سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو سات سال تک استحاضہ کا خون آیا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ غسل کر لیا کریں۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت: "إن أم حبيبة اسْتُحِيضَتْ سبع سنين، فسألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك؟ فأمرها أن تغتسل، قالت: فكانت تغتسل لكل صلاة".
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو سات سال تک استحاضہ کا خون آیا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ غسل کر لیا کریں، تو وہ ہر نماز کے لئے غسل کرتی تھیں۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے جب رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ استحاضہ میں انہیں کیا کرنا چاہئے تو آپ ﷺ نے انہیں غسل کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ وہ ہر نماز کے لئے غسل کیا کرتی تھیں۔ انہیں سات سال تک استحاضہ کا خون آیا تھا۔ استحاضہ ایک عارضی امر ہے جو کم ہی عورتوں کو لاحق ہوتا ہے۔ اصل تو حیض ہے جو مہینے کے چند گنے چنے دنوں میں آتا ہے اور اس کی کچھ ایسی علامات ہوتی ہیں جسے عورتیں پہچانتی ہیں۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اپنی جانب سے ہی تطوّعاً ہر نماز کے لیے غسل کرلیا کرتی تھیں۔

حوالہ

تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ. تنبيه الأفهام شرح عمدة لأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
غسل کرنا۔

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com