سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

امام کے رعیت پر حقوق

18 احادیث

جب اللہ کسی حاکم کے ساتھ خیر کا اِرادہ فرماتا ہے تو اُسے راست باز (خیر خواہ) وزیر عطا کر دیتا ہے۔ وہ اگر بُھولتا ہےتو وہ (وزیر) اُسے یاد کرا دیتا ہے۔ اور اگر حاکم کو یاد ہو تو وه اس کی مدد کرتا ہے۔ اور جب اللہ اس کے ساتھ بھلائی کے علاوہ كسی اور بات (برائی) کا اِرادہ فرماتا ہے تو اُس کے لیے بُرا وزیر مقرر کر دیتا ہے۔ اگر وہ بھول جائے تو اسے یاد نہیں کراتا، اور اگر اسے یاد ہو تو اُس کی مدد نہیں کرتا۔

عن عائشة رضي الله عنها مرفوعًا: «إِذَا أَرَادَ اللهُ بِالأمِيرِ خَيرًا، جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ صِدقٍ، إِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ، وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ، وَإِذَا أَرَادَ بِهِ غَيرَ ذَلِكَ جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ سُوءٍ، إِنْ نَسِيَ لَمْ يُذَكِّرهُ، وَإِنْ ذَكَرَ لَمْ يُعِنْهُ».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ کسی حاکم کے ساتھ خیر کا اِرادہ فرماتا ہے تو اُسے راست باز (خیر خواہ) وزیر عطا کر دیتا ہے۔ وہ اگر بُھولتا ہےتو وہ (وزیر) اُسے یاد کرا دیتا ہے۔ اور اگر حاکم کو یاد ہو تو وه اس کی مدد کرتا ہے۔ اور جب اللہ اس کے ساتھ بھلائی کے علاوہ كسی اور بات (برائی) کا اِرادہ فرماتا ہے تو اُس کے لیے بُرا وزیر مقرر کر دیتا ہے۔ اگر وہ بھول جائے تو اسے یاد نہیں کراتا، اور اگر اسے یاد ہو تو اُس کی مدد نہیں کرتا“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ کسی حاکم کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے“۔ اس حدیث میں ارادے سے مراد کونی و قدری ارادہ ہے۔ اسی لیے اس میں خیر و شر دونوں ہی اقسام کے ساتھ تعلق کا ذکر ہوا ہے؛ کیونکہ اللہ اسے کبھی پسند کرتا ہے اور کبھی ناپسند کرتا ہے۔ یہ ارادہ اپنی وسعت کے ذریعے شرعی ارادے کو بھی شامل ہے جسے اللہ پسند کرتا ہے۔ حکمرانوں میں سے جسے راست باز و خیر خواہ وزیر مل جائے اس کو ملنے والی اس خیر کی تفسیر دونوں جہانوں کی بھلائی کی توفیق ملنے سے کی گئی ہے، اسی طرح اس خیر کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد جنت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ راست باز وزیر عطا کر دیتا ہے۔" یعنی جو قول و فعل اور ظاہر و باطن میں سچا ہوتا ہے۔ وزیر کی اضافت سچ کی طرف کی گئی ہے کیونکہ صحبت وغیرہ میں سچائی ہی بنیاد ہوتی ہے۔ ”اگر وہ بھول جائے“۔ یعنی وہ امیراگر اپنی کسی ضرورت کی بات کو بھول جائے – اور بھولنا انسان کی فطرت ہے - ، یا کسی شرعی حکم یا مظلوم کے معاملے یا رعیت کے مفاد کا خیال کرنے سے بھٹک جائے تو ”وہ اس کو یاد دہانی کرا دیتا ہے“۔ یعنی یہ سچا وزیر اسے یاد کرا دیتا ہے اور اس کی راہنمائی کرتا ہے۔ اگر حاکم کو وہ یاد ہو تو پھر رائے اور قول و فعل کے ذریعے سے اس کی مدد کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اللہ کا اس کے علاوہ کسی اور شے کا ارادہ ہو“۔ یعنی خیر کے بجائے کسی اور شے کا ارادہ ہو جیسے کہ شر کا ارادہ ہو۔ آپ ﷺ نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ اس کو بیان کیا تا کہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ شر سے اجتناب کرنے پر ابھارا جا رہا ہے۔ کیونکہ جب آپ ﷺ اس کی قباحت اور شناعت کی وجہ سے اس کے نام یعنی شر کے ذکر سے بھی اجتناب کر رہے ہیں تو اس کے مدلول سے تو بطریق اولی اجتناب کرنا چاہیے۔ خیر کے لئے اسم اشارہ "ذلک" استعمال کیا گیا جو کہ بعید کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ اس میں خیر کی تعظیم اور اس کے علو مرتبت کا بیان ہے اور اسے پانے اورحاصل کرنے پر ابھارا گیا ہے۔ خیر کے علاوہ کے ارادہ کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ”اللہ اس کے لیے برا وزیر مقرر کر دے گا“۔ یعنی ایسا وزیر جو قول و فعل میں برا ہو گا۔ یعنی سابق الذکر وزیر کا الٹا ہو گا۔ ”اگر وہ بھول جائے“۔ یعنی کسی ضروری شے کو چھوڑ دے تو ”وہ اسے یاد نہیں کراتا“ کیونکہ اس کے پاس وہ قلبی نور نہیں ہوتا جو اسے اس کام پر ابھارے۔ ”اور اگر اسے یاد ہو تو وہ اس کی مدد نہیں کرتا“ بلکہ وہ اپنی فطری برائی اور بد کرداری کی وجہ سے اسے اس سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الدمام، الطبعة: الأولى 1415هـ. تطريز رياض الصالحين، فيصل بن عبد العزيز المبارك، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى 1423هـ، 2002م. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، محمد علي بن البكري بن علان، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، الطبعة: الرابعة 1425هـ. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ. صحيح الترغيب والترهيب، محمد ناصر الدين الألباني، مكتبة المعارف، الرياض، الطبعة: الخامسة. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الرابعة عشر، 1407هـ، 1987م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللہ نے کوئی ایسا نبی اور خلیفہ نہیں بھیجا کہ اس کے مشیر (صلاح کار)دو طرح کے ہوتے ہیں ایک تو وہ جو اسے نیکی اوربھلائی کا حکم دیتے ہیں اور اس پر ابھارتے رہتے ہیں اور دوسرے وہ جو اسے برائی کا حکم دیتے ہیں اوراس پر اسے ابھارتے رہتے ہیں۔

عن أبي سعيد الخدري وأبي هريرة رضي الله عنهما مرفوعاً: "ما بعث الله من نبي ولا اسْتَخْلَفَ من خليفة إلا كانت له بطانتان: بطانة تأمره بالمعروف وتَحُضُّهُ عليه، وبطانة تأمره بالشر وتَحُضُّهُ عليه، والمعصوم من عصم الله".
ابوسعید خدری - رضی اللہ عنہ - سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا اور نہ کوئی خلیفہ ایسا بنایا جس کے دو مشیر (قریبی راز دار) نہ ہوں۔ایک مشیر اسے خیر و بھلائی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا اسے شر اور برے کام کا حکم دیتا اور اس پر ابھارتا ہے، اور برائیوں سے معصوم و محفوظ تو وہی ہوسکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ معصوم و محفوظ رکھے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا اور نہ کوئی خلیفہ ایسا بنایا جس کے دو مشیر (قریبی راز دار) نہ ہوں۔ ایک مشیر اسے خیر و بھلائی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا اسے شر اور برے کام کا حکم دیتا اور اس پر ابھارتا ہےاور برائی کے مشیر کی تاثیر سے وہی شخص بچ سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔

حوالہ

صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى 1418 هـ، 1997م. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الرابعة عشر، 1407هـ، 1987م. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ، 2007م. شرح رياض الصالحين، محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

مانگنے میں اصرار نہ کیا کرو، اللہ کی قسم تم میں سے کوئی بھی مجھ سے کوئی چیز مانگے، اور میں تمہارے مانگنے کی وجہ سے کوئی چیز دیدوں حالاں کہ میں اس دینے کو پسند نہ کروں، اس کو میرے عطا کردہ مال میں برکت نصیب نہیں ہوگی۔

عن معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا تُلْحِفُوا في المسأَلة، فوالله لا يَسْألني أحدٌ منكم شيئًا، فَتُخْرِجَ له مسألته منِّي شيئًا وأنا له كارِهٌ، فيُبَارَك له فيما أَعْطَيتُه».
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مانگنے میں اصرار نہ کیا کرو، اللہ کی قسم تم میں سے کوئی بھی مجھ سے کوئی چیز مانگے، اور اُس کا مانگنا مجھ سے کوئی چیز نکال لے اور میں اسے ناپسند کروں، اس کو میرے عطا کردہ مال میں برکت نصیب نہیں ہوگی“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے وارد مانگے میں اصرار کرنے کی ممانعت کو بتا رہے ہیں یعنی مانگنے میں مبالغہ اور اصرار نہ کیا کرو۔ اس لیے کہ مانگنے میں اصرار کرنا دی ہوئی چیز سے برکت ختم کر دیتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا کہ جب کوئی شخص اصرار کرکے آپ ﷺ سے کچھ مانگے،اس کے مانگنے کی وجہ سے وہ چیز آپ ﷺ سے نکل جاتی ہے، حالاں کہ آپ ﷺ اسے پسند نہیں کرتے، یعنی اُسے یہ چیز دینے یا اُسے نکالنے کو، تو اس میں برکت نہیں ہوتی، یعنی دریں صورت میری دی ہوئی چیز میں کبھی برکت نہیں ہوتی یعنی اصرار (وتنگ) کرکے مانگنے پر۔

حوالہ

كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، تأليف: عبيد الله بن محمد المباركفوري، الناشر: إدارة البحوث العلمية والدعوة والإفتاء، الطبعة: الثالثة - 1404 هـ بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، نسخة الكترونية ، لا يوجد بها بيانات نشر. صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة ، الطبعة الأولى : 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

دین خیر خواہی کا نام ہے

عن تميم الداري رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الدِّينُ النَّصِيحَةُ» قُلْنَا: لِمَنْ؟ قَالَ: «لِلهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ».
تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : "دین خیر خواہی کا نام ہے"۔ ہم نے عرض کیا: کس کی خیر خواہی کا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم حکمرانوں کی اور عام مسلمانوں کی۔“
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی ﷺ نے بتایا کہ دین اخلاص اور صدق کی بنیادوں پر قائم ہے۔ اس کا پاس و لحاظ اسی طرح رکھنا چاہیے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے واجب کیا ہے۔ کامل طریقے سے‘ اس میں نہ کوتاہی ہو اور نہ دھوکہ۔ چنانچہ اللہ کے نبیﷺ سے پوچھا گیا کہ خیرخواہی کس کی ہونی چاہیے؟ تو آپ نے جواب دیا : 1- اللہ سبحانہ و تعالی تعالی کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف اسی کی خاطر عبادت کی جائے، کسی کو اس کا ساجھی نہ بنایا جائے، اس کی ربوبیت، الوہیت اور اس کے اسما و صفات پر ایمان رکھا جائے، اس کے حکم کى تعظیم کی جائے اور اس پر ایمان لانے کی دعوت دی جائے۔ 2- اللہ کی کتاب یعنی قرآن پاک کے لیے خیر خواہی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کا کلام مانا جائے، اسے اللہ تعالیٰ کی آخری اور پچھلی تمام شریعتوں کو منسوخ کرنے والی کتاب تسلیم کیا جائے، اس کی کما حقہ تعظیم اور تلاوت کی جائے، اس کی محکم آیتوں پر عمل کیا جائے، اس کی متشابہ آیتوں کو تسلیم کیا جائے، اس کی آیتوں کے غلط مطالب بیان کرنے والوں کی غلط بیانیوں کو سامنے لایا جائے، اس کی موعظتوں سے عبرت حاصل کی جائے، اس کے علوم کو پھیلایا جائے اور اس کی دعوت دی جائے۔ 3- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے آخری رسول ہونے پر یقین رکھا جائے، آپ کی لائی ہوئی تعلیمات کی تصدیق کی جائے، آپ کے حکموں کی تعمیل کی جائے، آپ کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہا جائے، آپ کے بتائے ہوئے طریقے ہی کے مطابق اللہ کی عبادت کی جائے، اس بات کو مانا جائے کہ ہمارے اوپر آپ کا بہت بڑا حق ہے، آپ کی عزت کی جائے، آپ کی دعوت کو عام کیا جائے، آپ کى لائی ہوئی شریعت کو پھیلایا جائے اور آپ پر لگائے جانے والے الزامات کو رد کیا جائے۔ 4- مسلم حکمرانوں کی خیر خواہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حق پر ان کی مدد کی جائے، ان سے ٹکرانے سے اجتناب کیا جائے اور نیکی کے کاموں میں ان کی بات سنی اور مانی جائے۔ 5- عام مسلمانوں کی خیر خواہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے، ان کو اچھے کاموں کی دعوت دی جائے، ان کو تکلیف دینے سے گریز کیا جائے، ان کا بھلا ہو اس بات سے محبت رکھی جائے اور نیکی اور تقوی کے کاموں میں ان کے ساتھ باہمی تعاون کا رشتہ رکھا جائے۔

فوائد
  1. سبھوں کی خیرخواہی کا حکم۔
  2. دین میں خیرخواہی کا بڑا مقام ہے۔
  3. دین‘ اعتقادات، اقوال اور اعمال پر مشتمل ہے۔
  4. خیرخواہی کے اندر یہ بات بھی داخل ہے کہ جس کی خیرخواہی کرنی ہے، اس کے ساتھ کسی بھی طرح کے دھوکے سے نفس کو پاک رکھا جائے اور اس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ رکھا جائے۔
  5. اللہ کے نبی صلی اللہ کے تعلیم دینے کا ایک بہترین طریقہ یہ تھا کہ آپ پہلے چیزوں کو مجمل طور پر بیان کرتے تھے اور اس کے بعد ان کی تفصیل بیان کرتے تھے۔
  6. آغاز اہم ترین سے اہم کی طرف کی ترتیب کے ساتھ کرنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اللہ کی خیرخواہی کا ذکر کیا اور اس کے بعد اللہ کی کتاب کی خیرخواہی، اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خواہی، اس کے بعد مسلم حکمرانوں کی خیرخواہی اور اس کے بعد عام مسلمانوں کی خیرخواہی کا ذکر کیا۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 74) (55). التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثا النووية (ص21). شرح الأربعين النووية، لابن عثيمين (ص115). شرح النووي على مسلم (2/ 37).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو لوگ تمھیں نماز پڑھاتے ہیں، پس اگر صحیح پڑھاتے ہیں، تو تمھیں اس کا ثواب ملے گا اور اگر کوئی غلطی کرتے ہیں، تو تمھیں (تمھاری نماز) کا ثواب مل کر رہے گا اور ان کا گناہ ان کے ذمے ہوگا۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "يُصَلُّونَ لكم، فإن أصابوا فلكم، وإن أخطأوا فلكم وعليهم".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو لوگ تمھیں نماز پڑھاتے ہیں، پس اگر صحیح پڑھاتے ہیں، تو تمھیں اس کا ثواب ملے گا اور اگر کوئی غلطی کرتے ہیں، تو تمھیں (تمھاری نماز) کا ثواب مل کر رہے گا اور ان کا گناہ ان کے ذمے ہوگا“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ کچھ ائمہ یعنی حکمران ایسے آئیں گے، جو تمھیں نماز پڑھائیں گے، اگر وہ خیر و خوبی کے ساتھ نماز ادا کریں، تو تمھارے اور ان کے حق میں اجر و ثواب کا باعث ہوگی اور اگر نماز میں بگاڑ پیدا کردیں، تو تمھیں اجر و ثواب حاصل ہوجائے گا اور نماز کی خرابی و بگاڑ کا وبال ان کے سر ہوگا۔ یہ بات گرچہ امرا کے تعلق سے کہی گئی ہے، لیکن مساجد کے ائمہ بھی اس میں شامل ہیں، ان میں سے ہر شخص نماز کو بحسن و خوبی یا بگاڑ کر ادا کرنے کے اعتبار سے بدلے کا مستحق ہوگا۔ اس حدیث میں اس بات کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ امرا و حکمرانوں کی زیادتیوں پر صبر کرنا واجب ہے۔ اگر وہ نماز خراب طریقے سے پڑھائیں اور مقررہ اوقات میں ادا نہ کریں، تو ہم پر واجب یہی ہے کہ ان سے علٰحدگی اختیار نہ کریں اور نماز باجماعت انھیں کے مطابق موخر کرکے پڑھ لیا کریں۔ ہمارا یہ نماز کو اول وقت سے موخر کرکے پڑھنا، جماعت کی موافقت اور علٰحدگی سے بچنے کی وجہ سے عذر پر مبنی ہوگا اور ہمیں اول وقت میں نماز ادا کرنے کا ثواب ملے گا۔ لیکن تاخیر اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ نماز کا وقت ختم نہ ہونے پائے۔ خیال رہے کہ لوگوں اور حکمرانوں سے علٰحدگی اختیار کرنا، لوگوں کو ان کے خلاف بغاوت پر اکسانا اور ان کی برائیوں کو عام کرنا، یہ سارے کام دین اسلام سے دور کرنے کے ذرائع و اسباب ہیں۔

حوالہ

صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت. نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى، 1397هـ، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي، سنة النشر: 1418هـ - 1997م. رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، تحقيق: د.ماهر بن ياسين الفحل، الطبعة الأولى، 1428هـ. شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426هـ. تطريز رياض الصالحين، لفيصل بن عبد العزيز المبارك النجدي, تحقيق: عبد العزيز آل حمد, دار العاصمة, الطبعة الأولى، 1423هـ. مجموع فتاوى العلامة عبد العزيز بن باز -رحمه الله- أشرف على جمعه وطبعه: محمد بن سعد الشويعر.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”سنو اور اطاعت کرو۔ ان پر اس بات کی ذمے داری ہے، جو ان کے اوپر ڈالى گئى ہے اور تم پر اس بات کی ذمے داری ہے جو تم پر ڈالى گئى ہے“۔

عَنْ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: سَأَلَ سَلَمَةُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ رضي الله عنه رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَسْأَلُونَا حَقَّهُمْ وَيَمْنَعُونَا حَقَّنَا، فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ، فَجَذَبَهُ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، وَقَالَ: «اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا، وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ».
وائل حضرمی کہتے ہیں کہ سلمہ بن یزید جعفی رضی اللہ عنہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا: اے اللہ کے نبی! اگر ہم پر ایسے حکمراں مسلط ہو جائیں، جو اپنا حق تو ہم سے وصول کریں، لیکن ہمارا حق ہمیں نہ دیں، تو آپ اس معاملے میں ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے ان سے اعراض کیا۔ انھوں نے دوبارہ سوال کیا، تو بھی آپ ﷺ نے ان کى بات پر توجہ نہ دی، انہوں نے پھر سوال کیا دوسرى بار یا تیسری بار تو ان کو اشعث بن قیس نے کھینچ لیا، اور آپﷺ نے فرمایا: ”سنو اور اطاعت کرو۔ ان پر اس بات کی ذمے داری ہے، جو ان کے اوپر ڈالى گئى ہے اور تم پر اس بات کی ذمے داری ہے جو تم پر ڈالى گئى ہے“۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ایسے حکمرانوں کے بارے میں پوچھا گيا، جو لوگوں سے اپنی بات ماننے اور پیروی کرنے کا مطالبہ کرتے ہيں، لیکن انصاف کرنے، مال غنیمت دینے، ظلم سے بچانے اور برابری کا معاملہ کرنے جیسے اپنے اوپر عائد ہونے والے لوگوں کے حقوق ادا نہيں کرتے۔ ایسے میں ان کے ساتھ کیا برتاؤ ہونا چاہیے؟ یہ سوال سننے کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سائل سے منہ پھیر لیا۔ ایسا لگا کہ آپ کو یہ سوال پسند نہيں آیا۔ لیکن سائل اپنا سوال دوسری بار اور پھر تیسری بار دوہراتا رہا۔ یہ دیکھ کر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے خاموش کرنے کے لیے سائل کو کھینچا۔ لہذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سوال کا جواب دے دیا۔ فرمایا : تم ان کی بات سنو اور ان کے حکم کی تعمیل کرو۔ کیوں کہ ان کو عدل و انصاف کرنے اور عوام کو ان کا حق دینے جیسی ذمے داریوں کا جواب دینا ہے، جو ان کے سر پر ڈالی گئی ہيں اور تمہیں اطاعت گزاری، حقوق کی ادائیگی اور آزمائش کے موقع پر صبر جیسی ان ذمے داریوں کا جواب دینا ہے، جو تمھارے سر پر ڈالی گئی ہيں۔

فوائد
  1. اللہ کی رضا جوئی کے کاموں میں حکمرانوں کی بات سنی جائے گی اور ان کی اطاعت ہر حال میں کی جائے گی، خواہ وہ رعیت کا حق ادا نہ بھی کرتے ہوں۔
  2. حکمرانوں کی جانب سے ان کے حقوق کی ادائیگی میں ہونے والی کوتاہی اس بات کی اجازت نہيں دیتی کہ عوام بھی اپنی ذمے داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی برتنے لگیں۔ کیوں کہ ہر انسان سے خود اس کے عمل کے بارے میں پوچھا جائے گا اور خود اس کی کوتاہی کا مؤاخذہ ہوگا۔
  3. دین کی بنیاد جیسے کو تیسا کے اصول پر نہیں، بلکہ اپنی ذمے داریاں ادا کرنے پر ہے۔ خواہ سامنے والا شخص اپنی ذمے داری کی ادائیگی میں کوتاہی ہی کیوں نہ کرتا ہو۔ یہی بات اس حدیث میں کہی گئی ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (3/ 1474) (1846). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 719). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 664). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص432). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 553).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو شخص کسی امام کی بيعت کرے اور اسے اپنا ہاتھ اور اپنے دل کا پھل دے دے (یعنی دل میں اس کی بیعت کے پورا کرنے کا عزم رکھے) تو اسے چاہیے کہ مقدور بھر اس کی اطاعت کرے۔ پھر اگر کوئی دوسرا شخص آکر اس سےحکومت چھیننے کے لیے جھگڑا کرے تو دوسرے کی گردن ماردو۔

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: كنا مع رسول الله - صلى الله عليه وسلم- في سفر، فَنَزَلنَا مَنْزِلًا، فَمِنَّا مَنْ يُصلِح خِبَاءَه، ومِنَّا من يَنتَضِل، ومِنَّا مَن هو في جَشَرِهِ، إِذْ نادى مُنادي رسول الله صلى الله عليه وسلم : الصَّلاةُ جَامِعَةٌ. فاجْتَمَعنَا إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال: «إِنَّه لَمْ يَكُن نبي قبْلِي إِلاَّ كَان حَقًّا عليه أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَه عَلَى خَيرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُم، ويُنذِرَهُم شّرَّ ما يعلمه لهم، وإِنَّ أُمَّتُكُم هذه جَعَل عَافِيَتَهَا في أوَّلِها، وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلاَءٌ وأُمُورٌ تُنكِرُونَهَا، وتَجِيءُ فِتنَةٌ يُرَقِّقُ بَعْضُهَا بَعضًا، وتَجِيءُ الفتنة فيقول المؤمن: هذه مُهلِكَتِي، ثُمَّ تَنْكَشِف، وتجيء الفتنة فيقول المؤمن: هَذِه هذِه. فمَنْ أَحَبَّ أنْ يُزَحْزَحَ عن النار، ويدخل الجنة، فَلْتَأْتِه مَنِيَتُهُ وهو يؤمن بالله واليوم الآخر، وَلْيَأتِ إِلى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إليه، ومَنْ بَايَع إِمَامًا فَأَعْطَاه صَفْقَةَ يَدِهِ، وَثَمْرَةَ قلْبِهِ، فَلْيُطِعُه إِن اسْتَطَاع، فَإِن جَاء آخَرُ يُنَازِعُه فَاضْرِبُوا عُنُقَ الآخَرِ».
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم ايک سفر ميں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ ہم نے ایک منزل پر قيام کيا، ہم ميں سے بعض اپنے خيمے درست کر رہے تھے، بعض تيراندازی ميں مقابلہ کررہے تھے اور بعض اپنے مويشيوں ميں لگے ہوئے تھے کہ اچانک رسول اللہ ﷺ کے منادی نے آواز لگائی: ’’نماز کے لیے جمع ہو جائیں۔‘‘ ہم سب رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوگئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھ سے پہلے جو بھی نبی ہوا اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنی امت کی رہنمائی ايسے کاموں کی طرف کرے جن کو وہ ان کے لیے بہتر جانتا ہے۔ اور ان کو ان کاموں سے ڈرائے جن کو وہ ان کے لیے برا جانتا ہے۔ اور تمہاری اس امت کی عافیت اس کے پہلے حصے میں رکھ دی گئی ہے اور اس کے آخری حصے ميں آزمائش اور ايسے معاملات پيش آئیں گے جن کو تم برا سمجھو گے اور ایسے فتنے ظہور پذير ہوں گے جو ایک دوسرے کو معمولی بنا دیں گے۔ ايک فتنہ سامنے آئے گا تو مومن کہے گا: یہی ميری ہلاکت کا باعث ہو گا۔ پھر وہ دور ہو جائے گا۔ پھر (کوئی اور) فتنہ ظہور پذير ہو گا تو مومن کہے گا: یہی سب سے بڑا فتنہ ہے۔ پس جس شخص کو يہ پسند ہو کہ وہ جہنم کی آگ سے دور کرديا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے، تواس کو موت اس حالت ميں آنی چاہیے کہ وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرے جو اپنے ساتھ کئے جانے کو پسند کرے، اور جو شخص کسی امام کی بيعت کرے اور اسے اپنا ہاتھ اور اپنے دل کا پھل دے دے (یعنی دل میں اس کی بیعت کے پورا کرنے کا عزم رکھے) تو اسے چاہیے کہ مقدور بھر اس کی اطاعت کرے۔ پھر اگر کوئی دوسرا شخص آکر اس سےحکومت چھیننے کے لیے جھگڑا کرے تو دوسرے کی گردن ماردو۔”
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ اللہ کی طرف دعوت دینے والوں پر بھی وہی لازم ہے جو انبیاء پر لازم تھا یعنی اچھائی کو بیان کرنا، اس کی ترغیب دینا، اس کی طرف لوگوں کى راہنمائی كرنا، اور برائی کی وضاحت کرنا اور اس سے ڈرانا۔ اس حدیث میں اس بات کا بھی بیان ہے کہ اس امت کا ابتدائی حصہ تو خیر میں رہا اور آزمائش سے محفوظ رہا ليکن اس امت کے آخری حصے کو اس طرح شر اور آزمائش پیش آئے گی کہ آنے والے فتنے پہلے کے فتنوں کو معولی اور ہلکا بناديں گے اور ان سے نجات توحید کے اقرار، سنت کی پیروی، لوگوں سے حسن سلوک اور حاکم کی بیعت کی پابندی, اس کے خلاف عدم بغاوت اور ہر اس شخص سے قتال کے ذريعہ ہی ممکن ہوگی جو مسلمانوں کی جماعت کا شیراہ بکھیرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔

حوالہ

- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه . - دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي-بيروت - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. - صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. - كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى1430ه

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

تم میں سے جسے ہم کسی کام کی ذمے داری سونپیں اور وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی کوئی کم تر چیز چھپائے، تو وہ خیانت ہو گی، جسے لے کر وہ قیامت کے دن حاضر ہو گا۔

عن عدي بن عميرة الكندي رضي الله عنه مرفوعاً: «من اسْتَعْمَلْنَاهُ منكم على عمل، فكَتَمَنَا مِخْيَطًا فما فوقه، كان غُلُولا يأتي به يوم القيامة». فقام إليه رجلٌ أسودُ من الأنصار، كأني أنظر إليه، فقال: يا رسول الله، اقبل عني عَمَلَكَ، قال: «وما لك؟» قال: سمعتك تقول كذا وكذا، قال: «وأنا أقوله الآن: من اسْتَعْمَلْنَاهُ على عمل فلْيَجِيْء بقليله وكثيره، فما أُوتِيَ منه أَخَذَ، وما نهي عنه انْتَهَى».
عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جسے ہم کسی کام کی ذمہ داری سونپیں، پھر وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی کوئی کم تر چیز چھپائے، تو وہ خیانت ہو گی، جسے لے کر وہ قیامت کے دن حاضر ہو گا“۔ یہ سن کر ایک سانولے رنگ کے انصاری، جنھیں گویا میں اب بھی دیکھ رہا ہوں، کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! آپ نے مجھے جو کام سونپا تھا، اس سے مجھے مستعفی ہونے کی اجازت دیجیے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ تمھیں کیا ہو گیا؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے آپ کو ایسے فرماتے ہوئے جو سن لیا ہے! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! میں اب اسے پھر کہتا ہوں کہ جسے ہم کسی کام کی ذمے داری سونپیں، وہ کم یا زیادہ سب کچھ لے کر آئے۔ جو اسے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے منع کر دیا جائے اس سے رک جائے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

تم میں سے جس کسی کو ہم نے کسی کام پر لگایا، مثلا زکاۃ یا غنیمت وغیرہ جمع کرنے میں پر مامور کیا اور اس نے ایک سوئی یا اس سے بھی کوئی چھوٹی شے چھپا لی، تو یہ خیانت ہو گی اور وہ قیامت کے دن اسے لے کر آئے گا۔ اس پر آپ ﷺ کے سامنے ایک انصاری شخص کھڑا ہوا اور اجازت چاہی کہ وہ اس کام سے دست بردار ہو جائے، جس کی ذمے دای آپ ﷺ نے اسے سونپی تھی، تو نبی ﷺ نے اس سے پوچھا کہ تمھیں کیا ہوا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ سب کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے (اس لیے ڈر لگ رہا ہے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں پھر وہی بات کہتا ہوں کہ ہم تم میں سے جس کو عامل بنائیں، اسے چاہیے کہ وہ کم یا زیادہ سب کچھ لے کر آ جائے۔ پھر اسے جو کچھ بطور اجرت دیا جائے، وہ لے لے اور جو نہ دیا جائے اور وہ اس کا حق بھی نہ ہو، اس کے لینے سے باز رہے۔

حوالہ

دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لابن علان، نشر دار الكتاب العربي. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407ه 1987م. كنوز رياض الصالحين، نشر: دار كنوز إشبيليا، الطبعة: الأولى، 1430ه 2009م. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي. المعجم الوسيط، نشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت – لبنان، الطبعة: الثانية. سنن أبي داود، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، نشر: المكتبة العصرية، صيدا – بيروت. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
18 میں سے 8
18 احادیث
  1. جب اللہ کسی حاکم کے ساتھ خیر کا اِرادہ فرماتا ہے تو اُسے راست باز (خیر خواہ) وزیر عطا کر دیتا ہے۔ وہ اگر بُھولتا ہےتو وہ (وزیر) اُسے یاد کرا دیتا ہے۔ اور اگر حاکم کو یاد ہو تو وه اس کی مدد کرتا ہے۔ اور جب اللہ اس کے ساتھ بھلائی کے علاوہ كسی اور بات (برائی) کا اِرادہ فرماتا ہے تو اُس کے لیے بُرا وزیر مقرر کر دیتا ہے۔ اگر وہ بھول جائے تو اسے یاد نہیں کراتا، اور اگر اسے یاد ہو تو اُس کی مدد نہیں کرتا۔
  2. اللہ نے کوئی ایسا نبی اور خلیفہ نہیں بھیجا کہ اس کے مشیر (صلاح کار)دو طرح کے ہوتے ہیں ایک تو وہ جو اسے نیکی اوربھلائی کا حکم دیتے ہیں اور اس پر ابھارتے رہتے ہیں اور دوسرے وہ جو اسے برائی کا حکم دیتے ہیں اوراس پر اسے ابھارتے رہتے ہیں۔
  3. مانگنے میں اصرار نہ کیا کرو، اللہ کی قسم تم میں سے کوئی بھی مجھ سے کوئی چیز مانگے، اور میں تمہارے مانگنے کی وجہ سے کوئی چیز دیدوں حالاں کہ میں اس دینے کو پسند نہ کروں، اس کو میرے عطا کردہ مال میں برکت نصیب نہیں ہوگی۔
  4. دین خیر خواہی کا نام ہے
  5. جو لوگ تمھیں نماز پڑھاتے ہیں، پس اگر صحیح پڑھاتے ہیں، تو تمھیں اس کا ثواب ملے گا اور اگر کوئی غلطی کرتے ہیں، تو تمھیں (تمھاری نماز) کا ثواب مل کر رہے گا اور ان کا گناہ ان کے ذمے ہوگا۔
  6. ”سنو اور اطاعت کرو۔ ان پر اس بات کی ذمے داری ہے، جو ان کے اوپر ڈالى گئى ہے اور تم پر اس بات کی ذمے داری ہے جو تم پر ڈالى گئى ہے“۔
  7. جو شخص کسی امام کی بيعت کرے اور اسے اپنا ہاتھ اور اپنے دل کا پھل دے دے (یعنی دل میں اس کی بیعت کے پورا کرنے کا عزم رکھے) تو اسے چاہیے کہ مقدور بھر اس کی اطاعت کرے۔ پھر اگر کوئی دوسرا شخص آکر اس سےحکومت چھیننے کے لیے جھگڑا کرے تو دوسرے کی گردن ماردو۔
  8. تم میں سے جسے ہم کسی کام کی ذمے داری سونپیں اور وہ ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی کوئی کم تر چیز چھپائے، تو وہ خیانت ہو گی، جسے لے کر وہ قیامت کے دن حاضر ہو گا۔
  9. تنگی اور آسانی، نشاط اور سستی اور دوسروں کو تم پر ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی تم امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا اپنے اوپر لازم کرلو۔
  10. ہم جب رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر سمع و طاعت کی بیعت کرتے تو آپ ﷺ فرماتے: جتنی تم میں استطاعت ہے اس کے بقدر۔
  11. بندہ مسلم پر لازم ہے کہ وہ (حکمران کی بات) سنے اور اطاعت کرے خواہ وہ بات اسے پسند ہو یا نا پسند الا یہ کہ اسے گناہ کا حکم دیا جائے۔ چنانچہ جب اسے گناہ کا حکم دیا جائے تو پھر نہ سنے اور نہ اطاعت کرے
  12. جو شخص بادشاہ کی توہین کرے گا تو اللہ تعالی اس شخص کو ذلیل کرے گا۔
  13. سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تم پر کسی حبشی غلام ہی کو حاکم مقرر کر دیا جائے، جس کا سر کشمش کی طرح (چھوٹا سا) ہو
  14. جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی، اس نے میری نافرمانی کی۔
  15. تمہارے بہترین حکمراں وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کريں، تم ان کے حق ميں دعائے خير کرو اور وہ تمہارے حق ميں دعائے خير کریں۔ اور تمہارے بدترین حکمراں وہ ہیں جنہیں تم ناپسند کرو اور وہ تمہیں ناپسند کريں، تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں۔
  16. ہم اپنے بادشاہوں کے پاس جاتے ہيں تو ان سے ايسی باتيں کرتے ہيں جو ان باتوں کے بر خلاف ہوتی ہيں جو ہم ان کے پاس سے باہر نکل کر کرتے ہیں۔ عبداللہ بن عمر ـ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم نبی ﷺ کے زمانے ميں اسے نفاق شمار کرتے تھے۔
  17. تم اللہ سے ڈرتے رہنا اور اپنے حکمرانوں کا حکم سننا اور ماننا۔ خواہ حکمراں ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ تم میرے بعد بہت زیادہ اختلاف دیکھو گے۔ لہذا تم میری سنت اور میرے نیک اور ہدایت یاب خلفاء کی سنت پر چلتے رہنا
  18. ”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور (امیر کی بات) سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام امیر بن جائے۔ (یاد رکھو!)تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ یقینا بہت اختلاف دیکھے گا۔ چنانچہ تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com