سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کرتے تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنی شرمگاہ دھوتے، پھر نماز کی وضو کی طرح وضو کرتے۔

عن عائشة، قالت: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا اغتسل من الجَنَابَة يبدأ فيغسل يديه، ثم يُفرغ بيمينه على شماله فيغسل فَرْجَه، ثم يتوضأ وضوءه للصلاة، ثم يأخذ الماء فيُدخل أصابعه في أصول الشَّعَرِ، حتى إذا رأى أن قد اسْتَبْرَأَ حَفَنَ على رأسه ثلاث حَفَنَات، ثم أفاض على سائر جسده. ثم غسل رجليه».
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کرتے تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنی شرمگاہ دھوتے، پھر نماز کی وضو کی طرح وضو کرتے اور اپنی انگلیاں پانی میں ڈال کر ان سے اپنے بالوں کی جڑوں میں خلال کرتے، یہاں تک کہ جب بالوں کی جڑوں تک تَرِیْ دیکھ لیتے تو پھر اپنے سر پر تین لپ (دونوں ہاتھوں سے بھر کر) پانی ڈالتے، پھر اپنے پورے جسم پر پانی گراتے اور اپنے پاؤں دھوتے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا، نبی کریم ﷺ کے غسل کا طریقہ بیان فرما رہی ہیں کہ آپ ﷺ جب غسلِ جنابت کا ارادہ فرماتے تو سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے تاکہ وہ اس وقت پاک و صاف رہیں جب طہارت کے لیے ان ہاتھوں سے پانی لیں پھر نماز کے لیے کیے جانے والے وضو کی طرح وضو فرماتے۔ اور چوں کہ آپ ﷺ کے بال بہت زیادہ گھنے تھے،اس لیے آپ ﷺ اپنے تر شدہ ہاتھوں سے بالوں کا خلال کرتے، یہاں تک کہ جب پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جاتا اور آپ اپنے تمام جلد پر پانی پہنچا دیتے تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتے، پھر باقی جسم کو غسل دیتے اور سب سے آخر میں اپنے پاؤں دھوتے۔

حوالہ

صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، الطبعة الأولى، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، طبعة 10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426 هـ المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج-محيي الدين يحيى بن شرف النووي - دار إحياء التراث العربي - بيروت - الطبعة: الثانية، 1392 خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام- فيصل المبارك الحريملي-الطبعة: الثانية، 1412 هـ - 1992 م تنبيه الأفهام شرح عمدة لأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426ه بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر - دار الفلق – الرياض. الطبعة: السابعة، 1424 هـ -توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله البسام- مكتبة الأسدي –مكة المكرمة –الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م الإعلام بفوائد عمدة الأحكام لا بن الملقن المحقق: عبد العزيز بن أحمد بن محمد المشيقح - دار العاصمة للنشر والتوزيع، المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1417 هـ - 1997 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
غسل کرنا۔

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com