عن أبي هريرة رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((إِذَا جَلَسَ بين شُعَبِهَا الأَربع، ثم جَهَدَهَا، فَقَد وَجَبَ الغُسْلُ)) .
وفي لفظ ((وإن لم يُنْزِل)).
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب مرد عورت کی چار زانوؤں کے بیچ بیٹھے، پھر مجامعت کرے، تو غسل واجب ہو گیا“۔
ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”اگرچہ انزال نہ بھی ہوا ہو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
جب آدمی عورت کے چار اعضا یعنی دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں کے بیچ بیٹھ کر اپنا آلۂ تناسل عورت کی شرم گاہ میں داخل کر دے، تو دونوں پر غسل جنابت واجب ہوجاتا ہے، اگرچہ منی خارج نہ ہو؛ کیوںکہ مجرد دخول ہی غسل کے واجب ہونے کے موجبات میں سے ہے۔
حوالہ
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ.
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: خَرَجْتُ مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الاثنين إلى قباء إِذَا كُنَّا فِي بَنِي سَالِمٍ وقف رسول الله صلى الله عليه وسلم على باب عِتْبَانَ فَصَرَخَ بِهِ، فَخَرَجَ يَجُرُّ إزاره، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أَعْجَلْنَا الرَّجُلَ» فقال عتبان: يا رسول الله، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يُعْجَلُ عن امرأته ولم يُمْنِ، ماذا عليه؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إِنَّمَا المَاءُ مِنَ الماءِ».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں دوشنبہ کے دن رسول اللہ ﷺ کےساتھ قباء گیا، جب ہم بنو سالم کے محلے میں پہنچے تو رسول اللہ ﷺ عتبان رضی اللہ عنہ کے دروازے پر رک گیے اور اسے آواز دی تو وہ اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے نکلے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم نے اس آدمی کو جلدی میں ڈال دیا۔ عتبان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ کی اس مرد کے بارے میں کیا رائے ہے جو بیوی سے جلدی ہٹا دیا جائے، حالانکہ اس نے منی خارج نہ کی ہو؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانی پانی سے ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ غسل کا تعلق انزال کے ساتھ ہے اور پہلے پانی سے مراد معروف پانی ہے جبکہ دوسرے پانی سے مراد منی ہے۔ اور حدیث بالحصر اس مفہوم پر دلالت کر رہی ہے کہ غسل صرف انزال کے ساتھ ہے ،شرمگاہ کا شرمگاہ سے ملنے پر غسل نہیں لیکن یہ حکم منسوخ ہے ۔جماع سے غسل واجب ہوجاتا ہے چاہے انزال نہ بھی ہو جیسا کہ حدیث میں ہے ”إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ“ کہ جب شرمگاہیں آپس میں مل جائیں تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ، 2003 م.
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، عبد الله صالح الفوزان، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى 1428هـ، 1432هـ.
تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، اعتنى بإخراجه عبدالسلام بن عبد الله السليمان، الرسالة، بيروت، الطبعة: الأولى 1427هـ، 2006م.
عن قيس بن عاصم رضي الله عنه قال: أتيتُ النبيَّ صلى الله عليه وسلم أُريدُ الإسلامَ، فأَمَرَني أن أغتَسِلَ بماءٍ وسِدرٍ.
قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : میں اسلام قبول کرنے کے مقصد سے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں پانی میں بیری کے پتے ملا کر غسل کروں۔
رواه أبو داود والترمذي والنسائيدرجہصحيح
تشریح
قیس بن عاصم اسلام قبول کرنے کے ارادے سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے، تو آپ نے ان کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل کرنے کا حکم دیا، کیوں کہ بیری کے پتوں کا استعمال صفائی کے لیے ہوتا ہے اور اس سے اچھی بو بھی آتی ہے۔
فوائد
کافر کا اسلام قبول کرتے وقت غسل کرنا مشروع ہے۔
اسلام ایک عالی مرتبت دین ہے، جو بیک وقت جسم اور روح دونوں کا خیال رکھتا ہے۔
پانی کے ساتھ پاک چیزوں کے ملنے سے پانی پاک کرنے کی صلاحیت نہیں کھوتا۔
صفائی کے لیے استعمال ہونے والی جدید چیزیں، جیسے صابن وغیرہ بیری کے پتوں کے قائم مقام سمجھی جائیں گی۔
حوالہ
سنن أبي داود (1/ 266) (355)، سنن الترمذي (1/ 595) (605)، سنن النسائي (1/ 109) (188)، معالم السنن (1/111)، ذخيرة العقبى (4/131)، شرح سنن أبي داود للعباد (54/ 10).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com