اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب کچھ لوگ کسی جگہ میں بیٹھتے ہیں اور اللہ کا ذکر کیے بغیر وہاں سے کھڑے ہو جاتے ہيں، تو وہ ان لوگوں کی طرح کھڑے ہوتے ہيں، جو کسی مرے ہوئے گندے اور بدبودار گدھے کے پاس جمع ہوئے ہوں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ بات میں مشغول ہو گئے اور اللہ کے ذکر سے غافل ہو گئے۔ اس طرح کی مجلس ان کے لیے قیامت کے دن حسرت، ندامت اور گھاٹے کا سودا ثابت ہوگی۔
- ذکرِ الٰہی سے غفلت کی تنبیہ صرف مجالس تک محدود نہیں ہے، بلکہ دیگر جگہوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جو شخص کسی جگہ بیٹھے اس کے لیے اس جگہ کو اللہ کا ذکر کرنے سے پہلے چھوڑنا مکروہ ہے۔
- قیامت کے دن حسرت وندامت یا تو وقت کا استعمال اللہ کی بندگی میں نہ کرنے کی وجہ سے اجر و ثواب سے محرومی کی وجہ سے ہوگی یا پھر اللہ کی نافرمانی کے کاموں میں وقت گزارنے کی بنا پر گناہ و سزا کو سامنے دیکھ کر۔
- جب جائز کاموں میں مشغول ہوکر اللہ کے ذکر سے غافل ہونے والے کے لیے یہ تنبیہ ہے، تو ان حرام مجلسوں کا کیا حال ہوگا، جن میں غیبت اور چغل خوری وغیرہ ہوتی ہو۔
سنن أبي داود (7/ 221) (4855). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 120). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 654).