سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

Rulings of the Ritual Bath

1 احادیث

ہر مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہر سات دن میں ایک دن غسل کرے، جس کے اندر وہ اپنے سر اور جسم کو دھوئے۔

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَغْتَسِلَ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا، يَغْسِلُ فِيهِ رَأْسَهُ وَجَسَدَهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "ہر مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہر سات دن میں ایک دن غسل کرے، جس کے اندر وہ اپنے سر اور جسم کو دھوئے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ ہر بالغ و عاقل مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ طہارت و نظافت حاصل کرنے کے لیے ہر ہفتہ سات دنوں میں ایک دن غسل کرے۔ اس دن وہ اپنے سر اور جسم کو دھوئے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ ان سات دنوں میں سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے، جیسا کہ بعض روایتوں سے سمجھ میں آتا ہے۔ جمعہ کے دن جمعے کی نماز سے پہلے غسل کرنا بالتاکید مستحب ہے۔ کسی نے جمعرات کے دن غسل کر لیا ہو، تب بھی یہ استحباب برقرار رہے گا۔ جمعہ کے دن غسل کرنا واجب نہیں ہے، اس کی دلیل عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول ہے : "لوگ اپنے گھر کے کام کاج خود ہی کرتے تھے اور جب جمعہ کی نماز کے لیے جاتے، تو اسی حالت میں چلے چاتے تھے۔ لہذا ان سے کہا گیا کہ اگر تم غسل کر لیا کرو، تو بہتر ہے۔" اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے : "ان سے بدبو آتی تھی۔" یعنی پسینے وغیرہ کی بدبو۔ لیکن اس کے باجود یہ کہنا کہ اگر غسل کر لیا کرو، تو بہتر ہے، اس بات کی دلیل ہے کہ جب بدبو نہ آئے، تو غسل کرنے کی اور بھی ضرورت نہیں ہے۔

فوائد
  1. نظافت اور طہارت پر اسلام کی توجہ۔
  2. جمعہ کے دن جمعے کی نماز کے لیے غسل کرنا بالتاکید مستحب ہے۔
  3. سر اگر چہ جسم کے اندر داخل ہے، لیکن اس حدیث میں اس کا الگ سے ذکر اس کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
  4. ہر اس آدمی پر غسل فرض ہے، جس کے جسم سے بدبو آتی ہو کہ جس سے لوگ اذیت محسوس کرتے ہوں۔
  5. جس دن غسل کرنے کی سب سے زیادہ تاکید ہے، وہ جمعے کا دن ہے۔ کیوں کہ جمعے کا دن بڑی فضیلت والا دن ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (2/ 5) (897)، (2/ 7) (903)، صحيح مسلم (2/ 582) (849)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري (6/ 193)، إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري (2/ 169)، التيسير بشرح الجامع الصغير للمناوي (1/951).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com