سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

تم ان کے امام ہو، تو تم ان کے کمزور ترین لوگوں کی رعایت کرنا، اور ایسا مؤذن مقرر کرنا جو اذان پر اجرت نہ لے۔

عن عثمان بن أبي العاص رضي الله عنه قال: يا رسول الله، اجعلني إمام قومي، قال: «أنت إمامهم، وَاقْتَدِ بأضعفهم، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّناً لا يأخذ على أذانه أجرا».
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے میری قوم کا امام مقرر فرما دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ان کے امام ہو، تو تم ان کے کمزور ترین لوگوں کی رعایت کرنا، اور ایسا مؤذن مقرر کرنا جو اذان پر اجرت نہ لے“۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

یہ حدیث بیان کرتی ہے کہ جو اپنے اندر امامت کی اہلیت پائے اس کے لیے جائز ہے کہ وہ حاکمِ وقت سے اس کا مطالبہ کرے، یہ امارت کا مطالبہ نہیں، اس لیے کہ امارت کا مطالبہ کرنا ممنوع ہے۔ ہاں امام پر اپنے کمزور اور عاجز مقتدیوں کی رعایت کرنا ضروری ہے ورنہ معاملہ ان کے لیے مشکل ہوجائے گا۔ مؤذن کے لیے یہ بہتر ہے کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے اذان دے تاکہ اس کا یہ عمل اخلاص کے قریب ہو۔ اگر تبرعاً کوئی اذان دینے والا نہ ہو تو حاکمِ وقت کا بیت المال سے اس کے لیے وظیفہ جاری کرنا جائز ہے۔

حوالہ

سنن الترمذي، محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق: بشار عواد معروف، دار الغرب الإسلامي، بيروت. مسند الإمام أحمد بن حنبل، أحمد بن حنبل أبو عبدالله الشيباني، تحقيق أبو المعاطي النوري، عالم الكتب. سنن أبي داود، سليمان بن الأشعث أبوداود، دار الفكر، تحقيق : محمد محيي الدين عبد الحميد. إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، محمد ناصر الدين الألباني، إشراف: زهير الشاويش، المكتب الإسلامي، بيروت، الطبعة الثانية، 1405هـ - 1985م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، اعتنى بإخراجه عبدالسلام بن عبد الله السليمان، الرسالة، بيروت، الطبعة الأولى 1427هـ - 2006م. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ - 2003م. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، عبد الله صالح الفوزان، دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1428هـ - 1432هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اذان اور اقامت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com