سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

تمھاری زبان ہر وقت اللہ عز و جل کے ذکر سے تر رہے

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ رَضِيَ اللَّهِ عَنْهُ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ شَرَائِعَ الإِسْلَامِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيْنَا، فَبَابٌ نَتَمَسَّكُ بِهِ جَامِعٌ؟ قَالَ: «لاَ يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ». وفي رواية: مِنْ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: آخِرُ مَا فَارَقْتُ عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قُلْتُ: أَيُّ الأَعْمَالِ خَيْرٌ وَأَقْرَبُ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: «أَنْ تَمُوتَ وَلِسَانُكَ رَطْبٌ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ».
عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! امور اسلام تو بہت زیادہ ہیں۔ کوئی ایسا جامع عمل بتائیں، جسے ہم لازم پکڑیں! آپ ﷺ نے فرمایا: "تمھاری زبان ہر وقت اللہ عز و جل کے ذکر سے تر رہے"۔ معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے؛ وہ کہتے ہيں: اللہ کے رسول ﷺ سے جدا ہوتے وقت میں نے آخری بات یہ پوچھی کہ کون سا عمل اللہ کے نزدیک سب سے بہتر اور اللہ سے سب سے قریب کرنے والا ہے؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: "تمھاری موت اس حالت میں ہو کہ تمھاری زبان اللہ عز و جل کے ذکر سے تر رہے۔"
اسے احمد، ترمذی، ابن ماجہ اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔درجہصحيح
تشریح

ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حضور شکایت کی کہ اسے نفل عبادتیں اتنی زیادہ لگتی ہیں کہ اپنے ضعف کی وجہ سے انھیں انجام دے نہيں سکتا۔ پھر گزارش کی کہ آپ اسے کوئی چھوٹا سا عمل بتا دیں، جس سے بہت سارے ثواب حاصل ہو جائيں اور جسے وہ مضبوطی سے پکڑے رہیں۔ لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی رہ نمائی اس جانب کی کہ ہمیشہ اس کی زبان اللہ کے ذکر سے تر اور ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کے ذکر میں مشغول رہے۔ ذکر میں سبحان اللہ، الحمد للہ، استغفر اللہ اور دعا وغیرہ شامل ہيں۔

فوائد
  1. اللہ کے ذکر پر مداومت برتنے کی فضیلت۔
  2. اللہ کا ایک بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے خیر کے اسباب آسان فرما دیے ہیں۔
  3. خیر و بھلائی اور نیکی کے کاموں میں بندے ایک دوسرے سے الگ الگ درجات کے حامل ہوا کرتے ہيں۔
  4. کثرت سے اور حضور قلب کے ساتھ سبحان اللہ، الحمد للہ، لاالہ الا اللہ اور اللہ اکبر وغیرہ کہنا بہت سی نفلی عبادتوں کے برابر ہے۔
  5. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سوال کرنے والوں کا خیال کرتے ہوئے ہر سائل کو وہی جواب دیتے، جو اس کے لیے مناسب ہو۔
حوالہ

سنن الترمذي (5/ 318) (3375). سنن ابن ماجه (4/ 707) (3793). مسند أحمد (29/ 226) (17680). جامع العلوم والحكم في شرح خمسين حديثا من جوامع الكلم، لابن رجب الحنبلي (2/ 510). التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثًا النووية، لإسماعيل الأنصاري (ص104). فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين، للنووي وابن رجب (ص154). الأحاديث الأربعون النووية وعليها الشرح الموجز المفيد، لعبد الله بن صالح المحسن (ص93).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
ذکر کے فضیلت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com