سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے۔ ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے"۔ پھر آپ نے تیسری بار فرمایا : "اس کے لیے جو چاہے۔

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم: «بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ» ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: «لِمَنْ شَاءَ».
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے۔ ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے"۔ پھر آپ نے تیسری بار فرمایا : "اس کے لیے جو چاہے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بیان فرمایا کہ ہر اذان و اقامت کے درمیان نفل نماز ہے۔ اس جملے کو آپ نے تین بار دہرایا۔ تیسری بار آپ نے یہ اضافہ بھی فرمایا کہ یہ اس شخص کے لیے مستحب ہے، جو نماز پڑھنا چاہے۔

فوائد
  1. اذان و اقامت کے درمیان نماز پڑھنا مستحب ہے۔
  2. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بات کو دہرایا کرتے تھے، تاکہ سامعین اچھی طرح سن لیں اور کہی گئی بات کی اہمیت پر زور دیا جا سکے۔
  3. یہاں دونوں اذانوں سے مراد اذان اور اقامت ہیں۔ ان کو "دو اذان" تغليبًا کہا گیا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح عرب کے لوگ سورج اور چاند کو "قمرین" یعنی دونوں چاند اور ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو "عمرین" یعنی دونوں عمر کہتے ہيں۔
  4. اذان وقت داخل ہونے کا اعلان ہے۔ جب کہ اقامت نماز پڑھنے کے لیے حاضر ہونے کا اعلان ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 128) (627)، صحيح مسلم (1/ 573) (838)، البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (16/ 671)، النهاية في غريب الحديث والأثر (31).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اذان اور اقامت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com