سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب غسل جنابت فرماتے، تو اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتے اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر غسل کرتے

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المؤمنين رضي الله عنها قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الجَنَابَةِ، غَسَلَ يَدَيْهِ، وَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ، ثُمَّ اغْتَسَلَ، ثُمَّ يُخَلِّلُ بِيَدِهِ شَعَرَهُ، حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ أَرْوَى بَشَرَتَهُ، أَفَاضَ عَلَيْهِ المَاءَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ، وَقَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، نَغْرِفُ مِنْهُ جَمِيعًا.
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب غسل جنابت فرماتے، تو اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتے اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر غسل کرتے، پھر اپنے ہاتھ سے اپنے بال کا خلال کرتے، یہاں تک کہ جب سمجھتے کہ کھال تر ہوگئی ہے، تو اپنے اوپر تین بار پانی بہاتے، پھر پورے جسم کو دھوتے۔ وہ کہتی ہیں: میں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ایک ہی برتن سے ایک ساتھ چلو بھر کر پانی لیتے اور غسل کر لیا کرتے تھے۔
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب غسل جنابت کا ارادہ کرتے، تو سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتے۔ پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے۔ پھر اپنے جسم پر پانی بہاتے۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کے بالوں کا خلال کرتے۔ یہاں تک کہ جب سمجھتے کہ بال کی جڑوں تک پانی پہنچ چکا ہے اور سر کی کھال تر ہو گئی ہے، تو تین بار اپنے سر پر پانی ڈالتے اور اس کے بعد باقی جسم کو دھوتے۔ آگے عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ایک ہی برتن سے وضو کرتے تھے اور ہم دونوں ہاتھ ڈال کر پانی لیتے تھے۔

فوائد
  1. غسل کی دو قسمیں ہیں: کفایت کرنے والا غسل اور کامل غسل۔ کفایت کرنے والا غسل یہ ہے کہ انسان طہارت کی نیت کرے اور پورے جسم پر پانی بہا دے۔ ساتھ ہی کلی بھی کر لے اور ناک بھی جھاڑ لے۔ جب کہ کامل غسل یہ ہے کہ غسل اسی طرح کیا جائے، جس طرح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حدیث میں کرکے دکھایا ہے۔
  2. لفظ جنابت کا استعمال ہر اس شخص پر ہوتا ہے، جس کا انزال ہوا ہو یا جس نے جماع کیا ہو، چاہے انزال نہ بھی ہوا ہو۔
  3. میاں بیوی میں سے ہر ایک کا دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھنے اور دونوں کا ایک برتن سے غسل كرنے كا جواز۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 63) (272، 273). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 48). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص62). خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص33).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
غسل کرنا۔

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com