جب نماز کھڑی ہو جائے اور رات کا کھانا بھی سامنے آ جائے، تو رات کے کھانے سے پہل کرو۔
عن عائشة وعبد الله بن عمر وأنس بن مالك رضي الله عنهم مرفوعاً: «إِذَا أُقِيمَت الصَّلاَة، وحَضَرَ العَشَاء، فَابْدَءُوا بِالعَشَاء».
عائشہ رضی اللہ عنہا، عبد اللہ بن عمر اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز کھڑی ہو جائے اور رات کا کھانا بھی سامنے آ جائے، تو رات کے کھانے سے پہل کرو“۔
اس حدیث کی تمام روایات متفق علیہ ہیں۔درجہصحیح
تشریح
جب نماز کھڑی ہوجائے اورکھانے پینے کی اشیا سامنے موجود ہوں، تو مناسب یہ ہے کہ کھانے پینے سے پہل کی جائے؛ تاکہ نمازی کی بھوک ختم ہوجائے اور اس کا ذہن دوران نماز کھانے کی طرف نہ لگا رہے۔ لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ نمازکا وقت تنگ نہ ہو اور کھانے کی ضرورت اوراس کی چاہت بھی ہو۔ اس میں اس بات کی تاکید ہے کہ یہ شریعت کامل ہے اورآسانی وکشادگی کے ساتھ انسانی جان کے حقوق کا خیال رکھتی ہے۔
حوالہ
الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة لأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com