سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جس نے دس بار "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ" (اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہيں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہيں ہے، اسی کی بادشاہت ہے، اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے) کہا

عن أبي أيوب رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، عَشْرَ مِرَارٍ كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ أَرْبَعَةَ أَنْفُسٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ».
ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جس نے دس بار "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ" (اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہيں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہيں ہے، اسی کی بادشاہت ہے، اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے) کہا، وہ اس شخص کی طرح ہوگا، جس نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے چار غلاموں کو آزاد کیا۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ جس نے یہ دعا پڑھی : "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ" ، جس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہيں، بس وہی اکیلے مکمل بادشاہت رکھتا ہے اور تمام تعریفات کا وہی مالک ومستحق ہے، وہ قادر مطلق ہے، اسے کوئی چیز عاجز و بے بس نہيں کر سکتی۔ جس نے اس عظیم ذکر کو دن میں دس بار دہرایا، اسے اس شخص کے برابر اجر و ثواب ملے گا، جس نے اسماعیل بن ابراہیم علیہما الصلاۃ و السلام کی نسل سے چار غلاموں کے گلے سے غلامی کا طوق اتار پھینکا۔ یہاں بطور خاص اسماعیل علیہ السلام کی نسل کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ وہ دوسرے لوگوں سے اشرف ہیں۔

فوائد
  1. بس ایک اللہ کی الوہیت، بادشاہت، حمد و ثنا اور قدرت تامہ پر مشتمل اس ذکر کی فضیلت۔
  2. اس ذکر کو لگاتار ایک ہی وقت میں اور الگ الگ وقت میں کہنے والا دونوں ہى اس اجر و ثواب کا حق دار ہوں گے ۔
حوالہ

صحيح البخاري (8/ 86) (6404). صحيح مسلم (4/ 2071) (2693). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، للبسام (7/ 533). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 399). فتح ذي الجلال والإكرام، لابن عثيمين (6/ 465). سبل السلام بشرح بلوغ المرام، للصنعاني (2/ 703).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
ذکر کے فضیلت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com