سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

کيا ميں تمہيں اللہ کے نزديک سب سے پسنديدہ کلام سے با خبر نہ کردوں؟

عن أبي ذر الغفاري رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ألاَ أُخْبِرُكَ بِأَحَبِّ الكَلاَمِ إِلَى اللهِ؟ إنَّ أَحَبَّ الكلام إِلى الله: سبحان اللهِ وبحمدِهِ».
ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کيا ميں تمہيں اللہ کے نزديک سب سے پسنديدہ کلام سے با خبر نہ کردوں؟ بے شک اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ کلام : سُبْحَانَ اللَّهِ وبِحَمْدِهِ (اللہ پاک ہے اپنی تعریفوں کے ساتھ) ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حديث اس بات پر دلادلت کر رہی ہے کہ اللہ رب العالمين کو سب سے پسنديدہ کلام اس کی تسبيح بيان کرنا (سُبْحَانَ اللَّهِ کہنا) ہے، اس ليے کہ تسبيح کا معنی اللہ رب العالمين كو ہر اس چيز سے منزه و پاک قرار دينا ہے جو اس کے ليے نا مناسب ہے، چاہے وہ اللہ کی شان ميں کوئی نقص ہو يا اللہ کو کسی مخلوق سے مشابہ اور مانند قراردينا ہو، يا اللہ کے ناموں ميں کج روی اختيار کرنا ہو۔ اور ’بِحَمْدِهِ‘ کہنے والے کا قول اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ تسبیح اللہ سبحانہ کی حمد کے ساتھ تھی،پس اس میں اسی کا احسان ہے۔ نیز اس کا يہ بھی مفہوم ہو سکتا ہے کہ: ميں اللہ کی توفيق دہی سے اس کی حمد وثنا کرتے ہوئے اس کی پاکی بيان کر رہا ہوں۔ اسی ليے ’سُبْحَانَ اللَّهِ ، وبِحَمْدِهِ‘ اللہ، رب العالمين کو بہت زيادہ محبوب ہے کیوں کہ اس ميں اللہ رب العالمين کی پاکی و تقدیس اور ہر طرح کے احسان کے ساتھ تعريف شامل ہے۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير- دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. شرح صحيح مسلم، للإمام محيي الدين النووي، دار الريان للتراث، القاهرة، الطبعة الأولى، 1407هـ. صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبدالباقي، دار عالم الكتب، الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. الإفصاح عن معاني الصحاح، ليحيى بن هُبَيْرَة، المحقق: فؤاد عبد المنعم أحمد، دار الوطن، سنة النشر: 1417هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
ذکر کے فضیلت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com