ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مؤذّن کو (اذان دیتے ہوئے) سنو، تو ویسے ہی کہو، جیسے وہ کہتا ہے“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اذان سنتے وقت مؤذن کا جواب دینے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ جواب میں ہمیں جملہ در جملہ وہی کچھ کہنا چاہیے، جو مؤذن کہتا ہو۔ جب وہ تکبیر کہے، تو ہم اس کے بعد تکبیر کہیں گے اور جب وہ دونوں گواہیاں پیش کرے، تو ہم اس کے بعد دونوں گواہیاں پیش کريں گے۔ لیکن "حی علی الصلاۃ" اور "حی علی الفلاح" کے الفاظ اس سے مستثنی ہیں۔ ان دونوں جملوں کے بعد "لا حول ولا قوۃ الا باللہ" کہا جائے گا۔
فوائد
ایک مؤذن کی اذان ختم ہونے کے بعد دوسرے مؤذن کے کلمات کا بھی جواب دیا جائے گا۔ اگرچہ مؤذن متعدد ہوں، تب بھی۔ کیوں کہ حدیث عام ہے۔
انسان اگر بیت الخلا میں نہ ہو یا قضائے حاجت میں مشغول نہ ہو، تو دیگر تمام حالتوں میں وہ مؤذن کا جواب دے گا۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 126) (611).
صحيح مسلم (1/ 288) (383).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص120).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 98).
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنه مرفوعاً: «إنَّ بِلالاً يُؤَذِّن بِلَيلٍ، فَكُلُوا واشرَبُوا حتَّى تَسمَعُوا أَذَان ابنِ أُمِّ مَكتُوم».
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”بلال رات کو اذان دیتے ہیں۔ چنانچہ تم کھاؤ پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سن لو۔“
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ کے دو موذن تھے۔ ایک بلال بن رباح رضی اللہ عنہ اور دوسرے عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ جو کہ نا بینا تھے۔ بلال رضی اللہ عنہ طلوع فجر سے پہلے فجر کی اذان دیا کرتے تھے، کیونکہ فجر کی نماز سونے کے وقت میں پڑتی ہے اور لوگوں کو اس کا وقت ہونے سے پہلے اس کی تیاری کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لھٰذا نبی ﷺ لوگوں کو تنبیہ فرمایا کرتے تھے کہ بلال رضی اللہ عنہ رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ انہیں اس وقت تک کھانے پینے کاحکم دیتے جب تک فجر طلوع نہ ہو جائے اور دوسرے موذن، جو کہ ابن ام مکتوم ہیں، اذان نہ دے دیں، کیونکہ وہ فجر ثانی کے طلوع پر اذان دیا کرتے تھے۔ یہ حکم اس کے لیے ہے جو روزہ رکھنا چاہتا ہے۔ چنانچہ اس وقت وہ کھانے پینے سے رک جائے گا اور اسی پر نماز کا وقت ہو جائے گا۔ یہ صرف نماز فجر کے ساتھ خاص ہے اور اس کے علاوہ دیگر نمازوں میں نماز کا وقت ہونے سے پہلے اذان دینا جائز نہیں ہے۔ صبح کی نماز کی پہلی اذان کے بارے میں اختلاف ہے کہ آیا اسی پر اکتفا کیا جائے گا یا پھر وقت ہونے پر دوسری اذان دینا ضروری ہے؟ جمہور علماء کا مسلک یہی ہے کہ پہلی اذان دینا مشروع ہے اور اس پر اکتفا نہیں کیا جائے گا (بلکہ طلوع فجر ثانی پر دوسری اذان بھی دی جائے گی۔)
حوالہ
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة لأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ.
الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت.
عن أبي سليمان مالك بن الحويرث رضي الله عنه قال: أَتَينَا رسُول الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- ونَحنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُون، فَأَقَمْنَا عِندَهُ عِشْرِينَ لَيلَةً، وَكَان رَسُولُ الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- رَحِيمًا رَفِيقًا، فَظَنَّ أَنَّا قَدْ اشْتَقْنَا أَهْلَنَا، فَسَألَنا عمَّنْ تَرَكْنا مِنْ أَهلِنا، فأَخبَرنَاه، فقال: «ارْجِعُوا إلى أَهْلِيكُم، فَأَقِيمُوا فيهم، وَعَلِّمُوهُم وَمُرُوهُم، وَصَلُّوا صَلاَةَ كَذَا في حِينِ كذَا، وصَلُّوا كَذَا في حِينِ كَذَا، فَإِذا حَضَرَتِ الصلاةُ فَلْيُؤذِّن لكم أَحَدُكُم وَلْيَؤُمَّكُم أكبركم».
زاد البخاري في رواية له: «وصَلُّوا كَمَا رَأَيتُمُونِي أُصَلِّي».
ابو سلیمان مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم سب نوجوان اور ہم عمر تھے۔ ہم آپ ﷺ کے ساتھ بیس راتیں رہے۔ آپ ﷺ بہت رحم دل اور نرم خو تھے۔ آپ ﷺ کو خیال ہوا کہ ہمیں اپنے گھر کے لوگ یاد آ رہے ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ہم سے ہمارے ان اہل خانہ کے بارے میں پوچھا جنہیں ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ ہم نے آپ ﷺ کو اس کے بارے میں بتایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ، ان میں رہو اور انہیں (دین) سکھاؤ اور (نیکی کا) حکم دو۔ دیکھو یہ نماز فلاں وقت اور یہ نماز فلاں وقت پڑھنا۔ جب نماز کا وقت ہو جائے تو ایک شخص تم میں سے اذان دے اور جو تم میں سے بڑا ہو وہ نماز پڑھائے۔ امام بخاری کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ ”اور نماز اسی طرح پڑھو جیسے تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم سب نوجوان اور ہم عمر تھے“۔ یہ عام الوفود یعنی ہجرت کے نویں سال کا واقعہ ہے۔ یہ سب لوگ نوجوان تھے اور نبی ﷺ کے پاس انہوں نے بیس راتوں تک قیام کیا۔ یہ لوگ اللہ کے دین کو سمجھنے کے لیے آئے تھے۔ مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”آپ ﷺ بہت رحم دل اور نرم خو تھے۔ آپ ﷺ کو خیال ہوا کہ ہمیں اپنے گھر کے لوگ یاد آ رہے ہیں“۔ یعنی ہمارا ان سے ملنے کو دل چاہ رہا ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ہم سے ہمارے ان اہل خانہ کے بارے میں پوچھا جنہیں ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ ہم نے آپ ﷺ کو اس کے بارے میں بتایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ، ان میں رہو اور انہیں (دین) سکھاؤ اور (نیکی کا) حکم دو اور فلاں نماز کو اس وقت پڑھو اور فلاں نماز کو اس وقت پڑھو۔ اورجب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرائے۔ امام بخاری کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ تم اسی طرح نماز پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے‘‘۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ رحم دلی و نرمی میں مشہور تھے۔ آپ ﷺ لوگوں کے ساتھ سب لوگوں سے بڑھ کر رحم دل تھے اور سب سے زیادہ نرم خوئی سے پیش آتے تھے۔ آپ ﷺ رحیم بھی تھے اور شفیق بھی۔ آپ ﷺ نے جب یہ دیکھا کہ ان لوگوں کو اپنے گھر والے یاد آ رہے ہیں تو آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ وہ اپنے پیچھے کن لوگوں کو چھوڑ کر آئے ہیں؟ انہوں نے آپ ﷺ کو اس کے بارے میں بتایا۔ آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جائیں۔ ”اور تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرائے“۔ یہ امامت کے لیے بڑے کو مقدم کرنے کی دلیل ہے۔ یہ بات نبی ﷺ کے اس فرمان کے منافی نہیں ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ: لوگوں کو وہ شخص امامت کرائے جو سب سے زیادہ قرآن کا قاری ہو۔ کیونکہ یہ سب نوجوان ایک ہی وقت میں آئے تھے اور ظاہر ہے کہ قرأتِ قرآن کے لحاظ سے ان کے مابین کوئی واضح فرق نہیں تھا اور اس معاملے میں وہ ایک دوسرے کے قریب قریب ہی تھے۔ ان میں سے کوئی بھی دوسرے سے زیادہ قرآن کا قاری نہیں تھا۔ اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرائے“۔ کیونکہ قرأت کے معاملے میں وہ سب برابر یا قریب قریب تھے۔ جب یہ لوگ قرأت، سنت اور ہجرت کے معاملے میں برابر ہو گئے تو پھر امامت کا حق بڑے کا ہو گا اور وہ اسے ہی مقدم کریں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز ویسے پڑھو جیسے تم میں نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے“۔ یہ اس نبوی طریقۂ کار کی تاکید ہے کہ آپ ﷺ قول و فعل دونوں کے ذریعے تعلیم دیا کرتے تھے۔ جس شخص نے سکون کے ساتھ نماز نہ پڑھی اسے آپ ﷺ نے یہ فرما کر تعلیم دی کہ ”جب نماز کے لیے تمہارا کھڑا ہونے کا ارادہ ہو تو اچھی طرح وضو کرو، پھر قبلہ رخ ہوجاؤ اور پھر قرآن کا جو بھی حصہ چاہو اسے پڑھو اور پھر رکوع کرو...الخ“۔ جب کہ ان نوجوانوں کو آپ ﷺ نے فعل (عمل) کے ذریعے تعلیم دی۔
حوالہ
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ.
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي- بيروت - بدون تاريخ.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
صحيح البخاري، للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب - الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا - الطبعة الأولى 1430هـ.
شرح رياض الصالحين، للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
عن عائشة وعبد الله بن عمر وأنس بن مالك رضي الله عنهم مرفوعاً: «إِذَا أُقِيمَت الصَّلاَة، وحَضَرَ العَشَاء، فَابْدَءُوا بِالعَشَاء».
عائشہ رضی اللہ عنہا، عبد اللہ بن عمر اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز کھڑی ہو جائے اور رات کا کھانا بھی سامنے آ جائے، تو رات کے کھانے سے پہل کرو“۔
اس حدیث کی تمام روایات متفق علیہ ہیں۔درجہصحیح
تشریح
جب نماز کھڑی ہوجائے اورکھانے پینے کی اشیا سامنے موجود ہوں، تو مناسب یہ ہے کہ کھانے پینے سے پہل کی جائے؛ تاکہ نمازی کی بھوک ختم ہوجائے اور اس کا ذہن دوران نماز کھانے کی طرف نہ لگا رہے۔ لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ نمازکا وقت تنگ نہ ہو اور کھانے کی ضرورت اوراس کی چاہت بھی ہو۔ اس میں اس بات کی تاکید ہے کہ یہ شریعت کامل ہے اورآسانی وکشادگی کے ساتھ انسانی جان کے حقوق کا خیال رکھتی ہے۔
حوالہ
الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة لأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
عن أنس بن مالك رضي الله عنه مرفوعاً: «أُمِر بِلاَل أن يَشفَع الأَذَان، ويُوتِر الإِقَامَة».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اذان کےکلمات کو دو دو دفعہ اور اقامت کے کلمات کو ایک ایک دفعہ کہیں۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نے اپنے مؤذن بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اذان کے کلمات کو دوہرا کر کہیں، کیوںکہ یہ غیر موجود لوگوں کو باخبر کرنے کے لیے ہوتی ہے، اس لیے اس کے الفاظ کو دو دو دفعہ کہیں۔ ماسوا شروع والی تکبیر کے؛ کیوں کہ اسے چار دفعہ کہنا ثابت ہے اور سوائے آخر میں بولےجانے والے کلمہ توحید کے؛ کیوں کہ اسے ایک دفعہ کہنا ثابت ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اقامت کو اکہرا کہیں؛ کیوں کہ یہ موجود لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے ہوتی ہے، بایں طور کہ اس کے جملوں کو ایک ایک دفعہ کہیں، سوائے تکبیر اور "قد قامت الصلوۃ" کے؛ کیوں کہ انھیں دو دو دفعہ کہنا ثابت ہے۔
حوالہ
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم، لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
عن أبي جُحَيْفَةَ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السُّوَائِيِّ رضي الله عنه قال: «أَتَيتُ النَبِيَّ صلى الله عليه وسلم وهو في قُبَّةٍ لَهُ حَمرَاءَ مِن أَدَمٍ، قال: فَخَرَج بِلاَل بِوَضُوءٍ، فمن نَاضِحٍ ونَائِلٍ، قال: فَخَرَجَ النبِيَّ صلى الله عليه وسلم عليه حُلَّةٌ حَمرَاءُ، كَأَنِّي أَنظُرُ إلى بَيَاضِ سَاقَيهِ، قال: فَتَوَضَّأ وأَذَّن بِلاَل، قال: فَجَعَلَتُ أتَتَبَّعُ فَاهُ هَهُنَا وهَهُنَا، يقول يمِينا وشِمالا: حَيَّ على الصَّلاة؛ حيَّ عَلَى الفَلاَح. ثُمَّ رَكَزَت لَهُ عَنَزَةٌ، فَتَقَدَّمَ وصلى الظُهرَ رَكعَتَين، ثُمَّ لَم يَزلَ يُصِلِّي رَكعَتَين حَتَّى رَجَعَ إِلى المَدِينَة».
ابو جحیفہ وہب بن عبد اللہ السوائی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں: میں نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ چمڑے سے بنے ایک سرخ خیمےمیں مقیم تھے۔ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ (آپ ﷺ کے) وضو کا پانی لے کر نکلے، تو کوئی ان سے یہ پانی لے رہا تھا اور کوئی اس سے یہ پانی لے رہا تھا، جس نے ان سے لیا تھا۔ پھر نبیﷺ سرخ جبہ زیب تن فرمائے باہر تشریف لائے۔ میں گویا (اب بھی چشم تصور سے) آپ ﷺ کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بلال رضی اللہ عنہ نے وضو کیا اور اذان دی۔ وہ کہتے ہیں: میں ان کے منہ کےساتھ ساتھ اپنے منہ کو ادھر ادھر پھیرنے لگا۔ وہ دائیں بائیں منہ کر کے حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح کہہ رہے تھے۔ پھر آپ ﷺ کے لیے (بطور سترہ) ایک چھڑی گاڑ دی گئی۔ آپ ﷺ آگے بڑھے اور ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں۔ مدینہ واپس تشریف لے آنے تک آپ ﷺ دو رکعت ہی پڑھتے رہے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ بالائی مکہ کے ایک کشادہ مقام پر مقیم تھے۔ بلال رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے وضو کے باقی ماندہ پانی کو لے کر باہر آئے، تو لوگ اس سے برکت حاصل کرنا شروع کر دیے۔ بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بلال رضی اللہ عنہ کے منہ کو دیکھنے لگا۔ وہ ”حی علی الصلوۃ“ اور ”حی علی الفلاح“ کہتے ہوئے دائیں بائیں مڑ رہے تھے؛ تاکہ سب لوگوں کو یہ سنائی دے سکیں، کیوں کہ ان دونوں جملوں میں نماز کے لیے آنے کی ترغیب ہے۔ پھر نبی ﷺ کے لیے ایک چھوٹا سا نیزہ گاڑ دیا گیا؛ تا کہ وہ آپ ﷺ کی نماز کے دوران سترہ کا کام دے۔ پھر آپ ﷺ نے ظہر کی دو رکعتیں ادا فرمائیں۔ مسافر ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ جب تک مدینہ واپس نہیں آگئے، تب تک چار رکعت والی نماز کو دو رکعت ہی پڑھتے رہے۔
حوالہ
الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426 هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة لأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423 هـ.
عن أبي الشعثاء، قال: كنا قُعُودًا مع أبي هريرة رضي الله عنه في المسجد، فأذن المؤذن، فقام رجل من المسجد يمشي، فأَتْبَعَهُ أبو هريرة بَصَرَهُ حتى خرج من المسجد، فقال أبو هريرة: أما هذا فقد عصى أبا القاسم صلى الله عليه وسلم .
ابو شعثاء رحمہ اللہ بيان کرتے ہيں کہ ہم مسجد میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ مؤذن نے اذان دی، تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور مسجد سے جانے لگا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بغور اسے دیکھتے رہے حتی کہ وہ مسجد سے نکل گیا، تب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس آدمی نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
ابو شعثاء رحمہ اللہ بيان کرتے ہيں کہ ہم لوگ مسجد میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ مؤذن نے اذان دی، تو اذان کے بعد ایک آدمی کھڑا ہوکر چلنے لگا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کی طرف ديکھنے لگے کہ کيا وہ مسجد سے باہر جانے والا ہے يا وہ کيا چاہتا ہے؟ جب انہيں پتہ چل گیا کہ وہ مسجد سے باہر نکل گیا، تو انھوں نے بتلایا کہ اس آدمی نے اپنے اس فعل کے ذریعہ نبی ﷺ کی نافرمانی کی ہے۔
حوالہ
كنوز رياض الصالحين, بإشراف حمد العمار, دار كنوز إشبيليا, الطبعة الأولى, 1430هـ.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407هـ - 1987م.
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لابن علان، نشر دار الكتاب العربي.
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426هـ.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي.
تطريز رياض الصالحين، لفيصل الحريملي، نشر: دار العاصمة، الرياض، الطبعة: الأولى، 1423هـ. - 2002م.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
عن عبد الله بن عبد الرحمان بن أبي صعصعة: أن أبا سعيد الخدري رضي الله عنه قال له: «إنِّي أرَاكَ تُحبُّ الغنم والبادية فإذا كُنْتَ في غنمك -أو بَادِيتِك- فَأذَّنْتَ للصلاةِ، فَارْفَعْ صوتك بِالنِّدَاءِ، فَإنَّهُ لا يَسمَعُ مدى صَوْتِ المُؤذِّنِ جِنٌّ، وَلاَ إنْسٌ، وَلاَ شَيْءٌ، إِلاَّ شَهِدَ لَهُ يَومَ القِيَامَةِ» قال أبو سعيد: سمعتُه من رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم .
عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ روایت کرتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”میں دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں اور صحرا کو محبوب رکھتے ہو، تو جب تم اپنی بکریوں میں یا صحرا اور جنگل میں رہو اور (وقت ہونے پر) نماز کے لیے اذان دو، تو اذان دیتے ہوئے اپنی آواز خوب بلند کرو، کیوں کہ مؤذن کی آوازِ اذان کو جہاں تک کوئی انسان، جِن یا کوئی چیز سنے گی، قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی“۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ حدیث میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
عبد اللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ روایت كرتے ہیں کہ ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا ک: ”میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں اور صحرا کو محبوب رکھتے ہو“ 'بادیۃ' 'حاضرۃ' (شہر) کی ضد ہے، اس کی جمع 'بواد' ہے۔ لہٰذا جب تم اپنی بکریوں میں یا اپنے صحرا میں رہو اور (وقت ہونے پر) نماز کے لیے اذان دو یعنی نماز کے لیے اذان دینے کا ارادہ کرو، تو بلند آواز سے اذان دو، کیوں کہ مؤذن کی آواز کے پہنچنے کی آخری حد تک جو بھی جن، انسان یا کوئی اور چیز اس آواز کو سنے گی۔ اس کا ایک مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس جملے سے (کائنات کی) ہر چیز مراد ہے، جس کی گواہی دینا ممکن ہو۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ جمادات کو چھوڑ کر ہر سننے کی طاقت رکھنے والے حیوانات کے لیے عام ہے، خواہ وہ غیر عاقل ہی کیوں نہ ہو۔ ”تو وہ قیامت کے روز اس کی گواہی دے گی“ کہ وہ مؤذنین میں سے تھا؛ تاکہ اس کے فضل و مرتبے کو خراج تحسین پیش کیا جائے اور اس کے اجر و ثواب کے بیان کا اظہار ہو۔
حوالہ
1- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي.
2- دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي-بيروت.
3- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ.
4- شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
5- صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
6- فتح الباري بشرح صحيح البخاري؛ للحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، دار المعرفة-بيروت.
7-كنوز رياض الصالحين؛ فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا-الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com