جب مؤذن اذان دیتا ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگتا ہے اور اذان کی جگہ سے بھاگ کر دور نکل جاتا ہے تاکہ اذان کی آواز نہ سنے۔ بظاہر شیطان جان بوجھ کر ہوا خارج کرتا ہے تاکہ وہ اپنی اس نکلنے والی آواز کو سننے میں مشغول ہوکر مؤذن کی آواز سننے سے غافل ہوجائے، یا وہ تحقیر کرتے ہوئے ایسا کرتا ہے جیسے بیوقوف لوگ کرتے ہیں۔ یہ بھی احتمال ہے کہ وہ بالقصد ایسا کرتا ہے تاکہ وہ نماز کے مناسب چیز طہارت (پاکیزگی) کا مقابلہ حدث (ناپاکی) کے ذریعہ کرے۔ اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ اذان کی آواز سن کر وہ بہت خوفزدہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ آواز نکلتی ہے۔ ” جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے، پھر جب اقامت شروع ہوتی ہے تو دوبارہ بھاگتا ہے“ یعنی اذان یا اقامت مکمل اور ختم ہو جائے۔ ”حَتَّى يَخْطِرَ“ یعنی وسوسے ڈالتا ہے۔ اس جملے کی اصل خطر البعير بذنبه ہے، یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب اونٹ اپنی دُم کو حرکت دے کر رانوں پر مارتا ہے۔ شیطان انسان کو گمراہ کرنے کے لیےآتا ہے۔ اذان کے کلمات سن کر شیطان اس لیے بھاگتا ہے کیونکہ وہ کلمۂ توحید، اسلامی عقائد کے اعلان اور دینی شعائر کے قیام کو دیکھتا ہے، نیز اللہ تعالیٰ کے ذکر کو سننا ناپسند کرتا ہے۔ اور یہی مطلب اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ﴾ "وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے“ کا یے، یعنی جو اللہ کے ذکر کے وقت پیچھے ہٹ جاتا، چھُپ جاتا اور دور نکل جاتا ہے۔ ”بَيْنَ المَرْءِ وَنَفْسِهِ“ یعنی نماز کے دوران شیطان انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور کہتا ہے: فلاں بات یاد کر، فلاں چیز یاد کر، فلاں چیز یاد کر، ”وہ چیزیں جو اس سے پہلے اسے یاد نہ تھیں“ یعنی ایسی باتیں جنہیں نمازی اپنی نماز شروع کرنے سے پہلے یاد نہیں کیا تھا۔ ”یہاں تک کہ انسان کا یہ حال ہو جاتا ہے“ یعنی بھول جاتا ہے اور اسے خیال نہیں رہ جاتا ہے کہ اس نے کتنی رکعت نماز پڑھی ہے، شیطان نماز کے دوران آتا ہے باوجود اس کے کہ نماز میں قرآن بھی پڑھا جاتا ہے؛ کیوں کہ نماز کا اکثر حصہ اللہ تعالیٰ سے مناجات اور رازدارانہ ہوتا ہے۔ لہٰذا شیطان نمازی کے دل میں وسوسے ڈال کر اس کی نماز یا خشوع خراب کرتا ہے۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ اذان کے وقت شیطان اس لیے بھاگتا ہے تاکہ قیامت کے دن وہ انسان کے لیے گواہی دینے پر مجبور نہ ہو جیسا کہ ابو سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیا ہے۔
1-بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي. 2-تطريز رياض الصالحين؛ تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبدالعزيز آل حمد، دار العاصمة-الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ. 3-دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي-بيروت. 4-رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. 5-شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. 6-صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. 7-صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبدالباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. 8-نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.