حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اللہ کا ذکر کرتا ہے اللہ اس کے قریب ہوتا ہے اور تمام امور میں اس کے ساتھ ہوتا ہے اور ان میں اسے توفیق و ہدایت دیتا ہے، اس کی مدد کرتا ہے اور اس کی دعا کو قبول کرتا ہے۔ مذکورہ حدیث کا مفہوم صحیح بخاری کی ایک حدیث میں آیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اللہ تعالی فرماتا ہے): ”میں اپنے بندے کے اس گمان کے مطابق ہوتا ہوں جیسا وہ میرے متعلق گمان رکھتا ہے۔ اور جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ اپنے دل میں مجھے یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے جی میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی مجلس میں یاد کرتا ہے تو میں ایسی مجلس میں اس کا ذکر کرتا ہوں جو ان سے بہتر ہے“۔
صحيح البخاري، طبعة مصورة عن النسخة السلطانية، موافقة لترقيم محمد فؤاد عبد الباقي. سنن ابن ماجه، لابن ماجة أبو عبد الله محمد بن يزيد القزويني، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ط دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي. الإحسان في تقريب صحيح ابن حبان، لمحمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي، ترتيب: الأمير علاء الدين علي بن بلبان الفارسي، حققه وخرج أحاديثه وعلق عليه: شعيب الأرنؤوط، ط مؤسسة الرسالة، بيروت. توضيح الأحكام من بلوغ المرام، الشيخ عبد الله بن عبد الرحمن البسام، ط مكتبة الأسد الإسلامية، الطبعة الخامسة. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، الشيخ عبد الله بن صالح الفوزان، ط دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، الشيخ صالح الفوزان بن عبد الله الفوزان، طبعة الرسالة. فتح ذي الجلال والإكرام، الشيخ محمد بن صالح العثيمين، ط المكتبة الإسلامية، الطبعة الأولى. سبل السلام بشرح بلوغ المرام، للإمام محمد بن إسماعيل الصنعاني، ط دار الحديث.