سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اتنی پسندیدگی سے نہیں سنتا، جتنی خوش الحان نبی کی زبان سے قرآن سنتا ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ما أذنَ الله لشيء ما أَذِنَ لنبي حسن الصوت يَتَغَنَّى بالقرآن يجهر به».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اتنی پسندیدگی سے نہیں سنتا، جتنی خوش الحان نبی کی زبان سے قرآن سنتا ہے، جو اسے خوش الحانی کے ساتھ بلند آواز سے پڑھتا ہو“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں نماز وغیرہ میں قرآن مجید کی تلاوت کے موقع پر اچھی آواز سے تلاوت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے؛ اس طور پر کہ قرآن مجید کو بلند آواز سے، خوب دل نشین انداز میں، ترنم کے ساتھ، رقت آمیز انداز میں، دیگر ماضی کے واقعات سے بے نیازی اختیار کرتے ہوئے، اسی کے ذریعے نفس کی بے نیازی طلب کرتے ہوئے اور دنیاداروں کی مال داری سے بے نیازی کا امیدوار ہوکر اسے پڑھے۔ حدیث میں مذکور تغنی (سر آمیزی) سے مقصود دل کش و دل نشین انداز میں پڑھنا ہے، موسیقانہ نغموں کے آہنگوں کے مطابق پڑھنا نہیں۔

حوالہ

1/رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير - دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. 2/شرح رياض الصالحين، للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. 3/شرح كتاب التوحيد من صحيح البخاري، للشيخ عبدالله الغنيمان، مكتبة لينة-دمنهور، الطبعة الأولى، 1409هـ. 4/شرح صحيح مسلم، للإمام محي الدين النووي، دار الريان للتراث - القاهرة، الطبعة الأولى، 1407هـ. 5/صحيح البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. 6/صحيح مسلم، حققه ورقمه محمد فؤاد عبدالباقي، دار عالم الكتب - الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. 7/فتح الباري بشرح صحيح البخاري، للحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، دار المعرفة - بيروت. 8/كنوز رياض الصالحين؛ فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا - الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ. 9/نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
ذکر کے فضیلت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com