ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ مسجد میں لوگوں کے ایک حلقے کے پاس آئے اور پوچھا : تم یہاں کس لیے بیٹھے ہو؟ لوگوں نے جواب دیا : ہم اللہ کا ذکر کرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : قسم کھاکر بتاؤ کہ تم صرف اسی غرض سے بیٹھے ہو؟ لوگوں نے کہا : اللہ کی قسم ہم صرف اسی غرض سے بیٹھے ہیں۔ اس پر معاویہ رضی اللہ عنہ نےکہا کہ میں نے اس وجہ سے تم سے قسم نہیں اٹھوائی کہ مجھے تم پر شک تھا۔ کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو میری طرح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے قربت رکھتا ہو اور آپ سے اتنی کم حدیثيں روایت کرتا ہو۔ بات یہ ہےکہ اللہ کے رسول ﷺ اپنے صحابہ کے ایک حلقے کے پاس آئے اور پوچھا : "تم کس لیے بیٹھے ہو؟" صحابہ نے جواب دیا : ہم بیٹھ کر اللہ کا ذکر اور اس کی حمد و ثنا کر ر ہے ہیں کہ اس نے ہمیں دین اسلام کی راہ دکھائی اور ہمیں اپنے فضل وکرم سے یہ دین عطا کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "قسم کھاؤ کہ تم اسی غرض سے بیٹھے ہو"۔ انھوں نے کہا : اللہ کی قسم ہم اسی غرض سے بیٹھے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "میں نے اس وجہ سے تم سے قسم نہیں اٹھوائی کہ مجھے تم پر شک ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور انھوں نے مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کر تا ہے۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
معاویہ بن ابو سفیان مسجد میں موجود ایک حلقے کے پاس پہنچے اور حلقے میں شامل لوگوں سے پوچھا کہ وہ کس مقصد سے بیٹھے ہوئے ہیں؟ لوگوں نے جواب دیا : اللہ کا ذکر کرنے کے ارادے سے۔ چنانچہ انھوں نے ان کو قسم کھانے کو کہا کہ کیا واقعی ان کے بیٹھنے اور یکجا ہونے کا مقصد اللہ کے ذکر کے سوا کچھ اور نہيں ہے؟ جب انھوں نے قسم کھا لی، تو فرمایا : میں نے تم کو قسم کھانے کو اس لیے نہيں کہا کہ میں تمھیں جھوٹا سمجھتا ہوں اور تمھارے سچے ہونے میں مجھے شبہ ہے۔ پھر انھوں نے بتایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے یہاں ان کو کیا مقام و مرتبہ حاصل تھا۔ بتایا کہ ان کو آپ سے جو قربت حاصل تھی، وہ کسی اور کو نہيں تھی۔ کیوں کہ ان کی بہن ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیوی تھیں اور خود وہ کاتبین وحی میں شامل تھے۔ لیکن اس کے باوجود انھوں نے آپ سے بہت کم حدیثیں نقل کی ہیں۔ پھر انھوں نے بتایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک دن گھر سے نکلے، تو دیکھا کہ کچھ صحابہ مسجد میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کر رہے ہيں اور اسلام کی ہدایت دینے پر اس کی تعریف کر رہے ہيں۔ چنانچہ آپ نے ان سے بیٹھنے کا مقصد پوچھا اور قسم بھی کھانے کو کہا، جیسا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔ پھر آپ نے اپنے ساتھیوں کو بیٹھنےکا سبب پوچھنے اور قسم کھانے کو کہنے کی وجہ بھی بتا دی۔ بتایا کہ آپ کے پاس جبریل علیہ السلام آئے تھے اور بتا رہے تھے کہ اللہ تعالی فرشتوں کے سامنے ان پر فخر و مباہات کر رہا ہے، ان کی فضیلت کا اظہار کر رہا ہے، ان کا حسن عمل دکھا رہا ہے اور ان کی تعریف کر رہا ہے۔
فوائد
معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کا علم کی نشر و اشاعت کے جذبے سے سرشار ہونا۔
جھوٹ کا اندیشہ نہ ہونے کے باجود اس ارادے سے قسم کھلانا جائز ہے کہ خبر کی اہمیت واضح ہو جائے۔
ذِکر اور علمی اجتماعات کی فضیلت۔ اللہ اس طرح کے اجتماعات سے محبت رکھتا ہے اور فرشتوں کے سامنے ان پر فخر کرتا ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (4/ 2075) (2701).
نزهة المتقين (2/ 993).
بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (2/ 522).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (17/ 271).
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”کیا میں تمھیں ایسا عمل نہ بتاؤں جو تمھارے سارے اعمال سے بہتر، تمھارے مالک کے ہاں سب سے زیادہ پاکیزہ، تمھارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا ہے، تمھارے لیے سونا اور چاندی صدقہ کرنے سے زیادہ بہتر اور تمھارے لیے اس سے بھی زیادہ بہتر ہے کہ تمھارا مقابلہ تمھارے دشمن کے ساتھ ہو اور تم ان کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمھاری گردنیں اڑائیں؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : کیوں نہیں! (ایسا عمل تو ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا : ”(وہ ہے) اللہ تعالیٰ کا ذکر۔“
رواه الترمذي وابن ماجه وأحمددرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا:
کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمھیں بتادوں کہ تمھارے عزیز وبرتر مالک کے یہاں تمھارا کون سا عمل سب سے افضل، اشرف اور پاکیزہ ترین ہے؟
جنت میں تمھارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا ہے؟
اور جو تمھارے لیے سونا اور چاندی صدقہ وخیرات کرنے سے بہتر ہے؟
اسی طرح جو تمھارے لیے اس بات سے بھی بہتر ہے کہ میدان جنگ میں تمھارا سامنا کفار سے لڑائى کے لئے ہو اور تم ان کی گردنیں مارو اور وہ تمھاری گردنیں ماریں؟
صحابہ نے جواب دیا : ہم ضرور بالضرور اس چیز کو جاننا چاہتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : تمام اوقات اور تمام حالات میں اللہ کا ذکر کرنا۔
فوائد
ہمیشہ ظاہری وباطنی ہر طرح سے اللہ تعالی کا ذکر کرتے رہنا عظیم ترین تقرب اور اللہ تعالی کے نزدیک مفید ترین عبادت ہے۔
تمام اعمال اللہ کے ذکر کے لیے مشروع کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے: "نماز میرے ذکر کے لیے قائم کرو۔" اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "خانۂ کعبہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی اللہ کا ذکر قائم کرنے کے لیے مشروع کی گئی ہے۔" اس حدیث کو امام ابو داود اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
عز بن عبد السلام اپنے قواعد میں کہتے ہيں: یہ حدیث ان نصوص میں سے ہے، جو دلالت کرتے ہيں کہ ثواب تمام عبادتوں میں تکان کے بہ قدر ہی نہیں ملتا۔ کبھی کبھی اللہ تھوڑے اعمال میں کثیر اعمال سے زیادہ ثواب عطا کرتا ہے۔ ثواب اعمال کے شرف ومنزلت میں رتبوں کے تفاوت کے اعتبار سے ملتا ہے۔
مناوی فیض القدیر میں کہتے ہیں : اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ذکر ان لوگوں کے حق میں افضل تھا، جو اس وقت آپ کے سامنے موجود تھے۔ سامنے اگر ایسے بہادر لوگ موجود ہوتے، جو میدان جنگ میں پہنچ کر اسلام اور مسلمانوں کے حق میں مفید ہوتے، تو انھیں جہاد افضل عمل بتایا جاتا۔ اگر ایسے مال دار لوگ موجود ہوتے، جن کے مال سے غریبوں کو فائدہ ہوتا، تو انھیں افضل عمل صدقہ بتایا جاتا۔ حج کرنے کی طاقت رکھنے والے لوگ موجود ہوتے، تو ان کو حج افضل عمل بتایا جاتا۔ اگر ایسے لوگ ہوتے، جن کے والدین موجود ہوتے، تو انھیں ان کی خدمت کرنا افضل عمل بتایا جاتا۔ اس سلسلے میں وارد مختلف حدیثوں کے درمیان تطبیق دینے کا یہی طریقہ ہے۔
کامل ترین ذکر وہ ہے، جو زبان سے کیا جائے اور ساتھ میں دل غور و فکر کرے، پھر اس ذکر کا درجہ آتا ہے، جو دل سے کیا جائے، جیسے غور و فکر اور پھر وہ ذکر جو صرف زبان سے کیا جائے۔ بہر صورت ذکر ثواب کا کام ہے۔
ایک مسلمان کو مختلف اوقات کے اذکار، جیسے صبح و شام کے اذکار، مسجد، گھر اور بیت الخلا میں داخل ہونے اور نکلنے وغیرہ کے اذکار کا اہتمام کرنا چاہیے، جن کا اہتمام انسان کو کثرت سے اللہ کو یاد کرنے والوں کی صف میں لا کھڑا کر دیتا ہے۔
حوالہ
سنن الترمذي (5/ 389) (3377).
سنن ابن ماجه (4/ 705) (3790).
مسند أحمد (36/ 33) (21702).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 513).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 985).
كنوز رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم مکے کے راستے میں محو سفر تھے۔ دوران سفر جُمْدان نامی ایک پہاڑ کے پاس سے گزرے تو فرمایا : ”چلتے رہو۔ یہ جمدان ہے۔ مفرِّدون سبقت لے گئے“۔ صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! مفرِّدون کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والی عورتيں‘‘۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بہ کثرت اللہ کا ذکر کرنے والوں کا مقام بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ ان کو یہ امتیازی شان حاصل ہو گیا کہ وہ دوسروں سے آگے بڑھ کر جنت کے اونچے درجات حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ آپ نے ان کی تشبیہ جُمْدان پہاڑ سے دی ہے، جو دیگر پہاڑوں سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔
فوائد
بہ کثرت ذکر کرنا اور اس مبارک کام میں مشغول رہنا مستحب ہے۔ کیوں کہ آخرت میں سبقت‘ کثرتِ بندگی اور عبادتوں میں اخلاص کی بنا پر حاصل ہوگی۔
اللہ کا ذکر صرف زبان سے بھی ہوتا ہے، صرف دل سے بھی ہوتا ہے اور زبان اور دل دونوں سے بھی ہوتا ہے، جو کہ ذکر کا سب سے اونچا درجہ ہے۔
ذکر کی ایک قسم مقید شرعی اوراد بھی ہیں۔ جیسے صبح و شام اور فرض نمازوں کے بعد کے اوراد وغیرہ۔
نووی نے فرمایا: یاد رکھیں کہ ذکر کی فضیلت تسبیح، تہلیل، تحمید اور تکبیر وغیرہ تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ اللہ کے لیے نیکی کا کام کرنے والا ہر شخص اللہ کا ذکر کر رہا ہوتا ہے۔
اللہ کا ذکر ثابت قدمی کا ایک عظیم ترین سبب ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی کا فرمان ہے: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ) [الأنفال: 45] ترجمہ : اے ایمان والو! جب تم کسی (مخالف) فوج سے بھڑ جاؤ تو ﺛابت قدم رہو اور بکثرت اللہ کو یاد کرو تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔
اللہ کا ذکر کرنے والوں کے درمیان اور جُمْدان پہاڑ کے درمیان وجہ تشبیہ یہ ہے کہ دونوں اپنی الگ الگ حیثیت اور انفرادی شان کے حامل ہيں۔ جس طرح جمدان پہاڑ دیگر پہاڑوں سے الگ واقع ہے، اسی طرح اللہ کا ذکر کرنے والے لوگ اگرچہ لوگوں کی بھیڑ میں ہوتے ہيں، لیکن ان کے دل اور زبانیں سب سے الگ تھلگ اللہ کے ذکر میں مشغول ہوا کرتی ہيں، خلوت کے اوقات کو غنیمت سمجھتی ہیں اور بھیڑ سے وحشت محسوس کرنے لگتی ہيں۔ وجہ تشبیہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جس طرح پہاڑ زمین کو مضبوطی اور پختگی عطا کرتے ہیں، اسی طرح ذکر انسان کو دین پر ثابت قدم رکھتا ہے۔ وجہ تشبیہ دنیا و آخرت کی بھلائیوں کی جانب سبقت بھی ہو سکتی ہے۔ جس طرح مدینہ سے مکہ کے سفر پر نکلے ہوئے شخص کا جمدان پہاڑ تک پہنچنا اس کے مکہ پہنچنے کی علامت ہوا کرتى ہے اور جمدان پہنچنے والے کو سبقت کرنے والا سمجھا جاتا ہے، اسی طرح اللہ کا ذکر کرنے والا کثرت ذکر کی بنا پر دوسرے پر سبقت کرنے والا شمار ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
حوالہ
صحيح مسلم (4/ 2062) (2676).
نزهة المتقين، لمجموعة من الباحثين (2/ 983).
تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان، لابن سعدي (ص665).
بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (2/ 510).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 516).
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس رات مجھے معراج کرائی گئی، اس رات میں ابراہیم علیہ السلام سے ملا، ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد! اپنی امت کو میری جانب سے سلام کہہ دینا اور انہیں بتا دینا کہ جنت کی مٹی بہت اچھی (زرخیز) ہے اور اس کا پانی بہت میٹھا ہے۔ جنت ایک چٹیل میدان ہے اور اس میں شجرکاری ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ“ سے ہوتی ہے“۔
رواه الترمذيدرجہحسن بشواهده
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہيں کہ اسرا و معراج کی رات آپ کی ملاقات ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام سے ہوئی، تو انھوں نے آپ سے کہا : اے محمد! اپنی امت کو میرا سلام پہنچا دینا اور ان کو بتا دینا کہ اس کی مٹی بہت اچھی ہے اور اس کا پانی بہت میٹھا ہے۔ اس میں کھارے پن کا شائبہ تک نہیں ہے۔ جنت ایک ہموار، پیڑ پودوں سے خالی اور وسیع و عریض زمین ہے۔ اس کے اندر درخت لگانے کا کام پاکیزہ کلمات کے ذریعے عمل میں آتا ہے۔ یہ پاکیزہ کلمات باقیات صالحات بھی کہلاتے ہیں۔ یہ کلمات ہیں : سُبْحَانَ اللهِ، وَالحَمْدُ لِلَّهِ، وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ۔ جب جب کوئی مسلمان ان کلمات کا ورد کرتا ہے، تو اس کے لیے جنت میں ایک ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔
فوائد
جنت میں کثرت سے پودا لگانے کے لیے ہمیشہ ذکر کرنے کی ترغیب۔
امت اسلامیہ کی فضیلت کہ ابراہیم علیہ السلام نے اسے سلام پہنچایا ہے۔
ابراہیم علیہ السلام کا امّت محمدیہ ﷺ کو کثرت سے ذکر الہی کرنے کی ترغیب دینا۔
طیبی کہتے ہیں : جنت ایک چٹیل میدان ہے۔ اس میں اللہ نے اپنے فضل و کرم سے بندوں کے اعمال کے مطابق درخت اور محل بنا دیے ہيں۔ ہر بندے کو دونوں چيزیں اس کے عمل کے مطابق ملیں گی۔ پھر اللہ ہر بندے کو ان اعمال کی توفیق دیتا ہے، جن کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے، تاکہ وہ ان کا ثواب حاصل کر سکے۔ جیسے اس نے سچ مچ درخت لگائے ہوں۔
حوالہ
سنن الترمذي (5/ 455) (3462).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي (2/ 512).
الكاشف عن حقائق السنن (شرح المشكاة)، للطيبي (6/ 1831).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (17/ 186).
مشكاة المصابيح، للتبريزي (2/ 716).
مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، للمباركفوري (7/ 476).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 985).
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جو لوگ کسی مجلس سے اٹھیں اور اس مجلس ميں انہوں نے اللہ کا ذکر نہ کیا ہو، تو ان کا وہاں سے اٹھنا ایسے ہے، جیسے وہ مردہ گدھے کے پاس سے اٹھے ہوں اور یہ مجلس (روزِ قیامت) ان کے لیے حسرت کا سامان ہو گی"۔
رواه أبو داوددرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب کچھ لوگ کسی جگہ میں بیٹھتے ہیں اور اللہ کا ذکر کیے بغیر وہاں سے کھڑے ہو جاتے ہيں، تو وہ ان لوگوں کی طرح کھڑے ہوتے ہيں، جو کسی مرے ہوئے گندے اور بدبودار گدھے کے پاس جمع ہوئے ہوں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ بات میں مشغول ہو گئے اور اللہ کے ذکر سے غافل ہو گئے۔ اس طرح کی مجلس ان کے لیے قیامت کے دن حسرت، ندامت اور گھاٹے کا سودا ثابت ہوگی۔
فوائد
ذکرِ الٰہی سے غفلت کی تنبیہ صرف مجالس تک محدود نہیں ہے، بلکہ دیگر جگہوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جو شخص کسی جگہ بیٹھے اس کے لیے اس جگہ کو اللہ کا ذکر کرنے سے پہلے چھوڑنا مکروہ ہے۔
قیامت کے دن حسرت وندامت یا تو وقت کا استعمال اللہ کی بندگی میں نہ کرنے کی وجہ سے اجر و ثواب سے محرومی کی وجہ سے ہوگی یا پھر اللہ کی نافرمانی کے کاموں میں وقت گزارنے کی بنا پر گناہ و سزا کو سامنے دیکھ کر۔
جب جائز کاموں میں مشغول ہوکر اللہ کے ذکر سے غافل ہونے والے کے لیے یہ تنبیہ ہے، تو ان حرام مجلسوں کا کیا حال ہوگا، جن میں غیبت اور چغل خوری وغیرہ ہوتی ہو۔
حوالہ
سنن أبي داود (7/ 221) (4855).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 120).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 654).
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: اللہ کے نبی ﷺ کے بعض صحابہ نے آپ ﷺ سے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! دولت مند لوگ کہیں (زیادہ) اجر لے گئے۔ وہ نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں، وہ روزہ رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں، (اس پر مزید) وہ اپنے بچے ہوئے مال میں سے صدقہ و خیرات کر لیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ” کیا اللہ نے تمھیں صدقہ کرنے کو کچھ نہيں دیا ہے؟ بے شک ہر بار سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے، ہر بار اللہ أکبر کہنا صدقہ ہے، ہر بار الحمد للہ کہنا صدقہ ہے اور ہر بار لاالہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے منع کرنا صدقہ ہے، اور تم میں سے کسی کا اپنی بیوی سے صحبت کرنا بھی صدقہ ہے“۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سےایک شخص اپنی شہوت پوری کرتا ہے، کیا اس میں بھی اسے اجر ملتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا : ”بھلا بتلاؤ! اگر وہ اسے حرام جگہ سے پوری کرے، تو اسے گناہ ہوگا؟ اسی طرح جب وہ اسے حلال طریقے سے پوری کرے گا، تو اسے اجر ملے گا۔“
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
بعض نادار صحابہ نے اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے اپنی تنگ دستی، غربت اور اپنے اہل ثروت بھائیوں کی طرح مال صدقہ کرکے بڑا اجر و ثواب حاصل نہ کر پانے اور نیکی کے کاموں میں ان کے پہلو میں کھڑے نہ پو پانے کی شکایت کی اور کہا کہ ہم نماز پڑھتے ہیں تو وہ بھی نماز پڑھتے ہيں، ہم روزہ رکھتے ہيں تو وہ بھی روزہ رکھتے ہيں، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اپنے زائد مال میں سے صدقہ کر کے ہم سے آگے بڑھ جاتے ہيں اور ہمارے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ ہوتا نہیں ہے۔ لہذا اللہ کے رسول ﷺ نے ان کو صدقے کی کچھ ایسی شکلیں بتا دیں، جو وہ کر سکتے تھے۔ فرمایا : کیا اللہ نے تمھارے لیے صدقہ کرنے کی راہیں نکال نہيں رکھی ہیں؟ "سبحان اللہ" کا ورد کرنا تمھارے لیے صدقے کا اجر و ثواب رکھتا ہے، "اللہ اکبر" کہنا تمھارے لیے صدقہ ہے، "الحمد للہ" کہنا صدقہ ہے، "لا الہ الا اللہ" کہنا صدقہ ہے، بھلائی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے روکنا صدقہ ہے، بلکہ اپنی اہلیہ سے ہم بستری کرنا بھی صدقہ ہے۔ صحابہ کو بڑا تعجب ہوا۔ کہنے لگے : اے اللہ کے رسول! ہمیں شہوت پوری کرنے کا بھی اجر و ثواب ملے گا؟ فرمایا : اچھا یہ بتاؤ کہ شہوت اگر وہ حرام جگہ سے پوری کرے، مثلا زنا وغیرہ میں ملوث ہو جائے، تو اسے گناہ ہوگا یا نہیں؟ بس اسی طرح اگر وہ شہوت حلال جگہ سے پوری کرتا ہے، تو اسے اجر و ثواب ملنا ہی چاہیے۔
فوائد
صحابۂ کرام نیک کاموں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے اور اللہ کے نزدیک اجر عظیم اور فضل جزیل حاصل کرنے کے بے حد حریص رہا کرتے تھے۔
خیر کے کاموں کی بہت ساری شکلیں ہیں۔ ایک مسلمان کے ذریعے سچی نیت اور اچھے ارادے سے کیا جانے والا ہر کام خیر کا کام ہے۔
اسلام ایک آسان اور سہل مذہب ہے۔ چنانچہ ہر مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق ایسا عمل کرسکتا ہے، جس سے اللہ کی اطاعت گزاری ہو جائے۔
نووی کہتے ہیں : نیت سچی ہو تو مباح کام بھی نیکی کے کام بن جاتے ہیں۔ جماع بھی عبادت بن جاتا ہے، اگر نیت بیوی کا حق ادا کرنا، اللہ کے حکم کے مطابق اس کے ساتھ اچھی زندگی گزارنا، صالح اولاد کی طلب، خود کو یا بیوی کو پاک دامن بنائے رکھنا اور حرام جگہ پر نظر ڈالنے، حرام چیز کے بارے میں سوچنے یا حرام کام کا ارادہ کرنے جیسی چیزوں سے بچانا یا اس طرح کے دوسرے نیک ارادے مد نظر ہوں۔
سننے والا بہتر طریقے سے سمجھ جائے اور اس کے دل میں بات زیادہ بہتر انداز میں بیٹھ جائے، اس کے لیے مثال دیا جانا اور کسی اچھائی پر قیاس کرنا رسول ﷺ کا طریقہ ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (2/ 697) (1006).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 201).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 161).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (3/ 31).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 150).
عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول! اسلام کے احکام زیادہ ہونے کی وجہ سے مجھ پر بھاری ہوگئے ہیں۔ لہذا مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں، جسے میں مضبوطی سے پکڑ لوں۔ آپ نے فرمایا : ’’تمھاری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رہے۔‘‘
رواه الترمذي وابن ماجه وأحمددرجہصحيح
تشریح
ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حضور شکایت کی کہ اسے نفل عبادتیں اتنی زیادہ لگتی ہیں کہ اپنے ضعف کی وجہ سے انھیں انجام دے نہيں سکتا۔ پھر گزارش کی کہ آپ اسے کوئی چھوٹا سا عمل بتا دیں، جس سے بہت سارے ثواب حاصل ہو جائيں اور جسے وہ مضبوطی سے پکڑے رہیں۔
لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی رہ نمائی اس جانب کی کہ ہمیشہ اس کی زبان اللہ کے ذکر سے تر اور ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کے ذکر میں مشغول رہے۔ ذکر میں سبحان اللہ، الحمد للہ، استغفر اللہ اور دعا وغیرہ شامل ہيں۔
فوائد
اللہ کے ذکر پر مداومت برتنے کی فضیلت۔
اللہ کا ایک بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے خیر کے اسباب آسان فرما دیے ہیں۔
خیر و بھلائی اور نیکی کے کاموں میں بندے ایک دوسرے سے الگ الگ درجات کے حامل ہوا کرتے ہيں۔
کثرت سے اور حضور قلب کے ساتھ سبحان اللہ، الحمد للہ، لاالہ الا اللہ اور اللہ اکبر وغیرہ کہنا بہت سی نفلی عبادتوں کے برابر ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سوال کرنے والوں کا خیال کرتے ہوئے ہر سائل کو وہی جواب دیتے، جو اس کے لیے مناسب ہو۔
حوالہ
سنن الترمذي (5/ 388) (3375).
سنن ابن ماجه (4/ 707) (3793).
مسند أحمد (29/ 226) (17680).
جامع العلوم والحكم في شرح خمسين حديثا من جوامع الكلم، لابن رجب الحنبلي (2/ 510).
التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثًا النووية، لإسماعيل الأنصاري (ص104).
فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين، للنووي وابن رجب (ص154).
الأحاديث الأربعون النووية وعليها الشرح الموجز المفيد، لعبد الله بن صالح المحسن (ص93).
اغر رضی اللہ عنہ، جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابی تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’اے لوگو! اللہ تعالی کے حضور توبہ کرو، میں دن میں سو دفعہ اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔‘‘
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ توبہ و استغفار کرنے کا حکم دے رہے ہیں اور اپنے بارے میں بتا رہے ہیں کہ آپ دن میں سو بار سے زیادہ اللہ کے حضور توبہ واستغفار کرتے ہيں۔ جب کہ آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف تھے۔ یہ دراصل اللہ کے حضور بندگی اور عاجزی کے اظہار کا کمال تھا۔
فوائد
ہر شخص کو، چاہے اس کا ایمان جتنا بھی مضبوط ہو، اللہ تعالی کی جانب رجوع کرنے اور توبہ کے ذریعے اپنے ایمان کو مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر شخص سے اللہ تعالی کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہوتی ہے۔ ارشاد ربانی ہے : "اور اے مومنو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو"۔
توبہ کا یہ حکم عام ہے۔ توبہ چاہے حرام کاموں اور گناہوں کے ارتکاب سے ہو یا واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی سے۔
توبہ کی قبولیت کے لیے اخلاص اولین شرط ہے۔ چنانچہ غیر اللہ کے لیے کوئی گناہ ترک کرنے والا تائب نہیں کہلائے گا۔
نووی کہتے ہيں: توبہ کی تین شرطیں ہیں : 1- گناہ سے باز آنا۔ 2۔ گناہ کے ارتکاب پر نادم وشرمندہ ہونا۔ 3- اس بات کا عزم کرنا کہ دوبارہ وہ گناہ نہيں کرے گا۔ مذکورہ تین شرطیں اس وقت ہیں، جب گناہ کا تعلق اللہ کے حقوق میں سے کسی حق سے ہو۔ اگر گناہ کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہو، تو توبہ کے صحیح ہونے کے لیے اس حق کو صاحب حق تک لوٹانا یا پھر صاحب حق سے معافی وتلافی کرانا ضروری ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار کرنے سے یہ نہیں لازم آتا کہ آپ گناہوں کے ارتکاب پر ہی استغفار کرتے تھے، بلکہ کمال عبودیت پر فائز ہونے، اللہ پاک کے ذکر میں مصرورف رہنے، اللہ کے عظیم حق کا احساس رکھنے اور اس کوتاہی کا ادراک رکھنے کی وجہ سے کیا کرتے تھے جو بندے سے صادر ہوجایا کرتی ہے، گرچہ وہ اللہ کی نعمتوں کا جس قدر بھی شکر ادا کر لے۔ اس کا مقصد اپنے بعد اپنی امت کے لیے اس عمل کو مشروع قرار دینا تھا۔ اس کے علاوہ بھی اس کی بہت سی حکمتیں ہیں۔
حوالہ
صحيح مسلم (4/ 2075) (2702).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 33).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (1/ 97).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 52).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com