سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

تم میں سے جو شخص نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے آئے، اسے چاہیے کہ غسل کرکے آئے"۔

عن عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: «‌مَنْ ‌جَاءَ ‌مِنْكُمُ ‌الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ».
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : "تم میں سے جو شخص نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے آئے، اسے چاہیے کہ غسل کرکے آئے"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم زور دے کر فرما رہے ہیں کہ جو شخص جمعے کی نماز پڑھنے کے لیے آنا چاہے، اس کے لیے غسل جنابت کی طرح غسل کر لینا مستحب ہے۔

فوائد
  1. جمعہ کے دن غسل کرنے کی تاکید۔ مومن کے لیے جمعہ کے دن غسل کرنا سنت ہے۔ بہتر یہ ہے کہ غسل نماز کے لیے جاتے وقت کیا جائے۔
  2. خوش بو کا اہتمام کرنا مسلمان کے اخلاق و آداب میں شامل ہے۔ لوگوں سے ملنے، ان کے ساتھ بیٹھنے اور خاص طور سے جمعہ اور اجتماعوں میں شریک ہوتے وقت اس کے اہتمام کی تاکید بڑھ جاتی ہے۔
  3. حدیث میں خطاب ان افراد سے ہے، جن پر جمعہ واجب ہے، کیوں کہ وہی اس میں شریک ہوتے ہیں۔
  4. جمعہ میں شریک ہونے کے لیے صاف ستھرا ہونا مستحب ہے۔ غسل کر لینا چاہیے، تاکہ جسم سے کسی طرح کی کوئی بدبو نہ آئے۔ خوش بو لگا لینا چاہیے۔ لیکن اگر کسی نے صرف وضو کر لیا تب بھی کافی ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (2/ 81) (1294). صحيح مسلم (1/ 99) (103). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص239). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (2/ 302). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 192).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
غسل کرنا۔

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com