سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ابطح کی طرف نکلے پھر اذان دی، جب ”حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ“ اور ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ پر پہنچے تو اپنی گردن دائیں اور بائیں جانب موڑی اور خود نہیں گھومے۔

عن أبي جحيفة رضي الله عنه قال: رأيت بلالًا يؤذِّن ويدور ويتبع فاه هاهنا، وهاهنا، وإصبعاه في أُذنيه، ورسول الله صلى الله عليه وسلم في قُبَّةٍ له حمراء -أُراه قال: من أَدَمٍ- فخرج بلال بين يديه بِالعَنَزَةِ فركزها بِالبَطْحَاءِ، «فصلى إليها رسول الله صلى الله عليه وسلم، يمر بين يديه الكلب والحمار، وعليه حُلَّةٌ حمراء»، كأني أنظر إلى بَرِيقِ ساقيه. وفي رواية: رأيت بلالًا خرج إلى الأبطح فأذَّن فلما بلغ حي على الصلاة، حي على الفلاح، لوى عنقه يمينا وشمالا، ولم يستدِر.
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دیتے دیکھا، وہ گھوم رہے تھے اپنا چہرہ ادھر اور ادھر پھیر رہے تھے اور ان کی انگلیاں ان کے دونوں کانوں میں تھیں، رسول اللہ ﷺ اپنے سرخ خیمے میں تھے، وہ چمڑے کا تھا، بلال رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے سامنے سے نیزہ لے کر نکلے اور اسے بطحاء (میدان) میں گاڑ دیا۔ پھر رسول اللہﷺ نے اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھائی۔ اس نیزے کے آگے سے کتے اور گدھے گزر رہے تھے۔ اور آپ ﷺ ایک سرخ چادر پہنے ہوئے تھے، میں گویا آپ کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ابطح کی طرف نکلے پھر اذان دی، جب ”حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ“ اور ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ پر پہنچے تو اپنی گردن دائیں اور بائیں جانب موڑی اور خود نہیں گھومے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے بالائی مکہ، بطحاء میں پڑاؤ فرمایا تھا۔ چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے وضو کے باقی ماندہ پانی کو لے کر باہر آئے تو لوگ اس سے برکت حاصل کرنا شروع کر دیے اور بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بلال رضی اللہ عنہ کے منہ کو دیکھنے لگا وہ ”حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ“ اور ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ کہتے ہوئے دائیں بائیں مڑ رہے تھے تاکہ سب لوگوں کو یہ سنائی دے سکے کیونکہ ان دونوں جملوں میں نمازکے لیے آنے کی ترغیب ہے۔ پھر نبی ﷺ کے لیے ایک چھوٹا سا نیزہ گاڑ دیا گیاتاکہ وہ آپ ﷺ کی نماز کے دوران سترہ کا کام دے۔ پھر آپ ﷺ نے ظہر کی دو رکعتیں ادا فرمائیں۔ مسافر ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ جب تک مدینہ واپس نہیں آگئے تب تک چار رکعت والی نماز کو دو رکعت ہی پڑھتے رہے۔

حوالہ

تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام للحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، شرحه الشيخ د. صالح بن فوزان الفوزان، اعتنى بإخراجه: عبد السلام السليمان، ط 1 ،1427هـ/2006م. توضيح الأحكام من بلوغ المرام للحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، شرحه الشيخ عبدالله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة، ط الخامسة 1423هـ. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، ط 1، 1427هـ، دار ابن الجوزي، الرياض. سنن الترمذي لأبي عيسى محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق: بشار عواد معروف، دار الغرب الإسلامي – بيروت. مسند الإمام أحمد بن حنبل, المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن حنبل الشيباني، المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون, إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي, الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى،1421هـ - 2001 م. سنن أبي داود, المؤلف: أبو داود سليمان السِّجِسْتاني، المحقق: شعَيب الأرنؤوط - محَمَّد كامِل قره بللي, الناشر: دار الرسالة العالمية, الطبعة: الأولى، 1430 هـ - 2009 م. إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، محمد ناصر الدين الألباني، المكتب الإسلامي – بيروت، الثانية - 1405هـ. صحيح أبي داود, المؤلف: محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: مؤسسة غراس للنشر والتوزيع، الكويت, الطبعة: الأولى، 1423 هـ - 2002 م. تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي، محمد عبد الرحمن بن عبد الرحيم المباركفوري، دار الكتب العلمية - بيروت. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اذان اور اقامت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com