اماں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کر رہی ہیں کہ وہ آپ ﷺ کے ساتھ غسل کرتے ہوئے ایک ہی برتن میں موجود پانی استعمال کرتی تھیں تاکہ حدثِ اکبر یعنی جنابت کو دور کر سکیں۔ اپنی اس شراکت کی ہیئت کو بیان کرتے ہوئے وہ فرماتی ہیں: "تختلف أيدينا فيه'' یعنی کبھی میں اپنے ہاتھ کو چلو بھرنے کے لیے برتن میں داخل کرتی اور کبھی آپ ﷺ اس سے چلو بھرنے کے لیے اپنا ہاتھ اس میں لے جاتے۔جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ ”میں اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن سے غسل کرتے اور ہم دونوں ہی اس سے چلو بھرتے“۔ جب کہ ابن حبان کی دوسری روایت میں انہوں نے اکٹھے غسل کرنے کی اس ہیئت کو بڑے دقیق انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ: ”وتَلْتَقِي“ یعنی برتن سے پانی لیتے ہوئے اور چلو بھرتے ہوئے ہمارے ہاتھ اکٹھے ہو جاتے۔ اس روایت کی بنا پر معلوم ہوتا ہے کہ کبھی تو ہاتھ باری باری چُلّو بھرتے اور کبھی اکٹھے چلو بھرتے۔
صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت. صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح ابن حبان، تأليف: محمد بن حبان البُستي، تحقيق: شعيب الأرناؤوط، الناشر: مؤسسة الرسالة – بيروت الطبعة: الثانية، 1414 - 1993م. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. فتح ذي الجلال والإكرام، شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: المكتبة الإسلامية، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف : عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر: دار ابن الجوزي الطبعة : الأولى ، 1427 هـ ـ 1431 هـ.