم ہی عورتوں کو لاحق ہوتا ہے۔ اصل تو حیض ہے جو مہینے کے چند گنے چنے دنوں میں آتا ہے اور اس کی کچھ ایسی علامات ہوتی ہیں جسے عورتیں پہچانتی ہیں۔
ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اپنی جانب سے ہی تطوّعاً ہر نماز کے لیے غسل کرلیا کرتی تھیں۔
حوالہ
تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة لأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: "لا يَبُولَنَّ أحَدُكم في الماء الدَّائِم الذي لا يجْرِي، ثمَّ يَغتَسِل مِنه".
وفي رواية: "لا يغتسل أحدكُم في الماء الدَّائم وهو جُنُب".
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں جو بہتا ہوا نہ ہو پیشاب نہ کرے، اور پھر اسی میں غسل کرنے لگے“۔
ایک اور روایت میں ہے کہ (رسول ﷺ نے فرمایا) ”تم میں سے کوئی بھی حالتِ جنابت میں ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نے ایسے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا جو ٹھہرا ہوا ہو اورجاری نہ ہو۔ کیونکہ اس کی وجہ سے یہ نجاست سے آلودہ ہو جاتا ہے۔ وہ امراض جو پیشاب کے بسبب در آ سکتے ہیں ہر اس شخص کو نقصان دے سکتے ہیں جو پانی کو استعمال کرے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خود پیشاب کرنے والا ہی اس پانی کو استعمال کرے اور اس سے غسل کرے۔ چنانچہ اس کے لیے کیسے روا ہے کہ وہ ایسی شے میں پیشاب کرے جو بعد میں اس کے لیے حصولِ طہارت کا ذریعہ ہو گی۔
اسی طرح نبی ﷺ نے جنبی شخص کو ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل کرنے سے منع فرمایا کیونکہ ایسا کرنا پانی کو جنابت کی گندگی سے آلودہ کر دیتا ہے۔
حوالہ
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426 هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
عن عمران بن حصين رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى رجلًا مُعتزلًا، لم يُصَلِّ في القوم، فقال: (يا فلان، ما منعك أن تصلي في القوم؟) فقال: يا رسول الله أصابتني جنابةٌ، ولا مَاءَ، فقال: (عليك بالصَّعِيدِ، فإنه يَكْفِيَكَ).
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو الگ بیٹھا ہوا دیکھا جس نے باجماعت نماز نہیں پڑھی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: اے فلاں ! تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روک دیا؟ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں جنبی ہوگیا تھا اور میں نے پانی نہیں پایا، آپ نے فرمایا: (پانی نہ ملنے پر) تم مٹی استعمال کرتے وہ تمہارے لیے کافی تھی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو صبح کی نماز پڑھائی، نماز سے فراغت کے بعد آپ ﷺ نےایک آدمی کو دیکھا جس نے صحابہ کے ساتھ نماز نہیں ادا کی تھی۔ یہ نبی ﷺ کا کمالِ لطف ومہربانی اور دعوت الی اللہ میں خوش اسلوبی ہی تھی کہ آپ نے اس کے جماعت سے پیچھے رہ جانے پر سختی نہیں برتی یہاں تک کہ تاخیر کی وجہ جان لی۔ آپ نے فرمایا: اے فلاں! کس چیز نے تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا؟ اپنی گمان کے مطابق اس نے اپنا عذر نبی ﷺ کے سامنے پیش کیا کہ اسے جنابت لاحق ہو گئی تھی اور پانی نہیں تھا اس لیے پانی کے ملنے اور طہارت حاصل کرنے تک اس نے نماز کو مؤخر کر دیا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالی نےاپنی لطف ومہربانی سے طہارت حاصل کرنے میں پانی کےقائم مقام ایک چیز رکھی ہے اور وہ مٹی ہے۔ تو تم مٹی کو استعمال کرو کیوں کہ یہ تمہارے لیے پانی کےقائم مقام ہے۔
حوالہ
الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة لأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ مدینہ کے کسی راستے پر ان کی نبی ﷺ سے ملاقات ہو گئی۔ اس وقت وہ جنابت کی حالت میں تھے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں چپکے سے لوٹ گیا اور غسل کر کے واپس آیا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ اے ابوہریرہ! کہاں چلے گئے تھے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں جنابت کی حالت میں تھا چنانچہ مجھے یہ بات ناگوار گزری کہ میں آپ کے ساتھ ناپاکی کی حالت میں بیٹھوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سبحان اللہ! مومن نجس نہیں ہوتا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
مدینہ کے ایک راستے میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی نبی ﷺ سے ملاقات ہوئی۔ اتفاق سے وہ اس وقت جنبی تھے۔ نبی ﷺ کی تعظیم وتکریم کے تقاضے کے تحت انہوں نے ناپسند کیا کہ وہ اس حالت میں آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھیں اور آپ سے گفتگو کریں۔ چنانچہ وہ چپکے سے نبیﷺ کے ہاں سے نکل گئے اور غسل کر کے واپس آئے۔ نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ وہ کہاں چلے گئے تھے؟ انہوں نے آپ ﷺ کو ساری بات بتا دی کہ انہیں اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ وہ آپ ﷺ کے ساتھ ناپاکی کی حالت میں بیٹھیں۔
آپﷺ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس عمل پر تعجب کا اظہار کیا کہ وہ جنبی کو نجس خیال کر رہے تھے چنانچہ اس وجہ سے غسل کرنے چلے گئے۔ آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ:مومن کسی بھی حال میں نجس نہیں ہوتا۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 65) (285).
صحيح مسلم (1/ 282) (371).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 46).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص61).
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (1/ 74).
امّ المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے غسل جنابت کا پانی رکھا اور کپڑے سے پردہ کیا، تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی انڈیل کر ان کو دھویا، پھر اپنے دائيں ہاتھ سے بائيں ہاتھ پر پانی انڈیلا اور اپنی شرم گاہ کو دھویا، پھر اپنا ہاتھ زمین پر مارا، اسے رگڑا اور دھویا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کو دھویا، پھر اپنے سر پر پانی بہایا، پھر پورے بدن کو دھویا، پھر اپنی جگہ سے ہٹ کر کھڑے ہوئے اور اپنے دونوں پیروں کو دھویا۔ اس کے بعد میں آپ کے پاس ایک کپڑا لے کر آئی، تو آپ نے اسے نہيں لیا اور اپنے ہاتھ سے پانی جھاڑنے لگے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے غسل جنابت کا طریقہ بیان کر رہی ہیں۔ ان کا بیان ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے غسل کا پانی رکھا اور ایک کپڑے سے آپ کا پردہ کیا تو آپ نے درج ذیل کام کیے:
1- دونوں ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے ان پر پانی انڈیل کر انہیں دھویا۔
2- دائيں ہاتھ سے بائيں ہاتھ پر پانی انڈیلا اور اپنی شرم گاہ کو دھویا، تاکہ جنابت کے اثر سے صاف ستھری ہو جائے۔
3- اپنا ہاتھ زمین پر مارا، اس سے رگڑا اور گندگی کے ازالے کے لیے ہاتھوں کو دھویا۔
4- کلی کی۔ یعنی منہ میں پانی ڈالا، اسے ہلایا، گھمایا اور پھینک دیا۔ پھر ناک جھاڑی۔ یعنی سانس کے ساتھ ناک کے اندر پانی ڈالا اور باہر نکال دیا، تاکہ صفائی ہو جائے۔
5- چہرے اور دونوں ہاتھوں کو دھویا۔
6- سر پر پانی ڈالا۔
7- باقی جسم پر پانی ڈالا۔
8- اپنی جگہ پر ہٹ کر کھڑے ہوئے اور دونوں قدموں کو دھویا، کیوں کہ ان کو پہلے نہيں دھویا تھا۔
پھر میمونہ رضی اللہ عنہا نے جسم کو خشک کرنے کے لیے ایک کپڑا پیش کیا، تو اسے نہيں لیا۔ اس کی بجائے اپنے ہاتھ سے جسم کا پانی پونچھنے لگے اور ہاتھوں کو جھاڑنے لگے۔
فوائد
ازواج مطہرات نے امت کو سکھانے کے لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی سے جڑی ہوئی چھوٹی سے چھوٹی باتیں بھی بیان کر دیں۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت غسل جنابت کے مکمل طریقوں میں سے یہ ایک طریقہ ہے۔ جب کہ غسل کے لئے کفایت کرنے جانے والا طریقہ بس اتنا ہے کہ اپنے پورے بدن پر پانی بہا لے، کلی کر لے اور ناک جھاڑ لے۔
غسل یا وضو کے بعد جسم کو کپڑے سے پوچھنا یا چھوڑ دینا دونوں جائز ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 63) (276).
صحيح مسلم (1/ 254) (317).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص64).
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (1/ 78).
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب غسل جنابت فرماتے، تو اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتے اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر غسل کرتے، پھر اپنے ہاتھ سے اپنے بال کا خلال کرتے، یہاں تک کہ جب سمجھتے کہ کھال تر ہوگئی ہے، تو اپنے اوپر تین بار پانی بہاتے، پھر پورے جسم کو دھوتے۔ وہ کہتی ہیں: میں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ایک ہی برتن سے ایک ساتھ چلو بھر کر پانی لیتے اور غسل کر لیا کرتے تھے۔
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب غسل جنابت کا ارادہ کرتے، تو سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتے۔ پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے۔ پھر اپنے جسم پر پانی بہاتے۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کے بالوں کا خلال کرتے۔ یہاں تک کہ جب سمجھتے کہ بال کی جڑوں تک پانی پہنچ چکا ہے اور سر کی کھال تر ہو گئی ہے، تو تین بار اپنے سر پر پانی ڈالتے اور اس کے بعد باقی جسم کو دھوتے۔ آگے عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ایک ہی برتن سے وضو کرتے تھے اور ہم دونوں ہاتھ ڈال کر پانی لیتے تھے۔
فوائد
غسل کی دو قسمیں ہیں: کفایت کرنے والا غسل اور کامل غسل۔ کفایت کرنے والا غسل یہ ہے کہ انسان طہارت کی نیت کرے اور پورے جسم پر پانی بہا دے۔ ساتھ ہی کلی بھی کر لے اور ناک بھی جھاڑ لے۔ جب کہ کامل غسل یہ ہے کہ غسل اسی طرح کیا جائے، جس طرح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حدیث میں کرکے دکھایا ہے۔
لفظ جنابت کا استعمال ہر اس شخص پر ہوتا ہے، جس کا انزال ہوا ہو یا جس نے جماع کیا ہو، چاہے انزال نہ بھی ہوا ہو۔
میاں بیوی میں سے ہر ایک کا دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھنے اور دونوں کا ایک برتن سے غسل كرنے كا جواز۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 63) (272، 273).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 48).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص62).
خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص33).
عن أم سلمة رضي الله عنها قالت: «جاءت أمُّ سُلَيمٍ امرأةُ أَبِي طَلحة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، إنَّ الله لا يَسْتَحيِي من الحَقِّ، فهل على المرأة من غُسْلٍ إِذَا هِيَ احْتَلَمَت؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : نعم، إِذَا رَأَت المَاء».
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو طلحہ کی بیوی ام سلیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: یا رسول اللہ! اللہ تعالی حق کو بیان کرنے سے حیا نہیں کرتا۔ آپ یہ بتائیں کہ جب عورت کو احتلام ہو جائے، تو کیا اس پر بھی غسل واجب ہے؟۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں، جب وہ پانی دیکھ لے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
ام سلیم انصاریہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے پاس ایک مسئلہ پوچھنے کے لئے آئیں۔ چونکہ ان کے سوال کا تعلق شرم گاہوں سے تھا جن کے ذکر سے عموما حیاء محسوس کی جاتی ہے اس لئے انہوں نے اپنا سوال رکھنے سے پہلے تمہید باندھی تاکہ سننے والوں پر اس کا اثر کچھ کم ہو جائے۔
کہنے لگیں کہ اللہ عز و جل جو بذات خود حق ہیں، ایسی حق بات کے بیان سے نہیں رکتا جسے ذکر کرنے میں حیاء محسوس کی جاتی ہے جب کہ اس کے بیان میں کوئی فائدہ ہو۔ اس مقدمہ کو ذکر کرنے کے بعد جس سے ان کے سوال کی شدت کم ہو گئی، ام سلیم رضی اللہ عنہا اصل موضوع کی طرف آئیں اور پوچھنے لگیں: اگر عورت خواب میں دیکھے کہ وہ مجامعت کر رہی ہے تو کیا اس پر غسل کرنا واجب ہو جاتا ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ہاں، اس پر غسل واجب ہو جاتا ہےجب کہ وہ شہوت سے نکلنے والے پانی (مادہ منویہ) کو دیکھ لے۔
حوالہ
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم، لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
عن عائشة رضي الله عنها قالت: ((كُنْت أَغْسِلُ الْجَنَابَةَ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَخْرُجُ إلَى الصَّلاةِ، وَإِنَّ بُقَعَ الْمَاءِ فِي ثَوْبِهِ)).
وَفِي رواية: ((لَقَدْ كُنْتُ أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرْكاً، فَيُصَلِّي فِيهِ)).
عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی کو دھو ڈالتی تھی۔ پھر آپ ﷺ نماز کے لیے باہر تشریف لے جاتے؛ حالاںکہ پانی کے دھبے آپ ﷺ کے کپڑے میں موجود ہوتے۔
ایک اور روایت میں ہے: میں رسول الله ﷺ کے کپڑے سے منی کو کھرچ دیتی تھی اور آپ ﷺ اسے پہن کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کر رہی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے کپڑے کو جنابت کی وجہ سے منی لگ جاتی۔ بعض اوقات یہ گیلی ہوتی تو وہ پانی کے ذریعے اسے کپڑے سے صاف کر دیتیں۔ پانی ابھی کپڑے سے سوکھا نہیں ہوتا تھا کہ آپ ﷺ اسی حالت میں نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔ بعض اوقات منی سوکھی ہوتی، اس صورت میں وہ اسے کھرچ کر کپڑے سے اتار دیتیں اور آپ ﷺ اس کپڑے میں نماز پڑھ لیتے۔
حوالہ
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ - 2006م.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ - 2005م.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم-، لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408ه - 1988م.
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com