سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

یہ سنت ہے کہ جب مؤذن صبح کی نماز میں ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ کہے تو اس کے بعد ”الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ“ کہے۔

عَنْ أَنَسٍ رَضيَ اللهُ عنه قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ فِي أَذَانِ الْفَجْرِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ یہ سنت ہے کہ جب مؤذن صبح کی نماز میں ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ کہے تو اس کے بعد ”الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ“ کہے۔
اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارقطنی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ نماز فجر کی اذان (الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ) کے جملے کے ساتھ مخصوص ہے، دیگر نمازوں کے وقت اسےنہیں کہا جائے گا اور یہ ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ کے بعد کہا جائے گا۔

حوالہ

صحيح ابن خزيمة (1/ 233) (386). سنن الدارقطني (1/ 454) (944). السنن الكبرى للبيهقي (1/ 623) (1984). توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، لعبد الله البسام (1/ 510). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (2/ 239). فتاوى اللجنة الدائمة، اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء (6/ 62).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اذان اور اقامت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com